جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

یہ قوم اپنے ہی ایسٹس کے وناش پہ ہے

تحریر: ابوالمیزان1 جون، 20201,344قارئین3 تبصرےمطالعے کا وقت: ۵ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

یہ قوم اپنے ہی ایسٹس کے وناش پہ ہے

وقت خرچ کرنا‌ ہو یا وسائل ہر انسان کو ایک آپشن چننا پڑتا ہے۔اس انتخاب یا اختیار کا عمل شعوری ہو یا غیر شعوری ہر طے شدہ مصرف کی ایک منطقی توجیہ ہوتی ہے۔عام حالات میں انسان بہت زیادہ غور و فکر نہیں کرتا۔البتہ اگر ایسی صورت حال درپیش ہو جس میں وقت یا وسائل کم پڑجائیں تو ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ترجیح کا یہ پروسیس اہم،کم اہم یا غیر اہم جیسی درجہ بندیوں کا محتاج ہوتا ہے۔

ہر قسم کے استعمال کے بعد بھی اگر پانی بچ جاتا ہو تو بندہ بے فکر ہوکر خرچ کرتا ہے۔پانی کم ہو محدود ہو تو انسان پینے پکانے نہانے دھونے میں خرچ ہونے والے پانی کا اندازہ لگاتا ہے پھر اپنے تمام کاموں کو ایک ترتیب کے مطابق انجام دیتا ہے تاکہ ضروری کام پہلے ہو،جو کام چھوٹ جائے اس سے بہت زیادہ فرق نہ پڑے،زندگی نہ رکے۔پانی صرف پیاس ہی نہیں بجھاتا زندہ بھی رکھتا ہے۔بھوک مٹانے میں بھی پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔انسان کا بدن اوور ہیٹ ہوتا ہے تو کبھی کبھار مشین کا کوئی پرزہ کام کرنا بند بھی کردیتا ہے،اس سے باڈی کی فنکشنگ ہی نہیں رکتی کبھی کبھی مشین ہی کام کرنا بند کردیتی ہے۔ایرر عارضہ ہے اور ڈس ایبلٹی موت۔پانی یہاں بھی بہت کام آتا ہے ہیومن باڈی کو اوور ہیٹنگ سے بچاتا ہے۔پانی باڈی کو کور کرنے والی چیزوں کو ہی فریش نہیں رکھتا اندر باہر سے باڈی کی بھی ریفریشنگ کرتا رہتا ہے۔یعنی پانی بنا زندگی ہی نہیں۔

پانی سے کم نہیں ہیں ہمارے ائمہ اور اساتذہ۔وائرس کو روکنے کے لیے اکثر ملکوں سمیت ہمارے دیش میں جو لاک ڈاؤن کیا گیا اس کے زیر اثر ہونے والی بدحالی نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔رمضان میں سالانہ بجٹ کے زیادہ تر فنڈ کا کلیکشن ہوتا تھا۔وہ بھی اس بار نہ کے برابر ہوا۔یعنی دیگر معاملات کی طرح ان کا مستقبل بھی اندیشوں سے گھرا ہوا ہے۔

رمضان میں نیکی کرنے کا جذبہ تھا یا کیا تھا مسلم قوم نے اکثر مساجد یا دیگر اداروں کی طرف سے مسکینوں محتاجوں تک راشن پہنچانے کا فریضہ بڑی ذمہ داری سے ادا کیا۔اللہ رب العالمین سب کو دونوں جہان میں اچھا بدلہ دے۔آمین

دوسری طرف مسجدوں،مکتبوں اور مدرسوں میں امامت،خطابت اور تدریس کا کام کرنے والے کئی افراد اپنی تنخواہوں کے انتظار میں ہیں۔کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کی تنخواہ لاک ڈاؤن سے پہلے کی ہے رکی ہوئی ہے۔حالانکہ انہی اداروں کی آمدنی اور خرچ کا حساب جاننے والوں کا کہنا ہے کہ اگلے ایک سال تک بنا کلیکشن تمام اسٹاف کو پوری تنخواہ دی جاسکتی ہے۔

جن عمارتوں میں یہ سرگرمیاں چلتی تھیں وہ بند ہیں صرف ان کے مینٹیننس کا مسئلہ ہے لائٹ بل پانی بل صاف صفائی وغیرہ۔اتنا اہتمام رہے تو یہ عمارتیں ایک سال بعد بھی قابل استعمال رہیں گی۔مصلی اور متعلم سب اپنے اپنے گھروں پر ہیں،سب کا اپنا اپنا زندہ رہنے کا انتظام ہوچکا ہے یا ہورہا ہے یا کیا جارہا ہے۔یعنی عمارتیں اور وہاں حاضری دینے والے افراد اپنے سرپرستوں کی دیکھ ریکھ میں ہیں۔لیکن ائمہ اور اساتذہ....

ائمہ اور اساتذہ انہی اداروں میں کام کرکے اپنے ماتحتوں کی ہر ضرورت پوری کیا کرتے تھے۔اگر ان کی تنخواہ روک لی جائے،لاک ڈاؤن کی وجہ سے نئے کلیکشن نہ ہونے کی وجہ سے اگر ان ائمہ اور اساتذہ کو تنخواہ نہ دی جائے تو سوال یہی نہیں ہے کہ ان کا گھر کیسے چلے گا؟

سوال یہ بھی ہے کہ یہ رویہ تنخواہ روک لینے یا نہ دینے کا اور وہ جذبہ راشن بانٹنے کا دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے کیوں ہیں۔دونوں ایک ہی کمیونٹی کے اعمال‌ ہیں۔مسجد،مکتب اور مدرسے کے ذمہ داروں کے کھاتے میں دونوں ہی متضاد رویے درج‌ کیے گئے ہیں۔

عمارتیں دیکھ ریکھ کے سبب محفوظ ہیں،مصلی اور طلبہ اپنے اپنے گھروں میں سلامت ہیں مگر یہ ائمہ اور اساتذہ،ان کا حال تباہ ہے۔ان کے زندہ رہنے کا مسئلہ بڑا نہیں ہے ان کے کمٹمنٹ کا مسئلہ بڑا ہے۔اپنے حالیہ پیشے پر باقی رہنے کا مسئلہ بڑا ہے۔اگر ان کی امامت،خطابت اور تدریس موجودہ کرائسس میں ان کو چھوڑ دیتی ہے اور پھر اپنے سروائیول کی یہ کوئی نئی راہ چن‌ لیتے ہیں تو جب لاک ڈاؤن کھلے گا،یہ مسجدیں مدرسے پھر سے آباد ہوں گے تو انھیں واپس کون لائے گا کس منہ سے لائے گا۔

پانی نہیں ہوگا تو کھانا گلے میں اٹک جائے گا۔یہ ائمہ اور اساتذہ مسجدوں اور مدرسوں کے لیے پانی ہیں۔انھیں استعمال‌ کرنے‌ میں احتیاط کرو۔یہ جو نیند میں وقت گزر رہا ہے یہ جب گزر جائے گا اور سوکر اٹھوگے تو اپنا ہاتھ بھی دھونے کے لیے پانی کی ضرورت پڑے گی جو نیند کی حالت میں تمھارے بدن کے پتہ نہیں کس کس ایریے میں پھرا ہوگا۔خود ہی سوچو پانی بنا پھر کیا کروگے؟ پیاس روک لوگے،بھوک روک لوگے،کیا کیا روک لوگے؟ پانی بنا کیسے جیوگے؟

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (3)

ع
عبدالمتين
4 جون، 2020
بہت أہم باتیں ہیں. موجودہ حالات میں سب سے زیادہ جو طبقہ متأثر ہوا ہے وہ ان اساتذہ کا طبقہ ہے جس کی آمدنی کا انحصار الله پاک کی توفیق کے بعد مکمّل طور پر تنخواہ پر تھا. یہ اساتذہ نہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے اور نہ ہی ہماری قوم میں اتنی سمجھ ہے کی انکی ضرورت سمجھ سکے. سب نفسی نفسی کے عالم میں ہیں. مسلم قوم کےایک فرد کی حيثيت سے ہماری ذمّہ داری ہے کی ہم میں سے ہر فرد اپنے اپنے گاؤں کی مسجد اور مدرسے کی ضروريات کو پورا کرنے کی کوشش کرے. اس سال چندہ نہ ہونے کی وجہ سے مدارس مزید پریشانیوں کا شکار ہیں. ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کی ہم میں سے ہر فرد سال رواں میں اپنے اور اپنے اہل خانه کو گاؤں کے مدرسے کا طالب علم سمجھتے ہوئے ماہانہ فیس ادا کرے. هم میں سے اکثر لوگوں نے ماضی میں غربت کی وجہ سی بغير فیس ادا کئے ہی تعلیم حاصل کی ہوگی. آج اگر الله نے نوازا ہے تو آج یہ قرض مدرسہ کو واپس کرنے کی ضرورت ہے. هرفرد خود كو گاؤں کی مسجد میں جمعه کے دن حاضر تصور کرتے ہے چندہ دے. ہر گاؤں کے تمام افراد جو ملک و بیرون ملک سیکڑوں کی تعداد میں ہیں اگر سب کے سب اس حكمت عملی کو اپنائيں تو مدارس ومساجد جو امت مسلمه كا لائف لائن ہیں ان كو الله پاک کی توفیق سے بچایا جا سکتا ہے. مدارس ومساجد کی سلامتی ہی میں مسلم قوم کی سلامتی ہے.الله هم سب کو توفیق بخشے . آمين.
ع
عثمان غنی
3 جون، 2020
اللہ آپ کی اس تحریر کے ذریعے سے مسلمانوں کے اندر موجود اس بے حسی کو دور فرمائے، امت کی اصلاح فرمائے آپ کے قلم کو مزید طاقت بخشے
ا
ابو تحسين خان
1 جون، 2020
ہیٹس آف ٹو یو ابوالمیزان سر! لفظ لفظ آئینہ ہے! پانی ہے تو لائف ہے! پانی جس طرح بدن کو ایکٹیو رکھتا ہے یہ دین کے غازی اسی طرح ہماری روح کو تازگی پہنچاتے ہیں! سماج دونوں کے بغیر ہرگز ہرگز نہیں جی سکتا! کاش کہ ذمہ داران مساجد ومدارس ہوش کے ناخن لیتے! کاش کہ بہی خواہان مدارس اس طرف اپنی بھرپور توجہ مبذول فرماتے! لعلهم يفقهون! لعلهم يرجعون! لعلهم يعلمون!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وفا

کوئی حسن ظن انتہائی خوشگوار حقیقت میں تبدیل ہوجائے تو صرف حیرت ہی نہیں ہوتی، بڑی مسرت بھی ہوتی ہے۔ وہ گھڑی بھی ایسی تھی کہ آنسو چھلک پڑے، خوشی کے آنسو۔حقیقت کے مشاہدے میں ذرا سا وقت گزرا تھا کہ اس کوالٹی کی تصدیق بھی ہوگئی جس کے بغیر کوئی تعلق نہیں سنبھلتا۔ پیچھے […]

منظر نما
1,51826 جنوری، 2025
یہ قوم اپنے ہی ایسٹس کے وناش پہ ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر