لکھنؤ کی سرزمین علم وادب اور فن و حکمت کے لحاظ سے ہمیشہ سے زر خیز رہی ہے۔اس خطے کو مختلف ادبا و شعرا کے ساتھ ساتھ علما ودعاۃ کی خدمات بھی نصیب رہی ہیں۔دوسری طرف اپنی قدیم تہذیب اورجدا گانہ ثقافت کے ساتھ ہندوستان میں اس کی ایک منفرد شناخت ہے۔بے شک مرور ایام نے اس سے بہت ساری چیزیں چھین لی اور اس کے سابقہ حسن پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی مگر آج بھی اپنے رکھ رکھاؤ اور نفاست نیز علم و ادب کے حوالے سے یکتائے روزگار ہے۔سرزمین لکھنؤ پر جنم لینے والی ممتاز ہستیوں میں ایک نام نامی مولانا ابوالحسنات عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔مولانا کی شخصیت اتنی ہمہ جہت وہمہ گیر ہے کہ ان مختصر صفحات میں ان کا احاطہ مشکل ہے۔بالخصوص آپ کی تالیفی و تصنیفی خدمات اور احقاق حق وابطال باطل کے لیے بے لوث مساعی کے ذکر کے لیے رجسٹر درکار ہے۔پھر بھی سطور ذیل میں ان کی حیات و خدمات کے کچھ گوشوں پر گفتگو کی جارہی ہے۔
نام ونسب:عبدالحئی بن عبدالحلیم بن امین اللہ بن محمد اکبر بن ابوالرحم بن محمدیعقوب بن عبدالعزیز بن محمدسعید بن شہید قطب الدین انصاری سہالوی لکھنؤی۔[۱]
کنیت: ابوالحسنات
خاندان: مولانا عبدالحئی لکھنؤی رحمہ اللہ کاخاندان علم وفضل اورزہدوتقویٰ میں معروف ومشہورتھا،
ولادت: آپ کی ولادت ۲۶؍ذوالقعدہ ۱۲۶۴ھ بروزمنگل باندہ شہرمیں ہوئی۔[۳]
نشوونما اورتحصیل علم: علامہ لکھنؤی رحمہ اللہ اپنی ابتدائی تعلیم کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’میں نے پانچ سال کی عمر میں حافظ قاسم علی لکھنؤی کے پاس حفظ قرآن کی ابتدا کی۔لیکن ابھی جزء ’’عم یتساء لون‘‘ مکمل نہ ہوا تھا کہ میرے والد مجھے اوروالدہ کوساتھ لے کرجون پورآگئے،
آگے کی تعلیم کے بارے میں مولانا اپنی دیگر تصنیف ’’النافع الکبیر‘‘ میں ذکرکرتے ہیں کہ گیارہ سال کی عمر میں تحصیل علوم کی شروعات کی اور سترہ سال کی عمرمیں صرف،
علامہ موصوف ۱۲۷۷ھ میں اپنے والد کے ساتھ حیدرآباد کے لیے عازم سفرہوئے اوردوسال تک دکن ہی میں سکونت پذیررہے۔۱۲۷۹ھ میں والد کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے،
علالت ووفات: ۱۳۰۳ھ کے وسط میں مولانا پربیہوشی کے دورے پڑنے شروع ہوئے اور یہ دورے برابر بڑھتے رہے یہاں تک کہ سوموارکی شب بتاریخ ۳۰؍ربیع الاول ۱۳۰۴ھ میں آخری دورہ پڑا اورآپ کی روح قفس عنصری سے پروازکرگئی۔إناللہ وإناإلیہ راجعون۔[۷]
تین مرتبہ آپ کی نمازجنازہ ادا کی گئی۔پہلی دفعہ مولوی محمدعبدالرزاق انصاری،
آپ کی وفات حسرت آیات پرعبدالعلی مدراسی نے یہ اشعارکہے:
مات عبدالحي لکن لم یمت فیضانہ
إذا مات المسمٰی واسمہ لا یموت
إنہ أحیا علوم الدین في الدنیا لنا
إن في العقبیٰ لہ جنات عدن لاتفوت
