بہت سارے مقررین اور واعظین ایک قصہ بیان کرتے ہیں کہ نبی معصوم علیہ الصلاۃ والسلام کو بندش وحی کےایام میں اس قدر غم لاحق ہوا اور آپ اس قدر ذہنی دباؤ کے شکار رہے کہ آپ نے بسا اوقات پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کی کوشش بھی کی تھی۔
”کیا یہ قصہ ثابت بھی ہے؟‘‘
یہ سوال کرنے پر ان کا جواب ہوتا ہے:یہ تو صحیح بخاری میں موجود ہے۔اور صحیحین میں موجود احادیث کی صحت پر امت کا اجماع ہے۔
ایک حد تک ان کی بات صحیح ہے کہ یہ قصہ صحیح بخاری میں موجود ہے،
صحیح بخاری کے اندر یہ روایت یوں موجود ہے:
وَفَتَرَ الوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
اس میں "حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" کے بعد اور "حُزْنًا" سے پہلے "فِيمَا بَلَغَنَا" کا لفظ موجود ہے،
پس یہ حدیث امام زہری رحمہ اللہ سے امام بخاری رحمہ اللہ نے بلاغًا روایت کی ہے،
اصل روایت کافی لمبی ہے جس میں بالتفصیل ابتدائے وحی کے قصہ کو بیان کیا گیا ہے۔اس قصہ کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ”صحیح“ میں کئی بار ذکر کیا ہے،
امام زہری کی حدیث میں یہ زیادتی صرف معمر کی روایت میں وارد ہے،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ان (عقیل) سے ’’باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليہ وسلم‘‘[1/7۔حديث نمبر3]میں مفردًا (مقرونًا نہیں)روایت کیاہے۔اور اس میں یہ زیادتی وارد نہیں ہے۔
ہاں! بعض مصادر میں معمر کی یہ روایت زہری سے بلاغًا نہیں بلکہ موصولًا بھی وارد ہے،
(۱)ابن مردویہ نے اپنی ’’تفسیر‘‘(جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری (16/290) میں ذکر کیا ہے) میں اسے ’’عن محمد بن کثیر-الصنعانی الثقفی-عن معمر عن الزہری عن عروۃ عن عائشۃ‘‘ کی سند سے موصولًا روایت کیا ہے،
لیکن اس کی سند معمر تک ثابت نہیں ہے۔محمد بن کثیر الثقفی الصنعانی ’’صدوق کثیر الغلط‘‘ہیں۔[دیکھیں: تقریب التہذیب:ص504،
(۲)امام طبری کی ”تاریخ“(2/298-299) میں نعمان بن راشد نے محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے اور اسے مذکورہ سند ’’عن معمر عن الزہری عن عروۃ عن عائشۃ‘‘سے موصولًا روایت کی ہے،
لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔نعمان بن راشد کو حافظ ابن حجر نے’’ صدوق سیئ الحفظ‘‘کہا ہے۔[دیکھیں: تقریب التہذیب:ص564،
اس کے بر عکس ’’ معمر عن الزہری‘‘سے ان کے شاگرد خاص عبد الرزاق نے صحیح بخاری( حدیث نمبر 6982)اور مسند احمد (43/112-114) حدیث نمبر (25959) میں ’’فیما بلغنا‘‘ کے لفظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔اور عبد الرزاق جیسے ثقہ راوی کے سامنے ان ضعیف روات کی کوئی حیثیت نہیں،
اس لیے عبد الرزاق کی ’’فیما بلغنا‘‘والی روایت کو محمد بن کثیر اور نعمان بن راشد کی روایتوں پر ترجیح حاصل ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب
عبد الرزاق کی روایت کی تائید ابن ثور (محمد بن ثور الصنعانی ابو عبد اللہ العابد) کی روایت سے بھی ہوتی ہے جسے امام طبری نے اپنی ”تاریخ“(2/305) میں ’’معمر عن الزہری‘‘ سے مرسلًا روایت کیا ہے۔
اور ابن ثور ثقہ ہیں۔[تقریب التہذیب:ص471،
اس لیے اس روایت میں زہری سے روایت کرنے میں معمر سے راجح یہ ہے کہ یہ امام زہری کی بلاغات میں سے ہے اور اسے ان سے موصولًا روایت کرنا غلط ہے۔واللہ اعلم بالصواب
یونس بن یزید الایلی نے امام زہری سے ’’فیما بلغنا‘‘ کے لفظ کے ساتھ روایت کرنے میں معمر کی متابعت بھی کی ہے( ان کی اس حدیث کو دولابی نے الذریۃ الطاہرہ (ص33) حدیث نمبر (22) میں روایت کیا ہے) جس سے مزید اس کے ”بلاغات زہری“ میں سے ہونے کی تائید ہوتی ہے۔
ان تمام مذکورہ تفصیلات سے واضح ہے کہ اس روایت میں”خود کشی کرنے کی زیادتی“ثابت نہیں ہے۔
یہ تو اس کی اسنادی حیثیت ہوئی،
کیا نبی معصوم علیہ السلام کی شان کے لائق ہے کہ آپ خود کشی جیسے کبیرہ گناہ کی کوشش کریں؟ چاہے اس کا سبب کچھ بھی کیوں نہ ہو؟
قطعًا نہیں۔وہ بھی اس وقت جب کہ آپ کا ہی فرمان ہے:
«من تردى من جبل فقتل نفسه،
بلکہ خود کشی تو دور کی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی تمنا اور دعا کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔[متفق علیہ: صحیح بخاری حدیث نمبر7235/صحیح مسلم2682]
نیز کسی بھی مذہب ومعاشرے میں خود کشی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ہر کسی کے نزدیک یہ ایک نہایت قبیح فعل بلکہ بزدلی کی علامت ہے۔اس لیے قطعًا یہ شان نبوت کے لائق نہیں کہ آپ اس طرح کی کوشش یا خیال کریں۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس زیادتی کو منکر کہا ہے۔[دیکھیں: دفاع عن الحديث النبوي ص41]
پس ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خود کشی کا قصہ ثابت نہیں ہے۔یہ ایک منکر روایت ہے۔اس لیے اسے نبی معصوم علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف منسوب کرکے ذکر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
واللہ الھادی وھو الموفق الی سواء السبیل





