تعلیم و ترقی کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند دہائیوں میں انسانوں کی ترجیحات میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ان ترجیحات کے نتیجے میں مثبت منفی دونوں ہی طور پر انسانی زندگی کا کم و بیش ہر پہلو متاثر ہوا ہےاور ازداوجی زندگی ان میں سے ایک ہے۔ضروریات،
ہندوستان جیسے ملک میں بھی تعلیم و معیشت کے ارتقا کے ساتھ عوام کی ترجیحات میں بڑا بدلاؤ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر شادی نہ کرنے،
گرچہ فی الحال کوئی ایسی ٹھوس اسٹیٹسٹکس نہیں موجود ہے جس سے پتہ لگایا جاسکے کہ اس وقت عمر گزرجانے کے باوجود غیرشادی شدہ،
۱۔اپنے والدین یا بھائیوں یا رشتے داروں کے ساتھ تنہا یا اپنے بچوں سمیت رہنے والی اس طرح کی زیادہ تر عورتیں اپنے ہی گھر میں ایک ثانوی درجے کی شہری کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔شاذ و نادر گھرانے اس سے مستثنیٰ ہوسکتے ہیں مگر اکثر گھروں میں بالخصوص والدین کی وفات کے بعد ان کی حیثیت ایک خادمہ سے ذرا بھی زیادہ نہیں ہوتی۔دو وقت کی روٹی کے عوض نہ صرف پورے گھر کا کام ان کے ذمہ ہوتا ہے بلکہ صبح و شام کفالت کا طعنہ بھی سنے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔
۲۔خواہ ایسی ماں خود کفیل ہو یا اپنے والدین اور بھائیوں کے زیر سایہ ہو،
۳۔ایک اچھے دماغ اور صحت مند جسم کے لیےجنسی آسودگی بے حد ضروری ہے اور شاید ایک یہ بھی وجہ ہے کہ اسلام رہبانیت اور تصوف جیسی فکر کو بہتر نہیں سمجھتا۔ایسی بنا شوہر والی عورتوں کو ہدف بنانا یا ان کے قدموں کا خود جسمانی ضرورت کی تکمیل میں ڈگمگاجانا بڑا آسان ہوتا ہے۔شاید ہمارے لیے قبولیت مشکل ہوگی مگر سچائی یہی ہے کہ ایسی عورتیں خود اپنے رشتے داروں کے گھروں میں بآسانی جنسی استحصال کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔
۴۔عموماً والدین کی وفات کے بعد ایسی عورتوں کا خود اپنے بھائیوں یا رشتےداروں کے ہاں گزارہ تک ناممکن ہوجاتا ہے اور مجبوراً انھیں مکمل علیحدگی کے ساتھ کسمپرسی اور مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔اسی لیے اکثر ایسی عورتیں اور بچے گلی کوچوں یا مسجد و مندر کے باہر بھیک مانگتے دیکھے جاتے ہیں۔
مذکورہ ہندوستانی مسلم عورتوں اور ان کے بے سہارا بچوں کی تعداد موجودہ وقت میں کئی ملین تک ہے۔اس کے نقصانات اور منفی اثرات مسلم معاشرت اور سماج پر جہیز کی لعنت سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں البتہ ارباب حل و عقد سے اس ضمن میں کچھ سوالات ضرور ہیں۔
نکاح کی افضلیت،
ان علیحدگی کی زندگی گزارنے والے مسلمانوں میں ۸۰ فیصدی عورتیں ہیں،
تعدد نہ صرف جواز بلکہ انسانیت اور بالخصوص عورتوں کو گو نا گوں استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اسلامی امتیاز بھی ہے پھر بھی میں اس پر بات نہیں کروں گا۔کیونکہ جب بھی ایسی بے یارو مددگار عورتوں کے حق میں تعدد کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو ہمارا مفلوج معاشرہ ’’عدل اور معاشرتی عدم قبولیت‘‘کا بہانہ بناکر اس حل کو سرے سے خارج کردیتا ہے۔ان زاہد مبلغوں کو اس قدر بھی علم نہیں کہ عدل ایک سماجی نظام ہے جو عوام کی اس میں حصہ داریوں کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے،
کیا حل یہی ہے کہ ان عورتوں اور بچوں کے لیے بیوہ گھر اور یتیم خانے بنادیے جائیں،
خیر۔۔۔۔۔۔۔سوال اب بھی یہی ہے کہ ان لاکھوں عورتوں اور بچوں کو اسلامی تعدد والے خوبصورت نظام کے تحت اپنا لینا درست ہے یا عدل اور معاشرتی دشواریوں کا خوبصورت بہانہ ڈھونڈھ کر انھیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور چھوڑ دینا بہتر ہے؟ کیا سیکڑوں یا ہزاروں کی تعداد میں ہونے والی جہیز جیسی برائی پر ہی منبرومحراب سے نصیحت ضروری ہے یا لاکھوں کی تعداد میں متاثر ایسی عورتوں کا سہارا بننے اور ان کے لیے موجود اسلامی حل کی منبرومحراب سے ترویج و اشاعت بھی ضروری ہے؟۔۔۔۔۔۔۔نہ بھولا جائے کہ جس طرح جہیز کے خلاف کھل کر منبرومحراب سے بولنے اور عملی اقدام کے بعد کمی آئی ہے ویسے ہی اس میں بھی گفتگو کرنے اور عملی اقدام سے ہی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔





