حاملہ اور مرضعہ کے روزہ کی قضا کے تعلق سے میں نے تین قسطوں میں ایک مضمون لکھا تھا جس پر کچھ لوگوں کی طرف سے بعض اعتراضات کیے گئے ہیں۔ظاہر ہے کہ ہر کسی کا ہر دلیل سے مطمئن ہونا ضروری نہیں ہے اور دلیل کی روشنی میں ہر کسی کو مخالفت کا پورا حق ہے۔کیونکہ یہ ایک دینی مسئلہ ہے،
مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ بعض فاضل اور انتہائی محترم حضرات کی طرف سے میرے مضمون کا علمی تعاقب کیا گیا۔مجھے پورا حسن ظن ہے کہ انھوں نے یہ کام حق کے دفاع اور صحیح و راجح کو واضح کرنے کے لیے کیا ہے اور انھوں نے اپنے تئیں پوری دیانتداری اور ذمہ داری کے ساتھ دلائل کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔اس کے لیے میں تہ دل سے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔لیکن ظاہر ہے کہ ان کی تمام آراء سے میرا متفق ہونا ضرروی نہیں ہے۔ویسے میری کوشش یہی تھی کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے بحث ومباحثے سے مکمل احتراز کروں کیونکہ عمومی طور پر عام قاری اس سے تشویش کا شکار ہوتا ہے اور پھر معاملہ اور زیادہ مبہم اور غیر واضح ہو جاتا ہے جیسا کہ سابقہ تجربہ بتاتا ہے۔لیکن چونکہ میرے دلائل کا جواب سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے دیا گیا ہے اس لیے اب میری مجبوری ہے کہ میں بھی اپنی ملحوظات کو سوشل میڈیا پر رکھوں۔
پہلا مسئلہ:
کیا حاملہ اور مرضعہ کو روزہ سے معمولی مشقت ہو تو وہ روزہ ترک کرسکتی ہیں یا پھر اگر روزہ سے مشقت شدید ہو یا ضرر ہو اور بدرجہ اولی اگر جان کا خطرہ ہو تو وہ روزہ ترک کرسکتی ہیں؟
میں نے ائمہ سلف وخلف کے اقوال کی روشنی میں دوسرے موقف کو رکھا تھا،
جبکہ بعض حضرات کا دعوی ہے کہ معمولی پریشانی کی بنیاد پر بھی حاملہ اور مرضعہ کو روزہ ترک کرنے کی رخصت ہے۔
اس موقف کی تائید کے لیے جن دلائل کو پیش کیا گیا ہے ان کا جائزہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
1- پہلی دلیل: قال ابن عبد البر: "وأما الذين كانوا يقرؤون (عَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ) فَهَذِهِ القراءة رويت عن ابن عَبَّاسٍ مِنْ طُرُقٍ،
ابن عبد البر کی اس عبارت کا مقصود میں آگے ان شاء اللہ پیش کروں گا،
"أَنَّ الْآيَةَ مَحْكَمَةٌ فِي الشَّيْخِ وَالْعَجُوزِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الَّذِينَ يُكَلَّفُونَ الصِّيَامَ وَلَا يُطِيقُونَهُ"۔
اس جملہ سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جنھیں روزہ رکھنے میں پریشانی نہ ہوتی ہو،
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس جملہ سے یہ استدلال درست ہے؟ کیا اس جملہ کا یہی مفہوم ہے؟ اور کیا اس مفہوم کو نص قرآنی،
واضح ہو کہ (الَّذِينَ يُكَلَّفُونَ الصِّيَامَ وَلَا يُطِيقُونَهُ) ایک ہی جملہ ہے اس لیے سب سے پہلے اس جملہ کے مفردات پر غور کرتے ہیں پھر پورے جملہ کا مفہوم جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
• پہلا کلمہ ہے: (يُكَلَّفُونَ)
مشہور تابعی مجاہد نے آیت کریمہ (سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) کی تفسیر (سيكلّفون) سے کی ہے۔
اس قول کو ذکر کرنے کے بعد امام رازی فرماتے ہیں: ونظيره ما روي عن ابن عباس أنه كان يقرأ وعلى الذين يطوقونه فدية [البقرة: 184]،
اسی طرح ضحاک (عامِلَةٌ ناصِبَةٌ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: يُكَلَّفُونَ ارْتِقَاءَ جَبَلٍ مِنْ حَدِيدٍ فِي النَّارِ (تفسير البغوي:5/ 245)
ان دونوں قول میں لفظ (يُكَلَّفُونَ) کا استعمال شدید مشقت یا نا قابل برداشت امر کے لیے کیا گیا ہے۔
اس کلمہ کا ایک معنی (يتجشمون) کے بھی آتا ہے،
اس کے معنی میں بھی سخت مشقت کا معنی پایا جاتا ہے:
مشہور مفسر ونحوی ابن حیان فرماتے ہیں:
الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ (المراد: الشيخ الهرم،
• اس میں دوسرا کلمہ ہے: (ولا يطيقونه)
ابن منظور فرماتے ہیں: والطَّوْقُ الطاقةُ أَي: أَقصى غَايَتِهِ،
اس میں طاقت کی تعریف میں تین الفاظ استعمال کیے گئے ہیں: أقصى/ غاية/ مايمكن
یہ تنیوں الفاظ انسان کی طاقت کی انتہا کو بتلانے کے لیے ہیں۔چنانچہ (أقصى غايته) سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے بعد طاقت نہیں ہے۔اور یہ کسی کام کو ممکنہ حد تک پرمشقت انداز میں انجام دینے کو کہتے ہیں۔
• مشہور مفسر ولغوی ابن عاشور فرماتے ہیں:
وَالْمُطِيقُ هُوَ الَّذِي أَطَاقَ الْفِعْلَ أَيْ كَانَ فِي طَوْقِهِ أَنْ يَفْعَلَهُ،
طاقت عجز سے قریب ترین مرحلہ کو کہتے ہیں،
• امام رازی فرماتے ہیں:
أَمَّا الطَّاقَةُ فَهُوَ اسْمٌ لِمَنْ كَانَ قَادِرًا عَلَى الشَّيْءِ مَعَ الشِّدَّةِ وَالْمَشَقَّةِ فَقَوْلُهُ: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ أَيْ وَعَلَى الَّذِينَ يَقْدِرُونَ عَلَى الصَّوْمِ مَعَ الشِّدَّةِ وَالْمَشَقَّةِ۔(تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير:5/ 248)َ
یعنی طاقت،
ان مفردات کو جاننے کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ مفسرین اور فقہاء نے اس جملہ کا کیا مفہوم بیان کیا ہے؟
چنانچہ ابن عبد البر خود اس عبارت کو ذکر کرنے کے بعد اس کا معنی یہ بیان کرتے ہیں:
(ومعنى (يطيقونه) عند جميعهم يكلفونه،
"(يطيقونه) کا معنی ان سب کے نزدیک (يكلفونه) ہے،
اور بعض لوگ اس کا یہ معنی لیتے ہیں: انھیں روزہ رکھنے میں اس قدر کلفت اور مشقت ہوتی ہو کہ وہ روزہ کی نیت کے وقت اس کی طاقت ہی نہیں رکھتے ہوں"۔
اس عبارت سے ایک صفحہ پہلے وہ بیان کرتے ہیں:
وهي محكمة عند بعضهم فقالوا كل من طاف (أطاق) الصوم فلا مشقة تضر به فالصوم واجب عليه وكل من لم يطق الصوم إلا بجهد ومشقة مضرة به فله أن يفطر ويفتدي لقول الله-عز وجل-(يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر) البقرة 185
"یہ آیت محکم ہے بعض کے نزدیک،
ابن عبد البر نے اپنے دونوں عبارت میں مشقت کو بتانے کے لیے تین کلمہ کا استعمال کیا ہے:
جهد،
جهد کا معنی ابن الاثیر فرماتے ہیں: قَدْ تَكَرَّرَ لَفْظُ الجَهْد والجُهْد فِي الْحَدِيثِ،
یعنی جہد (بالفتح) میں مشقت یا اس کی انتہا کا معنی پایا جاتا ہے اور بطور مترادف اس کے ساتھ مشقت لایا گیا ہے جس کا ایک فائدہ تاکید ہے اور اس کی صفت مضرت لائی گئی ہے۔یعنی ضرر رساں مشقت وکلفت۔
اور یہی معنی مفسرین اور شارحین حدیث نے بھی بیان کیا ہے:
• قرطبی فرماتے ہیں:
"وأجمعوا على أن المشايخ والعجائز الذين لا يطيقون الصيام أو يطيقونه على مشقة شديدة أن يفطروا"۔(تفسير القرطبي:2/ 289)
• قسطلانی فرماتے ہیں:
"إنها ليست بمنسوخة وهي للشيخ الكبير والمرأة الكبيرة لا يستطيعان أن يصوما فليطعما مكان كل يوم مسكينًا. وهذا الحكم باق وهو حجة للشافعي ومن وافقه في أن من عجز عن الصوم لهرم أو زمانة أو اشتدت عليه مشقته سقط عنه الصوم لقوله تعالى: {وما جعل عليكم في الدين من حرج} [الحج: 78]"۔(إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:3/ 388)
• قاضی عیاض فرماتے ہیں:
وقال ابن عباس وغيره: نزلت فى الكبير والمريض لا يقدران على الصوم،
• ابن حجر فرماتے ہیں:
وأما على قراءة بن عباس فلا نسخ لأنه يجعل الفدية على من تكلّف الصوم وهو لا يقدر عليه فيفطر ويكفر،
• سندی فرماتے ہیں:
يطيقُونَهُ أَي يبلغون بِهِ غَايَة وسعهم وطاقتهم۔(حاشية السندي على سنن النسائي:4/ 191)
• عظیم آبادی فرماتے ہیں:
(كانت) هذه الآية وعلى الذين يطيقونه (رخصة) ثابتة باقية إلى الآن (للشيخ الكبير والمرأة الكبيرة وهما يطيقان الصيام) لكن مع شدة وتعب ومشقة عظيمة أو للشيخ الكبير والمرأة الكبيرة لا يطيقان الصيام (عون المعبود وحاشية ابن القيم:6/ 308)َ
• سہارنپوری فرماتے ہیں:
يُطوُّقونه: يكلفونه يعني: ولا يطيقونه ({فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ}،
ان تفصیلات کو جاننے کے بعد آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا اس جملہ سے یہ مسئلہ مستنبط کرنا درست ہے کہ معمولی مشقت کی بنیاد پر روزہ ترک کرنے کی رخصت ہے؟ یعنی جنھیں روزہ رکھنے میں پریشانی نہ ہوتی ہو،
علقمہ ومجاہد کے فتوی سے استدلال:
ابراہيم فرماتے ہیں: جاءت امرأة إلى علقمة،
عثمان بن الاسود فرماتے ہیں: سألت مجاهدا عن امرأتي وكانت حاملًا،
ان دونوں نص سے کچھ اس طرح استدلال کیا گیا ہے:
"یہ دونوں فتوے میرے ہی موقف کی تائید کرتے ہیں جیسا کہ شروع میں اسے بیان کیا گیا کہ حاملہ ومرضعہ پر اگر روزے کا کوئی اثر نہ ہو،
کیا ان دونوں فتوے سے یہ استنباط صحیح ہے؟
علقمہ کے فتوی میں (أطيق الصيام) کا لفظ آیا ہے۔
