کہا جاتا ہے کہ ادب زندگی کا آئینہ ہے جس میں انسان اپنے گردو پیش کے تمام احوال کا مشاہدہ کرتا ہے اور ا س کے ذریعے سماجی مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔اور یہ حقیقت ہے ادب کا زندگی سے اٹوٹ رشتہ ہے،
ادب اور مذہب کے موضوع پر گفتگو سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ادب کی تعریف کر دی جائے تا کہ اس کے خد وخال واضح ہوجائیں اور اس کی روشنی میں ادب اور مذہب کے باہمی ربط کودیکھا جائے۔
ایک مغربی ادیب نارمن جوک کے مطابق:"ادب مراد ہے ان تمام سرمایہ خیالات واحساسات سے جو تحریر میں آچکا ہے اور جسے اس طرح ترتیب دیا گیا ہو کہ پڑھنے والے کو مسرت حاصل ہوتی ہو۔"(وکی پیڈیا: زمرہ ’’ادب‘‘)
سید عابد علی ادب کی تعریف میں رقمطراز ہیں:"وہ تمام تحریریں ادب کے دائرے میں داخل سمجھی جائیں گی جن کے مطالب کو ذوق سلیم معیاری تصور کرے گا اور جن کا اسلوب نگارش صناعانہ اور فن کارانہ ہوگا کہ حسن صنعت یا فن کی صنعت لازم ہے۔"(اصول انتقاد ادبیات،
ڈاکٹر وزیر آغا ادب او ر ادیب کا دائرہ عمل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں: "ادب بنیادی طور پر ایک اخلاقی فعل ہے اور ادیب اخلاقیات کا بہت بڑا نمائندہ۔"(تعمیری ادبی تحریک از پروفیسر احمد سجاد،
ادب کی ان تمام تر تعریفات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ادب ایک محدود اور مقید فن نہیں کہ جس میں ایک مخصوص ہیئت اور ایک خاص طرز کی تحریریں ہی داخل ہوسکتی ہیں،
سید عابد حسین لکھتے ہیں:"وہی عقائد پائدار ثابت ہوتے ہیں جنھوں نے کائنات کی توجیہ میں کسی نہ کسی مافوق ہستی کا سہارا لیا ہے،
پروفیسر اسلوب احمد انصاری فرماتے ہیں:"یہ فرض کر لینا کہ مذہبی جذبے کی شاعری اعلی اور کھری نہیں ہوسکتی محل نظر ہے اور عصبیت کی چغلی کھاتا ہے۔اصل معاملہ احساس کی شدت اور اس کے مکمل شعری اظہار کا ہے۔بالفاظ دیگر جس موضوع پر شعری کا رنامہ وجود میں لایا جارہا ہے،
آل احمد سرور لکھتے ہیں:" یہ کہنا کہ مذہبی نظریہ ادب میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا،
دنیا کی دیگر زبانوں کے ادب کے برخلاف اردو ادب کا یہ ایک بڑا المیہ رہا ہے کہ ادب کے دائرے سے مذہب کو خارج کرنے کی سعی مذموم کی جاتی رہی ہے،
اردو ادب سے مذہب کو خارج کرنے کی تاریخ اور اس کے پس منظر پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا نقطہ آغاز ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے کے بعد سے شروع ہوتاہے۔تحریک کا بنیادی مقصد تھاکہ اردو ادب کو قدامت،
"مذہب کی حیثیت افیون کی سی ہے،
’’تعمیری ادبی تحریک ‘‘ کے مصنف پروفیسر احمد سجاد لکھتے ہیں:" ..غرض سر سید اور حالی وشبلی کے بعد سے اب تک محض ایک صدی کے اندر اندر مغرب سے مرعوبیت کے اس جدید طرز احساس نے خدا پرستی سے الحاد،
(۱)جبریت اور فرار (۲) مایوسی وقنوطیت (۳) مذموم جذبات مثلا نسل پرستی،
ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:"بہت سارے لوگ ادب اور مذہب کے رشتے پر اجنبیت کا اظہار کرتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ ادب کا دائرہ مذہب سے وسیع تر ہے،
اور یہ حقیقت ہے کہ مغرب کا ادبی سرمایہ بھی مذہبیات سے خالی نہیں رہا ہے۔جان ملٹن،
’’عقلیت اور لا دینیت کی شہرت کے باوجود فرانس یورپ میں مسیحیت کے عقائد اور اصول کی سب سے بڑی تجربہ گاہ رہا ہے۔نوجوان مزدوروں کی مسیحی تحریک جو ژوکست کہلاتی ہے موجودہ فرانس کی سیاست میں بڑی جاندار تحریک ہے۔اس کی تہ میں مذہبی قدروں کو برقرار رکھتے ہوئے سیاسی اور معاشرتی مقاصد بھی ہیں جو جماعت کی زندگی کو فروغ دینے والے اور اخلاق کی بنیادوں کو مضبوط کرنے والے ہیں۔یہ تحریک ادب پر بھی اپنا اثر ڈال رہی ہے اور اس پر اثر انداز ہو رہا ہے۔‘‘(فرانسیسی ادب از ڈاکٹر یوسف حسین خان،
