جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

انسان نما مکھی

تحریر: محمد مظہر الاعظمی6 جون، 20201,727قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے اور بے عیب بھی،انبیاء اور اس کے رسول کا معصوم ہونا مسلم ہے۔مگر عام انسان نہ بے عیب ہے اور نہ ہی معصوم،خطا و نسیان اس کی ترکیب اور تخلیق میں ہے۔البتہ یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگ بہت ہی محتاط زندگی گزارتے ہیں پھر بھی غلطی اور لغزش ان سے بھی ہوتی ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ احتیاط نام کی کوئی چیز ان کی زندگی میں نہیں ہوتی۔ان تمام حقائق کے باوجود جب چند افراد اکٹھا ہوتے ہیں اور مختلف موضوعات پر بحث کرتے ہوئے کسی ذات کو نشانہ بناتے ہیں تو ہر شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی بخیہ ادھیڑ دی جائے اور اسے سر عام ننگا کردیا جائے۔اور پھر موضوع بحث اس کی ذات ہی نہیں رہتی بلکہ باپ،دادا،پورا خاندان،ماں،نانا اور نانیہال،جو زندہ ہیں ان کا ایک ایک تار اتار کر ننگا کردیا جاتا ہے اور جو مر گئے ہیں ان کا کفن اتار کر ان کی عزت سر عام نیلام کی جاتی ہے۔ایسا معلوم ہوگا کہ موضوع بحث شخص اور اس کی خاندان ونانیہال میں کوئی اچھائی تھی ہی نہیں بلکہ تمام خوبیوں،اچھائیوں اور کمالات کے حامل یہی لوگ ہیں۔

حالانکہ معاملہ ایسا نہیں ہوتا عام طور پر دوسروں کو ننگا کرنے والے بذات خود پورے سماج میں ننگے ہوتے ہیں۔دوسروں کو ننگا کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب ہم ننگے ہوجائیں تو کوئی بھی شخص انگلی نہیں اٹھائے گا،ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن نے کہا: "أ يحب أحدكم أن يأكل لحم أخيه ميتا فكرهتموه" (الحجرات: 12)

کیا تم میں سے کوئی بھی مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے،تم کو اس سے گھن آئے گی۔

ایسا نہیں ہے کہ ایک شخص کے اندر صرف خرابیاں ہی ہوتی ہیں،جس پر نازیبا اور غیر سنجیدہ تبصرہ کرکے ننگا اور رسوا کرنا چاہتے ہیں اس کے اندر بھی کچھ نہ کچھ اچھائیاں ہوتی ہیں اور ایسا بھی نہیں ہے کہ جولوگ تبصرہ کرتے ہیں اور عیب ڈھونڈتے ہیں وہ سراپا صدق وصفا ہوتے ہیں،مگر ان کو اپنی خامیاں نظر نہیں آتیں:

اے دوسروں کو سر بزم اچھالنے والو

خود اپنی ذات کا پہلے محاسبہ تو کرو

جو لوگ کسی شخص کی اچھائیوں اور خوبیوں کو چھوڑ کر صرف عیب تلاش کرتے ہیں ان کی مثال مکھی کی طرح ہے جو انسان کا پورا خوبصورت جسم چھوڑ کر صرف وہاں بیٹھتی ہے جہاں پھوڑے کی وجہ سے صرف گندگی،پیپ اور مواد ہے،کیوں کہ اس کی طبیعت اور مزاج کا تقاضہ یہی ہے۔بالکل اسی طرح جو لوگ گندی طبیعت کے ہوتے ہیں وہ طبیعت سے مجبور ہوکر مردہ بھائی کا گوشت ہی کھانا پسند کرتے ہیں،اسے اپنے بھائی کی خوبیاں نظر نہیں آتیں۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

ع
عبدالمتين
7 جون، 2020
ما شاء الله بہت خوب. ايك بہت اہم موضوع پر بہت مختصر اور دل كو چھوتی ہوئی تحریر. بارك الله فيكم.

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

انسان نما مکھی - دی فری لانسر | دی فری لانسر