اوپر لفظ (الطاقة) کے سلسلے میں ابن منظور،
چنانچہ امام رازی فرماتے ہیں: إِنَّهُ لَا يُقَالُ فِي الْعُرْفِ لِلْقَادِرِ الْقَوِيِّ: إِنَّهُ يُطِيقُ هَذَا الْفِعْلَ لِأَنَّ هَذَا اللَّفْظَ لَا يُسْتَعْمَلُ إِلَّا فِي حَقِّ مَنْ يَقْدِرُ عَلَيْهِ مَعَ ضَرْبٍ مِنَ الْمَشَقَّةِ۔(تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير:5/ 248)
اسی طرح مجاہد کے فتوی میں (وشقّ عليها الصوم) کا لفظ ہے۔
شقّ عليه الصَّومُ: کا معنی معاجم اللغة العربية میں ہے: صعُبَ عليه تحمُّله،
اور (إِرْهَاقُ النَّفْسِ کا معنی اس میں ہے: حَمَّلَهَا مَا لَا تُطِيقُ بِعَمَلٍ زَائِدٍ زِدْتُ نَفْسِي إِرْهَاقاً)
گویا شق عليه الصوم کا معنی: روزہ کو برداشت کرنا مشکل اور انتہائی تکلیف دہ اور سخت ہو۔
شیخ ابن عثیمین نے مسافر کے لیے روزہ کے تین حالات بیان کیے ہیں،
الحال الثالثة: أن يشق عليه مشقة شديدة غير محتملة فهنا يكون الصوم في حقه حراماً۔
والدليل على ذلك أن النبي صلّى الله عليه وسلّم: «لما شكى إليه الناس أنه قد شق عليهم الصيام،
اس حدیث میں وارد: (قد شق عليهم الصيام) کو شیخ نے ناقابل برداشت سخت مشقت کے لیے بطور دلیل پیش کیا ہے۔
ایک اور مشہور حدیث ہے: لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي،
اور ظاہر ہے کہ اس حدیث میں بھی مقصود کوئی معمولی مشقت نہیں ہے،
خلاصہ یہ نکلا کہ ان دو آثار سے بھی یہ نہیں پتہ چلتا ہے کہ معمولی مشقت کی وجہ سے روزہ ترک کرنے کی رخصت ہے۔
حاملہ اور مرضعہ کے تعلق سے ابن عبد البر کے قول کے علاوہ یہ دو آثار پیش کیے گئے اور ان دلائل سے مذکورہ مسئلہ پر استدلال کرنا کس حد تک درست ہے وہ آپ نے دیکھ لیا۔
مریض پر قیاس کی حقیقت:
در اصل اگر فتوی کی بنیاد شریعت کے مقررہ اصول پر نہ رہے تو فتوی میں اضطراب اور شذوذ پیدا ہوتا ہے۔اب اس مسئلہ میں دیکھیں کہ جب حاملہ اور مرضعہ کو شیخ کبیر پر قیاس کرکے اس پر فدیہ کو واجب کہہ رہے ہیں تو پھر مریض پر قیاس کس بنیاد پر؟ اور اگر اس کو مریض مانتے ہیں (جو کہ حقیقت میں ہے) تو پھر اس پر مریض کی طرح قضا کیوں نہیں؟ اب اس تضاد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس طرح حاملہ اور مرضعہ کو مریض پر قیاس کرکے معمولی مرض کی بنیاد پر روزہ ترک کرنے اور فدیہ دینے کی اجازت حاصل ہونی چاہیے اسی طرح کسی بوڑھے کو بھی معمولی پریشانی سے ہی روزہ ترک کرنے اور فدیہ دینے کی اجازت ہونی چاہیے؟
اس تضاد کو ذہن نشین کرنے کے بعد اب اصل مسئلہ کو بھی دیکھیں کہ کیا واقعی کسی معمولی مرض کی بنیاد پر مریض کو روزہ ترک کرنے کی اجازت ہے؟
اس سلسلے میں ابن حجر کا ایک قول پیش کیا گیا:
"وَقَدِ اخْتَلَفَ السَّلَفُ فِي الْحَدِّ الَّذِي إِذَا وَجَدَهُ الْمُكَلَّفُ جَازَ لَهُ الْفِطْرُ وَالَّذِي عَلَيْهِ الْجُمْهُورُ أَنَّهُ الْمَرَضُ الَّذِي يُبِيحُ لَهُ التَّيَمُّمَ مَعَ وُجُودِ الْمَاءِ وَهُوَ مَا إِذَا خَافَ عَلَى نَفْسِهِ لَوْ تَمَادَى عَلَى الصَّوْمِ أَوْ عَلَى عُضْوٍ مِنْ أَعْضَائِهِ أَوْ زِيَادَةً فِي الْمَرَضِ الَّذِي بَدَأَ بِهِ أو تماديه, وَعَن ابن سِيرِينَ مَتَى حَصَلَ لِلْإِنْسَانِ حَالٌ يَسْتَحِقُّ بِهَا اسْمَ الْمَرَضِ فَلَهُ الْفِطْرُ, وَهُوَ نَحْوُ قَوْلِ عَطاء, وَعَن الْحسن وَالنَّخَعِيّ: إِذْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى الصَّلَاةِ قَائِمًا يُفْطِرُ"۔(فتح الباري:8/179)
ابن حجر کے اس قول سے استنباط:
((حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں سلف کے موقف کو بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ گرچہ بیماری سخت مشقت والی یا موت وحیات کا مسئلہ والی نہ ہو پھر بھی روزہ توڑنے کی سلف نے اجازت دی ہے،
شاید یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ سخت مشقت اور موت وحیات کا مسئلہ ایک ہی چیز ہے،
اس طرز استدلال سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ گویا جمہور نے بھی معمولی مرض میں روزہ ترک کرنے کی رخصت دی ہے اور گویا معمولی بیماری میں تیمم کرنا جائز ہے۔اور نفس پر خطرہ یا کسی عضو کے شل ہوجانے یا معطل ہوجانے یا بیماری میں اضافہ ہونے یا بڑھ جانے کا خدشہ ہو یا کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ پانا معمولی امراض کے اقسام میں سے ہیں۔
اور اگر یہ سب معمولی مشقت یا امراض میں سے ہیں تو پھر سخت مشقت اور ضرر اور نفس پر خطرہ کس کو کہیں گے؟
اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لیے اسلام سوال وجواب میں موجود اس فتوی کو دیکھیں:
ذهب أكثر العلماء ومنهم الأئمة الأربعة إلى أن المريض لا يجوز له أن يفطر في رمضان إلا إذا كان مرضه شديداً،
قال ابن قدامة رحمه الله في "المغني" (4/403):
وَالْمَرَضُ الْمُبِيحُ لِلْفِطْرِ هُوَ الشَّدِيدُ الَّذِي يَزِيدُ بِالصَّوْمِ أَوْ يُخْشَى تَبَاطُؤُ بُرْئِهِ
وذهب بعض العلماء إلى أنه يجوز الفطر لكل مريض وإن لم تحصل له مشقة بسب الصوم
وهو قول شاذ ردَّه جمهور العلماء
"اکثر علماء (جن میں ائمہ اربعہ بھی شامل ہیں) کا قول ہے کہ مرض شدید کی صورت میں ہی روزہ ترک کرنا جائز ہے اور سخت مرض کی یہ صورتیں ہیں:
روزہ کی وجہ سے مرض میں اضافہ ہو،
ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ جس مرض سے روزہ ترک کرنا جائز ہے وہ سخت مرض ہے جو روزہ سے بڑھنے یا شفا میں تاخیر ہونے کا خدشہ ہو۔
بعض علماء کی رائے ہے کہ ہر مریض کے لیے روزہ ترک کرنا جائز ہے گرچہ اس سے مشقت نہ ہوتی ہو،
• امام رازی فرماتے ہیں:
أَنَّ الْمَرَضَ الْمَذْكُورَ فِي الْآيَةِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ هُوَ الْمَرَضُ الذي يكون في الغاية،
امام رازی نے بھی اس قول کو بالاتفاق باطل کہا ہے اور بعض اہل علم کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں کیا ہے۔
امام شافعی کے قول پر شذوذ کا فتوی:
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَالْحَالُ الَّتِي يَتْرُكُ بِهَا الْكَبِيرُ الصَّوْمَ أَنْ يَكُونَ يُجْهِدُهُ الْجَهْدَ غَيْرَ الْمُحْتَمَلِ وَكَذَلِكَ الْمَرِيضُ وَالْحَامِلُ،
اس قول پر کچھ اس طرح کا تبصرہ کیا گیا:
"امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ فتوی بہت ہی سخت ہے۔اور اس طرح کی سختی کرنے میں وہ متفرد ہیں،
امام شافعی کے اس قول سے جو میں نے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ضرر یا مشقت آسانی سے برداشت کیا جاسکے تو روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے۔اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ برداشت ناممکن حد تک پہنچ جائے تب ہی رخصت ہے،
• امام شافعی خود ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
وَكُلُّ حَالٍ أَمَرْتُهُ فِيهَا أَنْ يُصَلِّيَ كَمَا يُطِيقُ فَإِذَا أَصَابَهَا بِبَعْضِ الْمَشَقَّةِ الْمُحْتَمَلَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ إلَّا كَمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ إذَا أَطَاقَ الْقِيَامَ بِبَعْضِ الْمَشَقَّةِ قَامَ فَأَتَى بِبَعْضِ مَا عَلَيْهِ فِي الْقِيَامِ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ وَأُحِبُّ أَنْ يَزِيدَ مَعَهَا شَيْئًا وَإِنَّمَا آمُرُهُ بِالْقُعُودِ إذَا كَانَتْ الْمَشَقَّةُ عَلَيْهِ غَيْرَ مُحْتَمَلَةٍ , أَوْ كَانَ لاَ يَقْدِرُ عَلَى الْقِيَامِ بِحَالٍ۔(الأم للشافعي: 2/ 178)
اس عبارت میں انھوں نے ناقابل برداشت مشقت اور عدم قدرت کے درمیان فرق کیا ہے،
• امام نووی کی اس عبارت سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے:
قال أصحابنا: شرط إباحة الفطر أن يلحقه بالصوم مشقة يشق احتمالها قالوا وهو على التفصيل السابق في باب التيمم قال أصحابنا: وأما المرض اليسير الذي لا يلحق به مشقة ظاهرة لم يجز له الفطر بلا خلاف عندنا خلافا لأهل الظاهر۔(المجموع شرح المهذب:4/ 486)
امام نووی فرماتے ہیں کہ شافعیہ کے نزدیک روزہ ترک کرنا اس وقت جائز ہے جب مشقت کو برداشت کرنا مشکل ہو۔۔۔۔پھر اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جہاں تک معمولی مرض کی بات ہے جس میں مشقت ہو واضح طور پر محسوس نہ ہو اس میں روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے۔
امام شافعی کے قول کا مطلب اگر اس سے مختلف ہوتا ہے تو تمام شافعیہ اپنے امام کی رائے کے خلاف کیسے متفق ہوجاتے؟
• شیخ ابو عمر الدبیان موسوعة أحكام الطهارة (12/ 130) میں فرماتے ہیں:
"العبادات مشتملة على مصالح المعاد،
اس قول میں بھی ناقابل برداشت مشقت ہی کی صورت میں رخصت پر عمل کرنے کو کہا ہے اور مشقت کے نام پر عبادت سے فرار اور حیلہ سازی سے منع کیا ہے۔
