تعلق قریب کا ہو یا دور کا،
میرے گاؤں سے قریب لیدوا(سدھارتھ نگر) میں یک شبی اجلاس تھا،
ہمارے مشفق ومحترم دوست برادرم اجمل الطاف حسین فیضی کی عنایت سے اور مولانا الیاس سلفی وغیرہ کی معیت میں اگلی صبح نماز جنازہ میں شرکت کی نیت سے روانگی ہوئی۔جامعہ سے جنازے کے پیچھے قبرستان کی طرف چلے تو جھنڈانگر کی سڑکیں بھی ماتم کرتی ہوئی نظر آئیں۔عورتیں اپنے اپنے گھروں کی چھتوں،
کسی نماز جنازہ میں اس سے زیادہ بھیڑ میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی۔قبر کے پاس لوگ اپنے ہاتھوں کے دو دومضبوط گھیرے بناکر کھڑے تھے۔مٹی دے کر میں واپس دونوں گھیروں سے باہر آچکا تھا۔یکایک ایسا دھکا لگا کہ پہلے گھیرے والے مجھے روک نہیں پائے اور آخری گھیرے کے حصار میں جاکر میں ایسا رکا کہ نظر کے سامنے قبر کی گہرائی تھی بس۔وہ دن ہے اور آج کا دن۔وحشت کا ایسا عالم ہوتا ہے کہ عام طور پر میں قبرستان میں قبر سے ذرا دور ہی کھڑا رہتا ہوں۔
جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر میں صدر دراوزے سے پہلے ہی اندر بائیں طرف ایک لمبی نوٹ بک ایک قلم کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔اس میں لوگ تعزیت نامے لکھ رہے تھے۔مجھے اس وقت نثر لکھنا نہیں آتا تھا،
آج رات پھر اسی وقت اسی سے ملتی جلتی خبر ملی۔اسی چمنستان علم سے پھر ایک تناور درخت ٹوٹا ہے۔پھر اسی سے ملتا جلتا ایک بڑا علمی خسارہ ہوا ہے۔آج پھر وہی دن ہے،
جس زمانے میں البلاغ،
شیخ عبد المنان سلفی (رحمہ اللہ) مولانا شمیم احمد ندوی صاحب کے ساتھ ممبئی تشریف لائے ہوئے تھے۔ابن کلیم صاحب کو خبر ملی تو فری لانسر کا پہلا شمارہ لے کر شیخ کے پاس پہنچ گئے۔شیخ مرحوم نے پرچے کے مشمولات کو نہ صرف دیکھا بلکہ پورے دل سے اپنے تاثرات بھی لکھ کر دیے جو دوسرے شمارے (اپریل ۲۰۰۹) میں شائع ہوئے۔
ایسے وقت جب لکھنے کی ہمت ہی کم نہیں تھی رسالے کا اجراءتو اوربہت بڑی جرأت کا کام تھا۔اس ہمت وجرأت کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھاہمارے پاس،
شیخ عبد المنان سلفی (رحمہ اللہ) کے کلمات یہ تھے:
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم،
عروس البلاد ممبئی سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’دی فری لانسر‘‘ کا پہلا شمارہ دیکھنے کا موقع ملا اور اس کے ذمہ داران خصوصا مدیرالتحریر جناب ابن کلیم صاحب سے ہم کلامی کا شرف بھی حاصل ہوا،
میں اپنے ان نوجوان اور عزیز صحافیوں کی جرأت وہمت کو سلام تشکر پیش کرتا ہوں جنھوں نے بغیر کسی مادی سہارا کے بذریعہ قلم کلمۂ حق اللہ کے بندوں تک پہنچانے کا عزم کیا۔اللہ تعالی ان کے عزائم کو بلند کرے اور صحافتی میدان میں انھیں مکمل جرأت کے ساتھ قلمی جہاد کی توفیق دے۔(آمین)
میں اپنے عزیز بھائیوں کو یہ بھی مشورہ دوں گا کہ انھوں نے جس منزل کی جانب قدم بڑھایا ہے وہ مشکل بھی ہے اور صبر آزما بھی اس لیے وہ کبھی ہمت نہ ہاریں گے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کی زحمت نہ کریں گے،
محبت ہمیں ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند (اقبال)
دعاؤں اور نیک خواہشات کے ساتھ
عبد المنان سلفی
تھوڑی دیر رک کر سوچو تو یہ کل کی دوسری پرسوں کی بات لگتی ہے،
السلام عليكم ورحمة الله و بركاته
محبت ہمیں ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
اپنی صحت کی ناہمواری کے باوجود دبستان اردو میں آپ کا انٹرویو دلچسپی سے پڑھتا رہا،
آپ نے دوران انٹرویو زمانہ طالب علمی میں ایک مشہور مدرسہ کے آرگن ماہنامہ میں شمس نذیری کے نام سے اپنی ایک نظم کی اشاعت کا تذکرہ کیا ہے،
البتہ دوسری نظم یا غزل آپ نے کس ذریعہ سے بھیجی تھی کہ وہ ملی نہیں،
ڈھیر ساری دعائیں اور اچھی خواہشات آپ جیسے ہونہار عزیز کے لیے
عبد المنان سلفی جھنڈا نگر نیپال
اب نہ وہ گاؤں اپنا ہے،
اللہ رب العالمین شیخ رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے،





