آج ہمارے مسلم معاشرے میں جہاں جہیز جیسے بھاری بھرکم مطالبات اور ہیوی ڈیمانڈ نے نکاح کو مشکل ترین بنا دیا ہے وہیں حسب و نسب،
جبکہ کتاب و سنت کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعدپتہ چلتا ہے کہ شادی بیاہ میں ترجیح و برتری کی بنیاد نسلی امتیازات،
(۱)يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات:13)اے لوگو ہم نے تمھیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمھارے لیے مختلف قوم اور قبیلے اس لیے بنائے کہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو،
(۲)فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ (النساء:3) عورتوں میں سے جو تمھیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔
(۳)إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (الحجرات:10) بے شک مومن آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔
(۴(وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍْ .....الخ (البقرة:221) اور مشرکوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں درحقیقت مومن بندہ مشرک سے بہتر ہے۔
(۵)اسی طرح نبی اکرمﷺ نے حجة الوداع کے موقع پر ایک جامع اور بلیغ خطبہ دیا۔ارشاد فرمایا:
لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ،
(۶)عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: تنكح المرأة لأربع: لمالها،
(۷)إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه؛
مذکورہ آیات واحادیث اس بات پر غماز ہیں کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور مسلم معاشرے کے یکساں فرد اور معزز ارکان ہیں،
(۱)رسول اللہﷺ نے اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی زینب بنت جحش کا نکاح زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا حالانکہ زید غلام تھے اور زینب قریشی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
(۲)اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا نکاح فاطمہ بنت قیس القرشیہ سے ہوا۔
(۳)حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کی بہن سے ہوا۔جبکہ بلال حبشی غلام تھے جن کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آزاد کیا تھا اور عبدالرحمٰن بن عوف قبیلہ قریش کے سربر آوردہ اور مشہور و معروف مالدار تاجر اور عشرہ مبشرہ کے رکن رکین تھے۔
(۴)نبی کریمﷺنے قبیلہ بنو بیاضہ کو ابو ہند کے ساتھ مناکحت کا حکم دیا تھا جبکہ ابوہند حجام تھے۔(أبو داود وصحّحه ابن حجر)
(۷)نبی کریمﷺ نے اپنی دونوں بیٹیوں رقیہ اور اُم کلثوم کا نکاح یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا تھا جبکہ آپ ہاشمی اورعثمان رضی اللہ اموی تھے۔
اس کے علاوہ تاریخ اسلام اور ادوار صحابہ میں اور بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ویسے تو نکاح میں حسب و نسب کے کفو و برابری کے سلسلے میں ائمہ و فقہاء کا اختلاف ہے مگر راجح قول یہی ہے کہ نکاح میں دین و اخلاق کا کفوء ہونا ضروری ہے باقی قبیلہ و خاندان اور ذات برادری کا کوئی اعتبار نہیں۔امام شوکانی اپنی شہرہ آفاق کتاب نیل الاوطار میں لکھتے ہیں:
قد جزم بان اعتبار الکفاء ۃ مختص بالدین یعنی كفاءت و برابری کا اعتبار صرف دین کے ساتھ خاص ہے۔حضرت عمر اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا بھی یہی قول ہے اور یہی رائے امام مالک،
لہٰذا ثابت ہوا کہ نکاح میں دین و اخلاق ہی اصل ہے باقی دوسری تمام چیزوں کی حیثیت ثانوی ہے۔ہمارے مسلم معاشرے میں شادی بیاہ میں ذات برادری اور کنبہ و قبیلہ کولے کر جو فخر و مباہات اور تعصب و تنگ نظری پائی جارہی ہے وہ انتہائی درجے کی جہالت اور حماقت ہے،
بھلا بتائیے جس سماج کا یہ حال ہو کہ ہندوانہ طرز معاشرت اور جاہلانہ طور طریقے پر چلنے والے کو باعزت سمجھا جا رہا ہو اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو وہاں تبدیلی کیسے آئےگی۔
ویسے بعض تعلیم یافتہ حضرات اس غیر اسلامی حصار سے نکل کر آپس میں ایک دوسرے کے یہاں رشتہ کرکے شادی کو آسان بنانا تو چاہتے ہیں مگر سماجی روایت اور ہندوانہ ماحول سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں۔اگر کسی نے اس روایت کو توڑ دیا تو زندگی بھر لعن طعن کی گٹھری لادنی پڑے گی،
افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب زید و بکر دونوں آپس میں دوست ہوں،
اس تحریر کا مقصد یہ بالکل نہیں ہے کہ اپنے پرانے رشتوں اوربرادری کو چھوڑ کر دوسری جانب رخ کیا جائے بلکہ اپنے ہی قبیلے اور برادری میں اگر رشتہ آسانی سے طے ہو جارہا ہو تو اچھی بات ہے ورنہ کسی بدعتی،
نکاح میں تاخیر اور دشواری کی ایک بڑی وجہ قبائلی امتیاز اور برادری عصبیت بھی ہے کیونکہ بعض قبائل ہمارے سماج میں عنقاہوچکے ہیں پھر بھی لوگ اسی قبیلے کی تلاش میں بہت دور نکل جاتے ہیں اور عقیدہ و منہج کی تمیز کیے بغیر زمین جائداد تک گروی رکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں مگر قبائلی فرق کسی بھی صورت میں منظور نہیں (الا من رحم ربي)۔لہذا ایسے ماحول میں سماج سے اس فرسودہ ذہنیت اور غیر اسلامی تصور کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تو آئیے ہم سب مل کر جاہلی فخر و مباہات اور ذات برادری کی قید و بند اور عصبیت کا قلع قمع کریں اور اپنے ہم مزاج رشتوں اور دوست احباب کے یہاں شادی بیاہ کا رواج قائم کریں اور اسلام کی وسعت اور تعلیم کو عام کریں۔