لم یزل في طول عمر خادما فن الحدیث
بل لہ یوماولیلا في کتاب اللہ قوت[۹]
اولاد: مولانا کی تمام اولاد آپ کی زندگی ہی میں وفات پاگئی،
اساتذہ: آپ کے اساتذہ میں علامہ محمد عبد الحلیم بن محمد امین (مولانا کے والد)،
تلامذہ: ڈاکٹر ولی الدین ندوی نے آپ کے ۳۲ تلامذہ کا تفصیلی ذکر کیا ہے جن میں سے چند خاص شاگردان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ادریس بن عبد العلی حنفی
۲۔ظہیر احسن بن سبحان علی نیموی عظیم آبادی
۳۔حمید الدین فراہی
۴۔وحید الزماں حیدرآبادی( نواب جنگ بہادر)
۵۔عثمان بن اشرف علی حنفی [۱۲]
تالیفات: مولانا نے مختلف علوم وفنون میں تقریباً ۱۱۲ کتابیں تصنیف فرمائیں،
توفیق باندازہ ہمت ہے ازل سے
ڈاکٹر ولی الدین ندوی نے’’ حسرۃ الفحول‘‘ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ جب آپ کے والد مولانا عبد الحلیم نے آپ کا نام عبد الحئی تجویز کیا تو کسی نے کہا کہ مولانا! آپ نے اپنے نام (عبد الحلیم) سے حرف نفی حذف کر دیا ہے۔چنانچہ یہ ایک نیک فال ہوگیا تاکہ اس کے طفیل اس لڑکے کی عمر دراز ہو اور یہ نیک وصالح بنے۔[۱۳]
احادیث شریفہ میں مختلف ومتنوع اعمال کو درازئ عمر کا سبب بتایا گیا ہے،
اس امر کو پیش نظر رکھتے ہوئے مولانا عبد الحئی لکھنوی علیہ الرحمہ کے کارناموں کی طویل فہرست پر نظر ڈالی جائے تو بخوبی اس کا انطباق آپ کی ذات پر ہوتا نظر آتا ہے۔۳۹؍ سال کی مختصر ترین مدت میں آپ نے دنیا کے سامنے جو علمی خدمات پیش کیں اور مختلف موضوعات کو اپنے دامن قلم میں سمیٹا وہ آپ کی صلاحیتوں کا جیتا جاگتا مظہر اور توفیق الٰہی کی منہ بولتی تصویر ہے
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
مولانا علیہ الرحمہ اصول وفروع میں حنفی المسلک تھے لیکن تقلیدی جمود چھو کر بھی نہیں گزرا،
’’ مولانا اصول وفروع میں امام ابو حنیفہ کے مذہب پر قائم تھے لیکن مسلکاً متعصب نہ تھے،
’’ الفوائد البھیة‘‘ میں عصام بن یوسف کے ترجمے میں لکھتے ہیں:’’ یہ بات جان لی جائے کہ اگر ایک حنفی مسئلے میں قوت دلیل کے سبب اپنے امام کے مسلک کوترک کردیتا ہے تواس کے سبب وہ دائرہ تقلید سے خارج نہیں ہوگا،
مولانا لکھنؤی نے مختلف علوم وفنون میں جوکتابیں تصنیف فرمائی ہیں ان کا اجمالی خاکہ درج ذیل ہے:
۱۔عقائد ۴
۲۔حدیث ۸
۳۔اصول فقہ ۱
۴۔فقہ ۵
۵۔فرائض ۱
۶۔رقائق ۱
۷۔تاریخ وتراجم ۱۶
۸۔سیرت وانفرادی تراجم ۲
۹۔موالیدوفیات ۳
۱۰۔منطق وحکمت ۲۵
۱۱۔علم مناظرہ ۲
۱۲۔نحو ۲
۱۳۔صرف ۵ [۱۵]
مولانا کی چند اہم تصانیف کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔تکملة المیزان
۲۔حاشیة علی شرح تھذیب المنطق لعبداللہ الیزدي
۳۔مقدمة السعایة
۴۔إبراز الغي فی شفاء العي
۵۔عمدۃ الرعایة بشرح الوقایة
۶۔الآثار المرفوعة في الأحادیث الموضوعة
۷۔الرفع والتکمیل في الجرح والتعدیل
۸۔الفوائد البهیة في تراجم الحنفیة
۹۔القول الأشرف في الفتح عن المصحف
۱۰۔ردع الإخوان عن محدثات آخر جمعة رمضان [۱۶]
مولانا لکھنؤی: علما کی نظر میں
۱۔نواب صدیق حسن خان: نواب صاحب کے صاحبزادے علی حسن خان کہتے ہیں: ’’ جب والد صاحب کوعلامہ عبدالحئی بن عبدالعلیم لکھنؤی کی وفات کی خبر موصول ہوئی تووالد صاحب نے اپنا ہاتھ پیشانی پررکھا اورکچھ دیر تک سر کوجھکائے رکھا،
واضح رہے کہ نواب صاحب علیہ الرحمہ اور مولانا لکھنوی رحمہ اللہ علیہ کے درمیان عرصے سے مناقشہ ومباحثہ چلا آرہا تھا اور ایک دوسرے سے علمی مناظرہ زوروں پر تھا،
۲۔شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی: میاں صاحب نے ایک جم غفیر کے سامنے مولانا لکھنوی کو مخاطب کرکے فرمایا تھا:’’ آپ نابغہ روزگار اور یکتائےعہد ہیں،
۳۔مولانا محمد یوسف بنوری:’’ آپ کا تعلق ان ربانی علما سے ہے جنھوں نے روایت ودرایت کے منقول ومعقول علوم کو ورع وتقویٰ،
۴۔مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی: مولانا علی میاں ندوی نے انھیں ’’ علامة الھند‘‘ اور’’ فخر المتاخرین‘‘ کا لقب دیا ہے۔[۲۱]
خلاصہ یہ کہ مولانا ابو الحسنات عبد الحئی لکھنوی علیہ الرحمہ کی شخصیت کثیر الجہات اور متنوع الاوصاف تھی،
حنفی المسلک ہونے کے باوجود تقلیدی روش سے ہٹ کر تحقیقی رائے اختیار کرنے کے سبب آپ کی تحریروں کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور لوگوں کے درمیان پھیلی ہوئی مختلف بدعات وخرافات کے لیے سم قاتل بن گئیں۔اللہ رب العزت نے ۳۹؍ سال کی عمر میں مولانا کے ذریعے جو خدمات لیں وہ قابل رشک ہیں۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا کی ان خدمات کو ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنا دے،
حواشی
[۱] نزھة الخواطر از مولانا عبدالحئی حسنی،
[۲] ملاحظہ ہو: الإمام عبدالحیی اللکنوئی از ڈاکٹر ولی الدین ندوی،
[۳] نزھة الخواطر:۸؍۲۳۴
[۴] مقدمة ’’السعایة‘‘ از مولانا عبدالحئی لکھنوی،
[۵] النافع الکبیراز مولانا عبدالحئی لکھنوئی،
[٦] ملاحظہ ہو: نزہة الخواطر: ۷؍۲۵۴،
[۷] الإمام عبدالحیی اللکنوئی،
[۸] ملاحظہ ہو: کنز البرکات از محمد عبدالحفیظ بندوی،
[۹] الإمام عبدالحئی اللکنوئی،
[۱۰] حوالہ سابق،
[۱۱] نزھة الخواطر: ۸؍۲۳۴
[۱۲] الإمام عبدالحئی اللکنوی،
[۱۳] ایضا،
[۱۴] نزھة الخواطر:۸؍۲۵۲۔۲۵۳
[۱۵] الإمام عبدالحئی اللکنوی،
[۱٦] نزھة الخواطر:۸؍۲۵۳۔۲۵۵
[۱۷] ایضا،
[۱۸] ایضا،
[۱۹] کنزالبرکات،
[۲۰] مقدمۃ البنوری علی ’’السعایة فی کشف ما فی شرح الوقایة‘‘ از مولانا عبدالحئی لکھنوئی،
[۲۱] معجم المؤلفین از عمر رضا کحالة،





