خطاب: حافظ عبد الحسیب عمری مدنی
تلخیص: کاشف شکیل
امت مسلمہ جس خون آشام دور سے گذر رہی ہے اس سے کوئی بے خبر نہیں ہے۔اس وقت سب سے سستا خون مسلمانوں کا ہے،
ان در پیش حالات میں ایک مسلمان کو جن حقیقتوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہ درج ذیل ہیں:
(۱)بلاشبہ امت محمدیہ پر آزمائشیں،
(۲)مایوسی یا انتہائی سخت جذباتی آزمائش کے اس دور میں جب کہ امت مسلمہ مجبور و مقہور ہے،
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ(الاعراف:۱۲۸)
موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا:
۱۔اللہ تعالیٰ کا سہارا حاصل کرو
۲۔اور صبر کرو
۳۔یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے،
مسلمانوں کی ایمانی کیفیت کے مطابق اللہ ان کے احوال بھی تبدیل کرتا رہے گا:
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران:۱۴۰)ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔
تاریکی ہمیشہ نہیں رہتی،
(۳)آج امت جن حالات سے دوچار ہے ان کی ذمہ داری دشمن کی منصوبہ بندی سے زیادہ خود مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔بروقت مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے اسباب ڈھونڈیں تو اس کی سب سے اہم وجہ خود مسلمان نظر آتے ہیں۔
بگڑے حالات کو سدھارنے کے نام پر ہو یا عام زندگی میں،
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(آل عمران:۱۳۹)تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو،
لہٰذا ہماری اس زبوں حالی کے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں بعد میں کوئی اور اس کا ذمہ دار ہوگا۔
یہ حقیقت ہے کہ دشمنانِ اسلام متحد ہوکر مسلمانوں پر یلغار کر رہے ہیں،
وجہ یہ ہے کہ اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔امت کے ان ناگفتہ بہ حالات سے باہر آنے اور اس پریشانی سے نکلنے کا آسان طریقہ اللہ تعالی نے بتلایا تھا:
وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ(آل عمران:۱۲۰)تم اگر صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو ان کا مکر تمھیں کچھ نقصان نہ دے گا۔
مگر نوجوانوں کا ایک طبقہ بے جا جوش و خروش،
بین الاقوامی سطح پر اگر حالات کا بہ نظر غائر جائزہ لیں تو اس حقیقت کو تسلیم کیے بنا چارہ نہیں کہ ماضی قریب میں آئی تباہی،
۱۔عرب بہاریہ
۲۔داعش ISIS
واضح رہے یہاں اس بات سے انکار ہرگز نہیں ہے کہ دشمنان اسلام کا مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔بلا شبہ یہ انھی کی سازشوں کا نتیجہ ہے،
۱۔عرب بہاریہ(Arab Spring):مسلم ملکوں میں مختلف حکمران حکومت کرتے تھے،
عرب بہاریہ کے علمبرداروں کا یہ کہنا تھا کہ یہ وہ حکمران ہیں جو اس امت کی گردن پر مسلط ہیں اور ان کا خون چوس رہے ہیں لہذا ان کے خلاف بغاوت بپا کی جائے۔(حالانکہ ظالم حکمران کے خلاف بغاوتوں کی تائید اسلامی شریعت کبھی نہیں کرتی) پھر ہوا یہی۔سیریا کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بشار الاسد سے زیادہ عرب بہاریہ کے اسی نعرے پر ہے جس نے اس صورت حال کو جنم دیا،
عرب اسٹریٹجک فورم(Arab Strategic Forum)کے سروے کے مطابق عرب بہاریہ کے نتائج درج ذیل ہیں:
۱۔لیبیا،
(۱) 2کروڑ 40 لاکھ مسلمان پناہ گزین کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔
(۲)80 لاکھ شامی مسلمان بےگھر ہیں۔
(۳)14 لاکھ مسلمان یا تو مقتول ہوئے یا انتہائی زخمی ہیں۔
(۴)3 کروڑ مسلمان بے روزگار ہوئے۔
(۵)صرف سیریا(شام) میں بنیادی ڈھانچہ از سرِ نو کھڑا کرنے کے لیے کم از کم نو ہزار کروڑ ڈالر کا خرچ ہے۔
(۶)عرب دنیا کا چھ ہزار چار سو کروڑ ڈالر کا ہر سال تجارتی خسارہ ہو رہا ہے۔
(۷)اقوام متحدہ اور دیگر عرب ممالک کی طرف سے پانچ سو کروڑ سالانہ پناہ گزینوں پر خرچ ہورہے ہیں۔
بہار (عرب بہاریہ) کے نام پر یہ جو خزاں کا موسم ہے اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟؟؟
اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے
۲۔داعش(ISIS):
عصر حاضر میں امت کی زبوں حالی کی ذمہ داری دوسرے نمبر پر ان تنظیموں پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے خود کو جہادی تنظیم کہا اور مسلمانوں کے مسائل کا ٹھیکیدار ہونے کا دعوی کیا جن میں "داعش" سر فہرست ہے۔
داعش اور اس جیسی دیگر شدت پسند تنظیموں کی وجہ سے امتِ مسلمہ پر مرتب ہونے والے نقصانات میں سے چند درج ذیل ہیں:
(۱)خون مسلم ارزاں ہو تا جا رہا ہے۔
(۲)عالمِ اسلام میدان جنگ بنا ہوا ہے۔
(۳)داعش کے خلاف لڑنے میں اب تک صرف مسلمانوں کا 110 کروڑ ڈالر خرچ ہوا ہے۔
(۴)داعش سے جنگ کے نام پر اب تک کم ازکم 50 ہزار مسلمان مارے گئے ہیں۔
(۵)داعش اور اس جیسی دیگر تکفیری تنظیموں کے آنے سے پہلے عرب ممالک مجموعی طور پر امن کا گہوارہ تھے مگر اب بدامنی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ گزشتہ رمضان میں قبر نبوی سے قریب ہی بم بلاسٹ ہوا نیز حرمین شریفین کے امن و امان کے ساتھ بھی کھلواڑ ہوا۔
(۶)اس تکفیری فکر نے دشمنوں کو یہ موقع دیا کہ وہ ہمارے گھر میں گھس کر ہمیں ماریں،
(۷)اسلام دشمن عناصر ان کے وجود کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ورنہ جس امریکہ نے عراق میں صدام حسین جیسے مضبوط حکمران کی مستحکم حکومت کو محض ایک ماہ میں گرا دیا وہ داعش کے چند ہزار نوجوانوں کو تین سال سے نہیں ختم کر پا رہا ہے؟؟؟ یا للعجب
(۸)داعش کا معاشی انحصار تیل کے کنوؤں پر ہے،
کیا یہ بات عجیب نہیں کہ جو تیل کے خریدار اور ہتھیار کے بیوپاری ہیں وہی داعش کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں؟؟؟
(۹)داعش اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی وجہ سے بلاد اسلامیہ عدم استحکام کا شکار ہو رہے ہیں۔
(۱۰)داعش سے ایران اور اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے،
(۱۱)اسلام پر دہشت گردی کا جو الزام لگا ہے اس میں دشمنانِ اسلام سے زیادہ انھی انتہا پسند تنظیموں کا ہاتھ ہے۔
(۱۲)ان کی وجہ سے ایک بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں کے نتیجے میں مسلمان دہشت گرد کی حیثیت سے متعارف ہوئے اور بین الاقوامی اور قومی سطح پر دعوت کا کام رک گیا۔
(۱۳)انھی کی کرم فرمائی ہے کہ بیرون ممالک سے مذہبی،
(۱۴)ان کی سرگرمیوں کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ پہلے دہشت گردی کا نام اسرائیل سے جُڑا ہوا تھا اب داعش کی وجہ سے دہشت گردی کا یہ الزام اسرائیل سے ہٹ کر مسلمانوں پر گیا اور مسئلہ فلسطین جو مظلوموں کی فہرست میں سب سے اوپر تھا اب اس کی حیثیت ثانوی ہوگئی یا یہ مسئلہ اپنی حیثیت گنوا بیٹھا۔
(۱۵)خودکش بمباری جو امت کے معتبر علماء کی نظر میں حرام ہے اس پر انتہا پسند تنظیمیں جنت کی نوید سنا رہی ہیں۔یہ کتنا بڑا نقصان ہے کہ جنت کے نام پر جہنم خریدی جائے۔(حالانکہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی غیر مسلم معاہد کا قتل کیا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا)حق یہ ہے کہ آج اسلام کے لیے مرنے سے زیادہ اسلام کے لیے جینے کی ضرورت ہے۔
(۱۶)جذباتی نوجوان نادانستہ طور پر دشمنوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔انھیں پتہ نہیں کہ مغربی حکومتیں ایک طرف مسلم حکمرانوں پر انسانی حقوق کے مختلف کمیشنوں اور NGOs کے ذریعہ دباؤ ڈالتی ہیں کہ اسلامی نظام کے بجائے سیکولر نظام لایا جائے۔دوسری طرف ان حکام کی غلطیاں میڈیا میں لا کر نوجوانوں کو بغاوت پر ابھارتی ہیں کہ ٹکراؤ کا ایک سلسلہ ہمیشہ جاری رہے تاکہ یہ باہم مشغول رہیں اور انھیں مطلب برآری کا موقعہ بھی حاصل رہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دشمنوں کی سازشوں کے ساتھ اپنوں کی غلطیاں بھی ہمارے زوال کا اہم سبب ہیں۔جانے انجانے ہم دشمنوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں،





