کدھر ٹھہرے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہجوم رنج میں کوئی تو چارہ گر ٹھہرے
شراب رکھ دے جہاں بھی مری نظر ٹھہرے
جمال یار کی حدت نے وہ کمال کیا
مرے وجود کے ذرے سبھی شرر ٹھہرے
تم آؤ آ کے چلے جاؤ کوئی بات نہیں
تمھارا گھر نہ سہی دل تو رَہ گزر ٹھہرے
تمھی تمنا ہو ہر دم لہو کی گردش کی
جو تم نہیں تو یہ دل آخرش کدھر ٹھہرے
جو مجھ کو چھوڑ کے جاتے ہو تو بتا بھی دو
تمھارے بعد کہاں کون ہم سفر ٹھہرے
تمھاری بحر سی آنکھوں میں ہیں ہزار صدف
جو شخص ان میں سما جائے وہ گہر ٹھہرے
تمھارے حسن کے آتش کدے میں ہم پیہم
جلے ہیں ایسے کہ بس خاک بے شرر ٹھہرے
خموش ہی رہو کاشف! نظامِ عالم ہے
یہاں زبان جو کھولے وہ فتنہ گر ٹھہرے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





