قربانی ایک اہم عبادت ہے،
اسی اہمیت کے پیش نظر احادیث میں اس کا تاکیدی حکم آیا ہے اور رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس کی ترغیب دلائی ہے نیز اس کے بارے میں تمام تفصیلات سے آگاہ بھی فرمایا ہے کہ قربانی کب کی جائے گی،
انہی امور مبینہ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قربانی کا جانور بے عیب،
عن عُبيد بنَ فَيروز،
(حضرت عبید بن فیروز ؓ سے روایت ہے،
انھوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔اور میرا ہاتھ رسول اللہﷺ کے ہاتھ سے کوتاہ ہے۔(اور فرمایا:) ’’قربانی میں چار قسم کا جانور کفایت نہیں کرے گا:
(1)وہ کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو
(2)وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو
(3)وہ لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو
(4) اور وہ دبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔‘‘
عبید نے کہا: میں تو پسند نہیں کرتا کہ اس کے کان میں نقص ہو۔حضرت براء نے فرمایا: جو چیز تمھیں پسند نہیں،
(سنن ابی داؤد: 2802،
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأجمعوا على أن العيوب الأربعة المذكورة في حديث البراء وهو المرض والعجف والعور والعرج البين لاتجزى التضحية بها وكذا ماكان في معناها أو أقبح كالعمى وقطع الرجل وشبهه"(شرح مسلم للنووي:13/ 120،
علمائے امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ براء بن عازب کی حدیث میں مذکورہ چار عیوب بیماری،
البتہ اختلاف اس چیز میں ہے کہ ان عیوب کے علاوہ ان سے کم تر درجے کے جو عیوب ہیں کیا وہ بھی کفایت سے مانع ہیں یا وہ کوئی دوسرا حکم رکھتے ہیں؟
مثلاً جس جانور کے بالکلیہ سینگ نہ ہو اس کے بارے میں علمائے امت کا اجماع اور اتفاق ہے کہ اس کی قربانی کرسکتے ہیں۔
اس کے برخلاف ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کی قربانی کے سلسلے میں اختلاف ہے:
چار اقوال ہیں:
پہلا قول: مطلقا نہیں کر سکتے۔
ان لوگوں کے دلائل:
اول:
عنْ عليّ قال: "نهى رَسُول الله صلّى اللَّه عَلَيْه وسلَّمَ أَنْ يُضحّى بأَعْضب القرن وَالْأُذن"
(اسے امام أبو داود (2805)،
اسی طرح اسے ابن عبد البر،
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔
دوم:
عن يزيد ذو مصر،
"(اسے امام أبو داود (2803 اور أحمد (17653) نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی اور امام ابن حزم رحمہا اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے)
ترجمہ: یزید ذومصر بیان کرتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس آیا اور (ان سے) کہا: اے ابوالولید! میں قربانی لینے کے لیے نکلا ہوں مگر کوئی جانور پسند نہیں آیا سوائے ایک کے کہ اس کے دانت گرگئے ہیں۔مگر وہ بھی مجھے پسند نہیں ہے تو آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ تم نے مجھے کیوں نہیں لا دیا۔میں نے کہا: سبحان اللہ! تمھاری طرف سے جائز ہوگا تو کیا میری طرف سے جائز نہ ہوگا؟ انھوں نے کہا: ہاں (اس لیے کہ) تم شک کرتے ہو اور مجھے کوئی شک نہیں ہے۔رسول اللہﷺ نے ان جانوروں سے منع کیا ہے جو «مصفرة،
دوسرا قول:
آدھا سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہو تو نہیں کرسکتے،
ان کی دلیل بھی حضرت علی کی اوپر بیان کردہ حدیث ہے البتہ ان لوگوں نے عضباء کی تفسیر آدھا سینگ ٹوٹا ہوا جانور سے کی ہے:
عن جري بن كليب السدوسي،
(اسے امام أبو داود (2805)،
اسی طرح اسے ابن عبد البر،
ترجمہ: علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فریایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔قتادہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا: 'عضب' (سینگ ٹوٹنے) سے مراد یہ ہے کہ سینگ آدھا یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہو۔
تیسرا قول:
سینگ ٹوٹنے کے بعد خون نکلے تو نہیں کرسکتے،
ان لوگوں کے دلائل کا مجھے علم نہ ہوسکا البتہ یہ لوگ اتنا ضرور ذکر کرتے ہیں کہ چونکہ جب سینگ سے خون نکلتا ہے تو اس کا اثر گوشت پر پڑتا ہے جس سے کہ جانور کے کمزور ہونے اور گوشت کے فاسد ہونے کا خطرہ رہتا ہے لہذا اگر اس قدر سینگ ٹوٹے جس سے کہ خون نکلتا ہو تو ایسی صورت میں اس جانور کی قربانی درست نہیں ہے۔
