ضرورت ایک ایسی آفاقی حقیقت ہے جو گہرے جذبات و احساسات تک کو اوورلیپ کرلیتی ہے۔مذہب اتنا بڑا محرک اعمال ہے کہ کارل مارکس نے افیون کہہ دیا مگر داعیان مذہب کی اولاد عمومی طور پر اپنا کوئی اور ہی کیریئر چن رہی ہے۔اس بدلاؤ میں ضرورت کارفرما ہے۔یہ صرف دعوتی نظام ہی کی ناکامی کا مظہر نہیں بلکہ مذہبی دائرہ کار کی غربت کا بھی ثبوت ہے۔اردو زبان کو زندہ رکھنے کے جتن میں مرجانے والے کی اولاد اردو کی محبت پر انگریزی میں بات کرتی ہے،
دین دنیا میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔اس کی معرفت عام ہوگی تو باقی مظاہر خود ہی حرکت و عمل میں رہیں گے۔زبان بھی انسان کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے،
ضرورت وقت کے ساتھ اپنا سفر طے کرتی رہتی ہے۔غیر ضروری حسرت اپنے چراغ کا بچا کھچا تیل جلتا ہوا دیکھتی رہتی ہے۔انسانوں کی طرح اس فانی دنیا میں تمام چیزوں کی ایک ویلیڈٹی ہوتی ہے۔بچپن،
مذہب یا زبان جہاں جہاں ضرورت ہے اچھی حالت میں ہیں۔جہاں انسانی ضرورتوں کا حصہ ہیں وہاں بھی ٹھیک ٹھاک ہیں۔اور جہاں غریب الدیاری سی سچویشن ہے وہاں حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔بچوں سے امیدیں ہوتی ہیں،
بچے سے ماں سب سے زیادہ باتیں کرتی ہے،
آج سے کچھ سالوں پہلے یہ تصور ناممکن سا تھا کہ مادری زبان کا بھی کوئی بدل ہوسکتا ہے۔کوئی ماں کی جگہ بھی لے سکتا ہے۔باپ پہلا فرد ہوتا ہے مگر وہ بھی ماں اور دودھ پیتے بچے کے درمیان نہیں آسکتا۔جو بچہ بول نہیں سکتا اس کی ساری ضرورتیں ماں سے جڑی ہوتی ہیں،
کوئی آگیا ہے۔اس کے دو ممکنہ اسباب ہیں۔ایک یہ کہ گھر میں اکیلی ماں ہے،
ایسی صورت حال میں اگر کوئی بچہ اپنا زیادہ تر وقت موبائل فون پر ویڈیو دیکھنے میں گزارتا ہے تو کیا بعید بات ہے کہ وہ زبان بھی موبائلی سیکھے۔ماں باپ کی آپس میں گفتگو اور بچے سے دونوں کی علاحدہ بات چیت اگر اسے مادری زبان اردو میں بولنے کی پریرنا نہیں دے سکتے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ بچہ موبائل فون کے ساتھ زیادہ رہتا ہے،
اس میں تو حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ بچہ ویڈیو جن زبانوں میں دیکھے ان کی شدبد اسے ہوجائے۔ہاں مادری زبان کا سرے سے کوئی لفظ ہی نہ آئے یہ تعجب کی بات ہے۔
ذہین کا یہی معاملہ ہے۔دو سال پانچ مہینے بائیس دن کی یہ بچی اپنے والدین کی پہلی اولاد ہے۔ماں باپ کے علاوہ گھر میں ساتھ اور کوئی نہیں رہتا سوائے ایک چھوٹی بہن کے جس کی عمر ابھی ایک سال اکیس دن ہے۔چھوٹی بہن تو ابھی صرف گٹ پٹ کرتی ہے،
ایسا نہیں ہے کہ ویڈیو اردو ہندی میں نہیں بنائے جاتے یا دوسری زبانوں سے ڈبنگ نہیں ہوتی سب ہوتا ہے مگر یوٹیوب پر گلوبل زبانوں میں مواد زیادہ ہے۔انگلش،
اردو ہندی ویڈیو اسکپ کردینے والی،
No
Where are you
What's this
Thank you
Yes
Oh yeah
Welcome
Oh no
Shoe
Wash
یہ سب انگریزی الفاظ ہیں۔ذہین نے یہ سارے الفاظ ویژول تعامل دیکھ دیکھ کر سیکھے ہیں اس لیے استعمال میں کوئی چوک نہیں ہوتی۔جس لفظ یا جملے کا جو ایکسپریشن ہے اس کے ساتھ بالکل سٹیک بولتی ہے،