یقینا امام شافعی کے قول کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے۔
الفقه الميسر (3/ 52) کے مولفین لکھتے ہیں:
"ولا يتحول من الصيام إلى الإطعام عند الجمهور إلا إذا لم يقدر على الصيام لمانع صحيح،
اس میں قابل برداشت مشقت کی صورت میں کفارہ جماع میں مسلسل دو مہینے روزے سے اطعام کی طرف منتقل ہونے کو ناجائز کہا گیا ہے۔
ان تمام تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ امام شافعی کا اس مسئلہ میں وہی قول ہے جو دیگر اہل علم کا ہے،
• عز الدین بن عبد السلام فرماتے ہیں:
وَتَخْتَلِفُ الْمَشَاقُّ بِاخْتِلَافِ الْعِبَادَاتِ فِي اهْتِمَامِ الشَّرْعِ فَمَا اشْتَدَّ اهْتِمَامُهُ بِهِ شَرَطَ فِي تَخْفِيفِهِ الْمَشَاقَّ الشَّدِيدَةَ أَوْ الْعَامَّةَ،
"عبادات کی اہمیت اور عظمت کے اعتبار سے مشقت میں کمی وبیشی کا اعتبار کیا جائے گا،
اور ظاہر ہے کہ روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن اور عظیم الشان عبادت ہے جس کو اسلام نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔لہذا اس عظیم الشان عبادت میں معمولی مشقت کی بنیاد پر رخصت دینا غلط ہے۔
علامہ ابن القیم کےقول پر وارد اشکالات کا جائزہ:
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "أسباب الفطر أربعة: السفر والمرض والحيض والخوف على هلاك من يخشى عليه بصوم كالمرضع والحامل إذا خافتا على ولديهما"۔(بدائع الفوائد: 4/ 45)
اس قول کے تعلق سے یہ اشکالات پیش کیے گئے ہیں کہ اس میں سخت مشقت یا خوف علی النفس یا نفاس کا تذکرہ نہیں ہے،
اس کا جواب یہ ہے کہ خوف علی النفس مریض کے حکم میں داخل ہے،
اور نفاس حیض میں داخل ہے: ابن حزم فرماتے ہیں:
أن النفاس حيض صحيح،
• ابن قدامہ فرماتے ہیں:
والنفساء كالحائض في هذا؛
لہذا ابن القیم کے اس نفیس قول میں اس طرح کے اشکالات پیدا کرنا مناسب نہیں ہے۔
خوف کی معنی کی تعیین کے لیے شنقیطی کے قول سے استدلال کا جائزہ:
علامہ شنقیطی نے حاملہ اور مرضعہ کے سلسلے میں انتہائی نفیس بحث کی ہے اور فدیہ کے قول کے ضعف کو بڑے مدلل اور اچھوتے اسلوب میں واضح کیا ہے،
لیکن زیر بحث مسئلہ میں ان کے قول سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ خوف کا مطلب عمومی خوف کی بات ہے،
شنقیطی کے قول کو پیش کرنے سے پہلے خود ان جملوں پرغور کریں کہ کیا اگر کسی حاملہ یا مرضعہ کو یہ خوف ہو کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے میں کہیں جسمانی اعتبار سے کمزور نہ ہوجاؤں یا بیمار نہ پڑجاؤں لہذا میں روزہ نہیں رکھوں گی اور فدیہ ادا کر دوں گی؟ کیا کتاب وسنت اور سلف کے اقوال سے یہی پتہ چلتا ہے؟ اور کیا روزہ جیسی عظیم عبادت کو محض اس لیے چھوڑنا جائز ہے کہ کہیں میں جسمانی اعتبار سے کمزور نہ ہوجاؤں؟ یعنی بغیر کسی پریشانی کے نیکی حاصل ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں؟ اور اگر یہاں خوف کا یہی مطلب ہے تو پھر یہ لفظ ہی بے اثر اور بے معنی ہے،
• شیخ ابو عمر الدبیان موسوعة أحكام الطهارة (12/ 130) میں فرماتے ہیں:
"العبادات مشتملة على مصالح المعاد،
• عز الدین بن عبد السلام فرماتے ہیں:
وَتَخْتَلِفُ الْمَشَاقُّ بِاخْتِلَافِ الْعِبَادَاتِ فِي اهْتِمَامِ الشَّرْعِ فَمَا اشْتَدَّ اهْتِمَامُهُ بِهِ شَرَطَ فِي تَخْفِيفِهِ الْمَشَاقَّ الشَّدِيدَةَ أَوْ الْعَامَّةَ،
• شیخ شنقیطی کے قول میں محل شاہد یہ جملے ہیں:
يجوز لها أن تفطر إذا خافت على نفسها كأن تكون حاملا ضعيفة البنية والحمل ينهكها فإذا صامت تعبت أو لربما استضرت۔
حاملہ کو اگر اپنے نفس پر خوف ہو تو اس کے لیے روزہ ترک کرنا جائز ہے،
اس میں شیخ نے لفظ "انھاک" کا استعمال کیا ہے پھر اس کے بعد "تعب" کا،
"وكذلك أيضا إذا خافت على جنينها. فقال لها الطبيب: إن الجنين في حالة لو صمت استضرّ بصومك ولربما مات۔أو يكون الرضيع ضعيف البنية لا يمكن تأخير رضاعه،
اس میں خوف علی الولد کی صورتیں بتائی گئی ہیں کہ اگر کوئی ڈاکٹر یہ مشورہ دے کہ روزہ رکھنے کی صورت میں بچہ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا وہ مر سکتا ہے تو حاملہ کے لیے روزہ ترک کرنا جائز ہے۔اسی طرح بچہ لاغر وکمزور ہو اور دودھ میں تاخیر کی صورت میں اس کو ضرر لاحق ہوسکتا ہے اور روزہ کی حالت میں ماں کا دودھ نہیں اترتا ہو تو ایسی حالت میں بچہ کی جان بچانے کے لیے ماں کے لیے روزہ توڑنا ضروری ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ ساری صورتیں ضرر کی ہیں جن میں کسی کو اختلاف ہی نہیں ہے۔
لیکن شنقیطی کے اس پورے کلام میں خوف کا معنی کسی بھی جگہ یہ نہیں ہے کہ اگر کسی کو بیمار پڑجانے یا جسمانی طور پر کمزور ہوجانے کا ڈر ہو تو وہ روزہ ترک کر دے۔
اعتراضات کا خلاصہ:
1- ابن عبد البر کے قول سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔
2- شرعی اصول کی مخالفت
3- اصول میں تضاد
4- قیاس کی بنیاد ایک شاذ قول پر
5- مشقت اگر قابل برداشت اور خفیف ہو تو محاملہ اور مرضعہ کو روزہ ترک کرنے کی رخصت نہیں ہے۔سلف اور خلف تمام اقوال سے یہی پتہ چلتا ہے۔
6- بعض اہل علم نے خفیف مرض پر روزہ ترک کرنے کی رخصت دی ہے لیکن یہ شاذ قول ہے جسے جمہور اہل علم نے رد کر دیا ہے۔
7- مجاہد اور علقمہ کے قول سے غلط استدلال
8- امام شافعی کے قول کو شذوذ سے تعبیر کرنا صحیح نہیں ہے۔
9- ابن القیم کے قول پر وارد اشکالات نامناسب ہیں۔
10- حاملہ اور مرضعہ کے مسئلہ میں جو بھی دلائل دیے گئے ہیں نہ ہی وہ صریح ہیں نہ ہی محتمل ہیں بلکہ وہ سب اوہام کے قبیل سے ہیں۔
11- علماء کی تفسیر کو نص قرآنی کی طرف منسوب کرنا بہت بڑی علمی غلطی ہے چہ جائیکہ ایک غلط مفہوم کو منسوب کیا جائے۔





