یہ قوم اپنے ہی ایسٹس کے وناش پہ ہے
وقت خرچ کرنا ہو یا وسائل ہر انسان کو ایک آپشن چننا پڑتا ہے۔اس انتخاب یا اختیار کا عمل شعوری ہو یا غیر شعوری ہر طے شدہ مصرف کی ایک منطقی توجیہ ہوتی ہے۔عام حالات میں انسان بہت زیادہ غور و فکر نہیں کرتا۔البتہ اگر ایسی صورت حال درپیش ہو جس میں وقت یا وسائل کم پڑجائیں تو ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ترجیح کا یہ پروسیس اہم،
ہر قسم کے استعمال کے بعد بھی اگر پانی بچ جاتا ہو تو بندہ بے فکر ہوکر خرچ کرتا ہے۔پانی کم ہو محدود ہو تو انسان پینے پکانے نہانے دھونے میں خرچ ہونے والے پانی کا اندازہ لگاتا ہے پھر اپنے تمام کاموں کو ایک ترتیب کے مطابق انجام دیتا ہے تاکہ ضروری کام پہلے ہو،
پانی سے کم نہیں ہیں ہمارے ائمہ اور اساتذہ۔وائرس کو روکنے کے لیے اکثر ملکوں سمیت ہمارے دیش میں جو لاک ڈاؤن کیا گیا اس کے زیر اثر ہونے والی بدحالی نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔رمضان میں سالانہ بجٹ کے زیادہ تر فنڈ کا کلیکشن ہوتا تھا۔وہ بھی اس بار نہ کے برابر ہوا۔یعنی دیگر معاملات کی طرح ان کا مستقبل بھی اندیشوں سے گھرا ہوا ہے۔
رمضان میں نیکی کرنے کا جذبہ تھا یا کیا تھا مسلم قوم نے اکثر مساجد یا دیگر اداروں کی طرف سے مسکینوں محتاجوں تک راشن پہنچانے کا فریضہ بڑی ذمہ داری سے ادا کیا۔اللہ رب العالمین سب کو دونوں جہان میں اچھا بدلہ دے۔آمین
دوسری طرف مسجدوں،
جن عمارتوں میں یہ سرگرمیاں چلتی تھیں وہ بند ہیں صرف ان کے مینٹیننس کا مسئلہ ہے لائٹ بل پانی بل صاف صفائی وغیرہ۔اتنا اہتمام رہے تو یہ عمارتیں ایک سال بعد بھی قابل استعمال رہیں گی۔مصلی اور متعلم سب اپنے اپنے گھروں پر ہیں،
ائمہ اور اساتذہ انہی اداروں میں کام کرکے اپنے ماتحتوں کی ہر ضرورت پوری کیا کرتے تھے۔اگر ان کی تنخواہ روک لی جائے،
سوال یہ بھی ہے کہ یہ رویہ تنخواہ روک لینے یا نہ دینے کا اور وہ جذبہ راشن بانٹنے کا دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے کیوں ہیں۔دونوں ایک ہی کمیونٹی کے اعمال ہیں۔مسجد،
عمارتیں دیکھ ریکھ کے سبب محفوظ ہیں،
پانی نہیں ہوگا تو کھانا گلے میں اٹک جائے گا۔یہ ائمہ اور اساتذہ مسجدوں اور مدرسوں کے لیے پانی ہیں۔انھیں استعمال کرنے میں احتیاط کرو۔یہ جو نیند میں وقت گزر رہا ہے یہ جب گزر جائے گا اور سوکر اٹھوگے تو اپنا ہاتھ بھی دھونے کے لیے پانی کی ضرورت پڑے گی جو نیند کی حالت میں تمھارے بدن کے پتہ نہیں کس کس ایریے میں پھرا ہوگا۔خود ہی سوچو پانی بنا پھر کیا کروگے؟ پیاس روک لوگے،