مغربی ادب وتنقید کا امام ٹی ایس ایلیٹ کہتا ہے:’’میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ سارا کا سارا جدید ادب لا دینیت کی وجہ سے خراب ہوگیا ہے اور وہ فطری زندگی کے مقابلے میں فوق الفطرت زندگی کی اہمیت وتقدیم سے ناواقف و بے خبر ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جسے میں بنیادی اہمیت دیتا ہوں۔‘‘( ایلیٹ کے مضامین از مذہب اور ادب،
ڈی ایچ لارنس کے مطابق ’’اب کوئی نیا اور جاندار ادب ہوگا تو وہ انسان اور خدا کے باہمی رشتے کے بارے میں ہوگا‘‘(تعمیری ادبی تحریک،
مذہب کو ادب سے خارج کرتے ہوئے علامہ اقبال کو بھرپور نشانہ بنایا گیا اور ان پر فسطائیت کاالزام بھی عائد کیا گیا۔چنانچہ اقبال کے تئیں ایک ترقی پسند نقاد کا یہ بے لاگ تبصرہ ملاحظہ فرمائیں:
’’ اقبال فسطائیت کا ترجمان ہے اور یہ درحقیقت زمانہ حال کی جدید سرمایہ داری کے سوا کچھ نہیں....وطنیت کا مخالف ہوتے ہوئے بھی اقبال قومیت کا اس طرح قائل ہے جس طرح مسولینی۔اگر فرق ہے تو صرف اتنا کہ ایک کے نزدیک قوم کا مفہوم نسلی ہے اور دوسرے کے نزدیک مذہبی...فاشسٹوں کی طرح وہ بھی جمہور کو حقیر سمجھتا ہے۔
اقبال کا فلسفہ زندگی کہتا ہے کہ دنیا کو سائنس اور مشینی صنعت سے منہ موڑ کر قدیم مذہبی نظام کی طرف آنا چاہیے جس کی تدوین مومنوں کے ہاتھ ہوگی۔یہ نظام قائم کرنے کے لیے شاہیں کی مثال پر عمل کرنا ہوگا۔یعنی بوقت ضرورت جبر سے کام لینا ہوگا‘‘۔(ادب اور انقلاب اختر حسین رائے پوری۔ص:۸۰۔۸۴۔۱۱۰)
حالانکہ اقبال کی شاعری نے جس طرح سے مسلمانوں کے دلوں کو جھنجھوڑا،
’’اقبال کو کمیونلسٹ (فرقہ پرست) بتایا جاتا ہے جس دیار میں فرقہ پرستی کی وبا پھیلی ہوئی ہو وہاں بڑی شاعری اور بڑا شاعر کا تصور ذہنوں میں نہیں آسکتا،
مذہب کو ادب سے خارج کرکے اس کس رخ پر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ اس کی چندنثری وشعری مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
شبیر حسن خان نہیں لیتا بدلا
شبیر حسن خاں سے بھی چھوٹا ہے خدا
(جوش)
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
(فیض)
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کرلیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
(ندا فاضلی)
جی خوش ہوا ہے مسجد ویراں کو دیکھ کر
میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے
(عدم)
نہیں اس دریچے کے باہر تو دیکھ
خدا کا جنارہ لیے جارہے ہیں
اسی ساحر بے نشاں کا
جو مغرب کا آقا ہے مشرق کا نہیں
(ن،
’’واعظانہ اور خطیبانہ انداز بھی ہماری انقلابی نظموں میں کافی پایا جاتا ہے،
’’ظاہر ہے کہ یہ درویشی اور قلندری،
الحاد اور مذہب بیزاری کے علاوہ فحش نگاری کو بھی خوب خوب فروغ ملا اور اردو ادب کو فحاشی اور عریاں نگاری سے بھر دیا گیا،
میری نظر میں ادب ہی نہیں وہ اے تابشؔ
جو میری قوم کے بچوں کو بے حیائی دے
پس حرف:اس تمام تر بحث کا ماحصل یہ ہے کہ دین ومذہب کا ادب سے بڑا گہرا اور مضبوط رشتہ ہے۔مذہب کو ادب بدر نہیں کیا جا سکتااور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جاسکتاہے۔دنیا کے تمام ادبیات عالیہ میں مذہب پر مبنی لٹریچر کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔بنابریں یہ کہ تما م الہامی کتابیں خواہ وہ کسی بھی زبان کی ہوں اس زبان کے ادب میں سب سے اعلی مقام رکھتی ہیں اور بیشتر ادبی شاہکار مذہبی واخلاقی نوعیت کے ہیں۔اردو ادب سے جس طرح سے دین ومذہب کو دربدر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ ایک طرح سے ادب کے دائرہ عمل کو تنگ کرنے کی سعی بھی ہے۔اگر ادب عالی سے دین ومذہب کو خارج کر دیا جائے تو ہمیں اپنے بیشتر ادبی سرمایے سے ہاتھ دھونا ہوگا:
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شئ کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا





