ممبئی میں صوبائی جمعیت اہل حدیث،
مذکورہ صورت حال میں زیادہ تر معاملات اعتذار کے ہی سامنے آئے البتہ کچھ استثناء کے ساتھ ظلم کے کیسز بھی سنے گئے۔ظلم تو عام حالات میں بھی ہوتا ہے مگر یہاں لاک ڈاؤن کا بہانہ بھی مل گیا۔پھر لاک ڈاؤن میں ماہ رمضان پڑنے کی وجہ سے کلیکشن کی روایت پر تو ضرب پڑی ہی مگر لین دین کے دوسرے ذرائع کا استعمال جاری رہا۔اساتذہ کو تنخواہیں دینے کے نام پر وصولی اور پھر اس رقم کے اساتذہ تک نہ پہنچنے کی بات بھی معتبر علماء کے ذریعے سے پہنچی ہے۔ایک بہت ہی قریبی معاملے میں میرے ایک شناسا کے پاس پورا رمضان دو لاکھ کی رقم پڑی رہی جو صاحب مدرسہ نے استعمال نہ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ دینے والے نے یہ رقم واپس لے لی،
جس طرح کچھ اداروں نے لاک ڈاؤن کو بہانہ بنالیا اساتذہ کو تنخواہیں نہ دینے کا اسی طرح کچھ اصحاب خیر بھی اس مہاماری کے نام پر اپنا ہاتھ روکے رہے۔جب کہ دینے والوں نے تلاش کرکے اپنا متعینہ سالانہ تعاون مستحقین تک پہنچایا۔کرلا ممبئی کے ایک صاحب جو ہر سال ایک ادارے کو پچاس ہزار چندہ دیتے تھے،
جامعہ رحمانیہ کاندیولی ممبئی کے قیام کو پینتیس(۳۵) برس بیت چکے ہیں،
اس وقت ممبئی،
(۱) مولانا امتیاز رحمانی (دہیسر)
(۲) مولانا اعجاز احمد رحمانی (کاشی میرا)
(۳) مولانا فیصل رحمانی (کاشی میرا)
(۴) مولانا عبدالصبور رحمانی
(۵) مولانا نسیم احمد رحمانی (کلیان)
(۶) مولانا وصی الدین رحمانی (مرول)
(۷) مولانا سعود رحمانی (مرول)
(۸) مولانا عبیداللہ رحمانی (مرول)
(۹) مولانا اختر رحمانی (دارالسلام کاندیولی)
(۱۰) مولانا حسین رحمانی (اصلاح المسلمین کاندیولی)
(۱۱) مولانا عزیز الرحمن رحمانی (اصلاح المسلمین کاندیولی)
(۱۲) مولانا انعام الدین رحمانی (گرانٹ روڈ)
(۱۳) مولانا عبدالعزیز رحمانی (باندرہ)
(۱۴) مولانا نسیم احمد رحمانی (باندرہ)
(۱۵) مولانا عبدالمجیب رحمانی (اندھیری)
(۱۶) مولانا انوار الاسلام رحمانی (مالونی)
(۱۷) مولانا افضل رحمانی (مالونی)
(۱۸) مولانا عبدالسلام رحمانی (جوگیشوری)
(۱۹) مولانا جمیل رحمانی (وکرولی)
(۲۰) مولانا عبدالصبور رحمانی (فیض عام ممبرا)
(۲۱) مولانا محمد اجمل رحمانی (رحمانیہ گوونڈی)
(۲۲) مولانا شمشاد عالم رحمانی
(۲۳) مولانا شاہ عالم رحمانی
(۲۴) مولانا عبدالحکیم رحمانی (بدھ نگر مالونی)
(۲۵) مولانا وسیم رحمانی (رحمانیہ ملاڈ)
(۲۶) مولانا عبدالواسع رحمانی(نالاسوپارا)
(۲۷) مولانا عبدالواحد رحمانی (دھولیہ)
(۲۸) مولانا ابو الکلام رحمانی (واپی)
تدریسی خدمات انجام دینے والے علماء ہیں:
(۱) مولانا شاہ عالم رحمانی (کرلا)