چہارم:
مطلقا کر سکتے ہیں،
ان کے دلائل:
اول:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث:
عن حجية بن عدي،
هذا حديث حسن صحيح (اسے امام احمد نے مسند﴿1022﴾ اور امام ترمذی نے سنن ﴿1503) کے اندر روایت کیا ہے۔علامہ احمد شاکر نے صحیح اور امام البانی اور شعیب ارنؤوط وغیرہم نے حسن قرار دیا ہے)
ترجمہ: حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی جائے گی،
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
دوم:
بغیر سینگ والے جانور پر قیاس: کیوں کہ علما کا ایسے جانور کی قربانی کے جواز پر اتفاق ہے جس کا سرے سے سینگ ہی نہ ہو چنانچہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
العلماء مجمعون على أنَّ الجمَّاء جائزٌ أن يضحَّى بها،
علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ جماء (ایسا جانور جس کا سرے سے سینگ ہی نہ نکلا ہو) کی قربانی جائز ہے،
چنانچہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ایسے جانور کی قربانی درست ہے جس کا سرے سے سینگ نکلا ہی نہ ہو تو سینگ ٹوٹے ہوئے کی قربانی بدرجہ اولیٰ درست ہے کیونکہ اس کا کم از کم کچھ نہ کچھ تو ضرور ہے۔
خلاصہ کلام: یہ ہے کہ اس مسئلے میں راجح چوتھا قول ہے یعنی سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی جائز ہے البتہ اس کے مقابلے میں اگر میسر ہو تو سالم جانورں کی قربانی افضل ہے۔
اس ترجیح کے دلائل درج ذیل ہیں:
(1) سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی کی ممانعت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
اور اوپر گزر چکا ہے کہ اس سلسلے میں حضرت علی کی مرفوع حدیث ضعیف ہے علامہ البانی نے اس کو منکر قرار دیا ہے۔اس کے اندر دو علتیں ہے:
اول:
اس حدیث کی سند میں ایک راوی "جري بن كليب سدوسي" مجہول ہیں ... ان کے بارے میں امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں "شيخ لا يحتج به" یعنی ان (کی روایت) سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔امام علی بن المدینی فرماتے ہیں: "مجهول لا أعلم أحدا روى عنه غير قتادة" مجہول ہیں قتادة کے علاوہ کسی نے ان سے روایت نہیں کیا ہے۔ان دو جلیل القدر نقاد کے مقابلے میں منقول ہے کہ قتادۃ ان کی تعریف کیا کرتے تھے،
دوسری علت:
خود حضرت علی کی موقوف روایت اس حدیث کی مخالفت کرتی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ آپ ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے چنانچہ اگر یہ مرفوع روایت حضرت علی کے نزدیک صحیح ہوتی جن کے راوی آپ خود ہیں تو آپ اس کی مخالفت نہ کرتے۔
امام ابن عبد البر فرماتے ہیں:
"سینگ کا ذکر اس کے علاوہ اور کسی حدیث میں نہیں ہے..... اور بغیر سینگ والے جانور کی قربانی کے جواز پر علمائے کرام کے اجماع سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث القرن ثابت اور صحیح نہیں ہے بلکہ وہ منسوخ ہے۔کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ ایک ساتھ دونوں سینگوں کا نہ ہونا یہ زیادہ (عیب کا باعث) ہے کسی ایک کے بعض حصے کے نہ ہونے سے"۔(الاستذکار 15/132)
(2) اللہ کے رسول سے جب پوچھا گیا کہ کس قسم کا جانور قربان میں کفایت نہیں کرے گا تو آپ نے بالتحدید فرمایا کہ "أربع لا تجوز في الأضاحي" یعنی چار قسم کے جانوروں کی قربانی کفایت نہیں کرے گی۔
لہذا اس حصر اور تحدید سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس کے علاوہ جتنے اقسام کے جانور ہیں سب کی قربانی درست ہے۔
چنانچہ حضرت علی سے بھی جب ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہے اور دلیل یہ دیا کہ اللہ کے رسول نے ہمیں صرف آنکھ اور کان دیکھنے کا حکم دیا ہے۔مفہوم یہ ہے کہ چونکہ اللہ کے رسول نے ہمیں سینگ دیکھنے کا حکم نہیں دیا ہے لہذا ٹوٹے ہوئے سینگ والے کی قربانی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
اخیر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح فقہ دین سے نوازے۔آمین





