ہائے کیوں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عشق کے خار زار کا زخم سہا نہ جائے کیوں
آبلہ پا جو ہو گئے، کیجیے ہائے ہائے کیوں
بربطِ کائنات پر عشق کا ساز چھیڑیے
سوزِ جگر بڑھائیے، اپنے نہ ہوں پرائے کیوں
وعدہِ وصل پہ اگر دل کو یقیں ہے بے جھجھک
راہِ وفا میں رکیے کیا، پاؤں بھی ڈگمگائے کیوں
اس کی جفا بڑی گراں، اس کا ستم ہے سوز جاں
عشق کا ذکر جب بھی ہو آنکھ اُمنڈ نہ آئے کیوں
دے دیا دل بے ساختہ، زہرہ جبیں کو دیکھ کر
عشق میں کیسا مشورہ، لیجیے کوئی رائے کیوں
کوئی تو جا کے کہہ دے اب قائدِ خیر خواہ سے
دوسرے مسئلے بھی ہیں، ایک فقط یہ گائے کیوں
کاشفِ بے قرار پر، کون فریفتہ ہوا
مل نہ سکی سرائے دل، خِشت کی ہو سرائے کیوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ش
شميم عرفاني
27 ستمبر، 2020بہت خوب بہت عمدہ، ما شاء الله تبارك الله