(۲) مولانا اقبال رحمانی (اصلاح العلوم کاندیولی)
(۳) مولانا اعجاز خان رحمانی (مالونی)
(۴) مولانا عبدالعزیز رحمانی (رحمانیہ الہاس نگر)
(۴) مولانا فیض الرحمن رحمانی (رحمانیہ،
(۵) مولانا جرار احمد رحمانی (بھیونڈی)
(۶) مولانا شعیب رحمانی (کھیڈ)
(۷) مولانا سلمان رحمانی (واپی گجرات)
(۸) مولانا وسیم رحمانی (واپی گجرات)
(۹) مولانا عثمان احمد رحمانی (گجرات)
اپنے وطن میں درس و تدریس کا کام کرنے والے مولانا شمشاد رحمانی (پرتاپ گڑھ) اور مولانا عبدالجبار رحمانی (دیون ہلی کرناٹک) قابل ذکر ہیں۔جامعہ رحمانیہ میں بھی کئی فارغین نے پڑھایا ہے،
(۱) مولانا عبد الرب رحمانی مدنی
(۲) مولانا جاوید رحمانی مدنی
(۳) مولانا عبداللطیف رحمانی
(۴) مولانا محمد اجمل رحمانی
(۵) مولانا عبداللہ رحمانی
جامعہ رحمانیہ سے فراغت کے بعد امامت و خطابت اور درس و تدریس سے جڑے علماء کی یہ فہرست مکمل نہیں ہے،
کچھ فارغین ممبئی ہی میں دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی کام کررہے ہیں جیسے آئی آئی سی میں مولانا امتیاز رحمانی اور جامعہ رحمانیہ کے شعبہ تحفیظ القرآن سےحفظ اور ابتدائی تعلیم حاصل کرچکے حافظ خلیل الرحمن سنابلی بھی آئی آئی سی میں بحیثیت داعی ومبلغ سرگرم عمل ہیں۔
مستفیدین جامعہ کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کے شعبہ نشر واشاعت کے ہیڈ مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی بھی جامعہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔معروف صاحب طرز قلم کار مولانا عبدالرشید محمد سمیع سلفی بھی ایک زمانے میں جامعہ کے طالب علم رہے ہیں۔
خود فری لانسر جامعہ رحمانیہ سے ایک فارغ خاکسار راقم الحروف(نصیر رحمانی–قلمی نام: ابوالمیزان) اور ایک مستفید ابن کلیم (عبدالرحمن کلیم اللہ فیضی) کا جاری کردہ ہے۔صحافت کا یہ سفر جامعہ رحمانیہ میں دوران طالب علمی مختلف اردو اخباروں میں مراسلہ نگاری،
مولانا منہاج رحمانی کے ایک کلاس میٹ (بیچ ۲۰۰۲)مولانا شمس الدین رحمانی صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی میں کام کرچکے ہیں اور ابھی حائل سعودی عرب میں ہیں۔
قاری نجم الحسن فیضی حفظہ اللہ کی سربراہی میں ۲۰؍جولائی۱۹۸۵ء کو خطیب الاسلام مولانا عبدالرؤف رحمانی جھنڈانگریؒ کے ہاتھوں جامعہ رحمانیہ کی بنیاد چارکوپ کاندیولی (ویسٹ) ممبئی میں رکھی گئی تھی۔
اب ممبئی میں جامعہ رحمانیہ کی مختلف شاخیں ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(۱)مدرسہ اصلاح العلوم کاندیولی
(۲)مدرسہ دارالسلام کاندیولی
(۳)مدرسہ رحمانیہ نالاسوپارا
(۴)مدرسہ ابوبکرصدیق ممبرا
(۵)مدرسہ فرقانیہ گوونڈی
(۶)مدرسہ دارالسلام شیواجی نگر
(۷)مدرسہ محمدیہ وکرولی
(۸)مدرسہ محمدیہ چمڑا بازار دھاراوی
(۹)مدرسہ رحمانیہ بھائندر
(۱۰)مدرسہ رحمانیہ باندرہ
(۱۱)مدرسہ ضیاء العلوم مومن پورہ
(۱۲)مدرسہ اسلامیہ ایم آئی ڈی سی اندھیری
مدینہ سے مولانا پرویز رحمانی صاحب نے ایسے فارغین جامعہ رحمانیہ کی فہرست فراہم کی ہے جو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فارغ التحصیل ہیں یا بروقت وہاں زیر تعلیم ہیں،
(۱)محمد جاوید عبدالعزیز رحمانی( نومبر۲۰۰۶)
(۲)پرویز عالم عطاء اللہ رحمانی( نومبر۲۰۰۶)
(۳)محمد معراج سمیع الحق رحمانی( مئی۲۰۰۷)
(۴)عزیز الرحمان جلال الدین رحمانی( مئی۲۰۰۷)
(۵)عبدالرب عبدالوہاب صدیقی رحمانی(اپریل۲۰۰۹)
(۶)ابوالکلام حساب الدین رحمانی(اپریل۲۰۰۹)
(۷)عبدالرحیم عبدالکریم رحمانی(اپریل۲۰۰۹)
(۸)شمس الاسلام نجم الاسلام رحمانی(مئی۲۰۱۰)
(۹)عبارت حسین عبدالباری رحمانی(مئی۲۰۱۰)
(۱۰)محمد اسلم محمد نسیم رحمانی(مئی۲۰۱۰)
(۱۱)اطیع اللہ کتاب اللہ رحمانی(اپریل۲۰۱۱)
(۱۲)عبدالوکیل رحمانی(اپریل۲۰۱۱)
(۱۳)صدیق نودی رحمانی(اپریل۲۰۱۲)
(۱۴)عبدالخالق عبدالمعید رحمانی(اپریل۲۰۱۲)
(۱۵)شاہ عالم عبدالواحد رحمانی(اپریل۲۰۱۲)
(۱۶)طہ انصاری رحمانی(اپریل۲۰۱۲)
(۱۷)عبدالاحد علاء الدین رحمانی(اپریل۲۰۱۲)
(۱۸)امتیاز احمد رحمانی(اپریل۲۰۱۲)
(۱۹)جنید احمد عبدالوکیل رحمانی(اپریل۲۰۱۳)
(۲۰)چودھری افتخار احمد سراج الحق رحمانی(مئی۲۰۱۴)
(۲۱)محمد رضوان صراط اللہ رحمانی(مئی۲۰۱۴)
(۲۲)سما ہاشم حسین رحمانی(مئی۲۰۱۴)
(۲۳)عبدالمالک محی الدین رحمانی(مئی۲۰۱۵)
(۲۴)سعود احمد محمد رحمانی(مئی۲۰۱۵)
(۲۵)شکیل احمد عبدالعلی رحمانی(مئی۲۰۱۷)
(۲۶)جبران احمد ضمیر احمد رحمانی(مئی۲۰۱۷)
جامعہ رحمانیہ سے فارغین طلبہ جو جامعہ اسلامیہ میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ابھی مقبول ہوئے ہیں:
(۱)عبیداللہ صدیق احمد رحمانی(اپریل۲۰۱۳)
(۲)حسین محمد اقبال رحمانی(مئی۲۰۱۶)
(۳)ضمیر مہدی حسن رحمانی(مئی۲۰۱۶)
(۴)عبدالمجیب عبدالجبار رحمانی(مئی۲۰۱۷)
(۵)محمد ندیم رحمانی(اپریل۲۰۱۸)
جامعہ رحمانیہ سے فارغ ایک بھائی جامعة الملك سعود میں بھی زیر تعلیم ہیں:قمر الدین بدر الدین رحمانی (سن فراغت: مئی۲۰۱۷)
نمائندہ رحمانی مولانا شاہ عالم صاحب:
جامعہ رحمانیہ کے فارغین میں سب سے نمایاں اور نمائندہ نام مولانا شاہ عالم رحمانی صاحب کا ہےجن کا داخلہ جامعہ میں ۱۹۸۶ میں ہوا تھا۔۱۹۹۳کے اخیر میں فراغت ہوئی،
فراغت کے بعد ہی سے مولانا شاہ عالم درس وتدریس اور پھر امامت وخطابت سے جڑے ہوئے ہیں۔سب سے پہلے مولانا نے دو سال (۱۹۹۴-۱۹۹۵)جامعہ رحمانیہ میں ہی پڑھایا۔پہلے سال تنخواہ ۹۰۰ روپئے تھی اور دوسرے سال ۱۱۰۰۔امامت کی خواہش تھی اس لیے پھر سونا پور بھانڈوپ کی اہل حدیث مسجد ومدرسہ تعلیم الاسلام سے وابستہ ہوگئے۔یہاں بھی دو سال (۱۹۹۶-۱۹۹۷) امام وخطیب رہے۔یہاں پہلے سال ۱۲۰۰ اور دوسرے سال ۱۵۰۰ روپئے تنخواہ تھی۔۱۹۹۸ میں بھانڈوپ سے استعفیٰ دینے کے بعد جامعۃ الرشاد کرلا میں۳۵۰۰ ماہوار پر بحیثیت امام وخطیب مامور ہوئے تو مسلسل ۱۳ سالوں تک مسند امامت وخطابت سنبھالا۔پورے کرلا میں یہ اس وقت کی مسجد کے اماموں کو ملنے والی سب سے زیادہ تنخواہ تھی،
مولانا کی میڈیکل رپورٹ’فٹ‘نہیں آئی اس لیے کورس کی تکمیل سے پہلے انڈیا واپس آنا پڑا۔مولانا سعید احمد بستوی کے حکم سے مسجد اہل حدیث اینٹ بھٹی گورے گاؤں میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دینے لگے اور پھر دوبارہ ۲۰۱۳ سے جامعۃ الرشاد کرلا ہی کے بیت المال سے منسلک ہوگئے۔لاک ڈاؤن سے پہلے تک مولانا کا معمول یہ تھا کہ ہر دن کہیں نہ کہیں درس متعین ہے،
مولانا شاہ عالم صاحب نے کچھ تالیفی وتصنیفی کام بھی کیے ہیں۔ان کا تالیف کردہ کتابچہ ’’تعفن زدہ ماحول اور مسلم نوجوانوں کی ذمہ داریاں‘‘۲۴ صفحات پر مشتمل ہے۔کہیں کوئی تاریخ درج نہیں ہے کہ سن اشاعت کا پتہ چل سکے۔’عرض مرتب‘ کے بعد دوسرے ہی صفحہ پر پیش لفظ بعنوان ’اگر جواں ہوں۔۔۔‘اس وقت کے ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی مولانا سعید احمد بستوی صاحب کا لکھا ہوا ہے۔ص۷ پر ’عرض ناشر‘ مولانا عبدالعلی عبدالحکیم فیضی صاحب نے لکھا ہے۔عرض مرتب،
مولانا کا دوسرا ترتیب کردہ کتابچہ ’’رمضان کے مختصر احکام ومسائل‘‘۴۸صفحات پر مشتمل ہے۔جولائی۲۰۱۴ میں ناشر’بیت المال جامعۃ الرشاد سوسائٹی،
قاری نجم الحسن فیضی صاحب کی سرپرستی اور مولانا الطاف حسین فیضی صاحب کی نگرانی میں جامعہ رحمانیہ کاندیولی چند کمروں پر مشتمل ایک چھوٹے سے ادارے سے مختلف مرحلوں سے گزرتا ہوا ممبئی شہر کا سب سے اہم سلفی تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔یہاں سے ایک رسالہ ’صوت الاسلام‘بھی نکلتا ہے جس میں اساتذہ جامعہ کے علاوہ بسااوقات دیگر علماء اور طلبہ کے مضامین بھی شائع ہوتے ہیں۔
مولانا محمد عدیل سلفی،
جامعہ رحمانیہ کا فیضان ابھی جاری ہے،
لاک ڈاؤن اور اس کے بعد ان لاک کے اس جاری پیریڈ میں دیگر اداروں کی طرح جامعہ رحمانیہ بھی مشکل ادوار سے گزر رہا ہے،
نوٹ: یہ مضمون جامعہ رحمانیہ کے قیام وارتقا پر ایک نظر ڈالنے کی بڑی ابتدائی سی کوشش ہے،





