ہمارے گھر بچپن ہی سے خالص سرسوں کا تیل کھانے میں استعمال ہوتا تھا پھر ہم سب پڑھ لکھ گئے۔ٹیلی ویژن پر سرسوں تیل کی مخالفت کے رنگ برنگے اشتہارات اور گرج دار خبریں دیکھ دیکھ کر لگتا تھا جیسے ہم سرسوں کا تیل نہیں بلکہ کوئی زہریلا سیّال استعمال کررہے ہیں جو ہم سب کے ساتھ پوری دنیا کو رفتہ رفتہ موت کے گھاٹ اتار دے گا۔اور ہمیں بہت ساری جانی اور انجانی موٹی موٹی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا کردے گا۔
بس پھر کیا تھا رفتہ رفتہ چاروں طرف یہی شور سنائی پڑتا تھا کہ سورج مکھی کا ریفائنڈ تیل،
پچھلے چار پانچ سالوں سے جب ہم نے نیوٹریشن اور ہیلتھی ڈائیٹ کے متعلق اپنی تحقیقاتی عینک تھام کر پڑھنا لکھنا شروع کیا تب جاکر آنکھوں اور عقل کے آگے پڑے ہوئے دبیز پردے چاک ہوئے۔
پھر یہ یقین تب اور بڑھ جاتا ہے جب میں کھانوں کی مختلف تراکیب دیکھتی ہوں وہ بھی انٹرنیٹ پر۔کیا دیکھتی ہوں کہ کبھی کوئی ڈائٹیشن کہتی ہے تو کبھی کوئی ڈاکٹر کہتا ہے کوئی فٹنس ٹرینر کہتا ہے،
اب جب بھی کوئی کوکری شو دیکھ کر اپنے سگھڑاپے کو ترقی دینا چاہتی ہوں تو سب سے پہلے دیکھتی ہوں کہ شیف صاحب یا صاحبہ بڑے بڑے چمچہ سرسوں کے تیل کڑھائی میں انڈیلے جارہے ہیں۔اسی ناگوار بو والے سرسوں کے تیل سے بٹر چکن میرینیٹ کیا جارہا ہے۔چکن تکّہ کی بوٹیوں کو اچھی طرح مسالہ سے لت پت کرکے اسے سرسوں کے تیل سے نہلایا جارہا ہے۔
اور تو اور اب میری انہی چست پھرت نگاہوں نے یہ نظارہ بھی دیکھا ہے کہ مین اسٹریم میڈیا خود ہی کچّی گھانی (سرسوں تیل) کا اشتہار کرتی ہے۔پیچھے پیچھے کنؤو لال کی پتنجلی patanjali بھی کاونٹ ڈاؤن میں لگی ہوئی ہے۔
ہماری ریسرچ نے ہمیں سمجھا دیا تھا کہ ہمیں اچھا والا پوپٹ بنایا گیا ہے۔پھر میڈیا اور ٹی وی کے اشتہار دیکھ دیکھ ان کی باتوں پر جھولے میں پڑا ہوا بچہ بھی ایمان لے آئے پھر میں کیا چیز ہوں۔
ہم نے بھی یقین کرلیا کہ سرسوں اور دیگر خالص تیلوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے مین اسٹریم میڈیا نے سرمایہ کاروں کی ازلی دلالی کی ہے اور کروڑوں کو ریفائنڈ آئل کے نام پر ہائی بلڈ پریشر،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اب سرمایہ کار اپنا پیسہ جس کسی بھی آبجیکٹ یا پراجیکٹ پر لگائیں،
اپنے گاؤں اپنے ریجن سے تعلق زندہ رکھیں،
ہوشیار رہیں،





