جب امام بخاری اور امام مسلم کو یہ حق حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے سے قبل ائمہ کی تصحیح وتضعیف کی مخالفت کر سکتے ہیں تو آج کے زمانے میں ہمیں یہ حق کیوں نہیں مل سکتا؟؟
احادیث نبویہ کے خلاف دشنام طرازیوں کا سلسلہ بہت قدیم ہے،
چنانچہ زمانہ جس قدر عہد نبوت سے دور ہوتا گیا اسی قدر باطل افکار ونظریات کو ہوا ملتی گئی اور نتیجہ یہاں تک آ پہنچا کہ کچھ لوگ کہنے لگے ہمارے لیے تو بس قرآن ہی کافی ہے سنت کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں،
ایک صاحب ہیں راشد شاز،
مذکورہ اعتراض انھی کی ذہنی اپج ہے۔
اعتراض کا علمی جواب دینے سے قبل چند مثالیں آپ قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔
راشد شاز ہندوستان میں رہتے ہیں،
قارئین کرام! آپ خود سوچیں کہ جس آئین کے مطابق وہ ہندوستان میں زندگی بسر کر رہے ہیں اسی آئین میں تبدیلی یا ترمیم کا حق انھیں نہیں ملتا تو پھر جسے علم حدیث اور جرح وتعدیل کی شد بد نہ ہو اسے یہ حق کیسے مل سکتا ہے کہ وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کو ضعیف قرار دے۔
ایک دوسری مثال لے لیں: میں محمد کلیم الدین یوسف راشد شاز صاحب سے یہ مطالبہ کروں کہ مجھے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا چانسلر بنا دیا جائے،
یقینا لوگ مجھ پر ہنسیں گے کیونکہ جس کا اس یونیورسٹی سے کچھ بھی لینا دینا نہیں،
اگر میں کہوں کہ جب فلاں شخص انسان ہو کر اس یونیورسٹی کا چانسلر بن سکتا ہے تو یہ حق مجھے کیوں نہیں مل سکتا؟
اس بات کو سن کر لوگ ہنسیں گے نہیں بلکہ قہقہہ لگائیں گے،
راشد صاحب ٹھیک اسی طرح ہر ایرے غیرے نتھو خیرے،
آپ جس یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اس میں مجھے چانسلر بننے کا حق نہیں دلوا سکتے نبی کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی احادیث مبارکہ پر زبان چلانے کی اجازت کس حق سے مانگ رہے ہیں؟
یعنی قاعدہ قانون صرف آپ کی یونیورسٹی اور ملک ہندوستان میں چلے گا،
ایک بات اور بتائیں کہ آپ جس یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں کیا اس یونیورسٹی کے چپراسی کو بھی وہی حق حاصل ہے جو آپ کو ہے؟
کیا وہ چپراسی بھی آپ کی طرح کلاس میں جاکر طالب علموں کو پڑھا سکتا ہے؟
آپ کہیں گے کہ نہیں نہیں وہ چپراسی کیسے پڑھا سکتا ہے،
جناب جب ایک چپراسی جو سالوں سے آپ جیسے تعلیم یافتہ افراد اور طالب علموں کے درمیان رہتا ہے اس کے باوجود اسے پڑھانے کا حق حاصل نہیں ہو سکتا تو پھر جو علم حدیث کی یونیورسٹی میں ایک چپراسی کا بھی درجہ نہیں رکھتا ہو،
اگر آپ کا مطالبہ عدل پر مبنی ہے تو پھر آپ علی گڑھ یونیورسٹی میں چپراسیوں کو پروفیسر بنانے کے لیے مطالبہ کرنا بھی شروع کر دیں اور کہیں کہ جب یہاں پڑھنے کی وجہ سے ہمیں پروفیسر بننے کا حق مل سکتا ہے تو انھیں یہاں کام کرنے اور پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انھیں پروفیسر بننے کا حق کیوں نہیں مل سکتا؟
معزز قارئین! مذکورہ مثالوں سے آپ اتنی بات تو سمجھ گئے ہوں گے کہ ہر پڑھا لکھا آدمی محدث نہیں بن سکتا اور یہ بھی سمجھ گئے ہوں گے پڑھے لکھے کے ساتھ رہنے سے بھی کوئی پڑھا لکھا نہیں بنتا،
قارئین کرام!کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کی تصحیح وتضعیف پر اس امت کے علماء نے آنکھ بند کر کے یقین کرلیا ہے،
خود امام بخاری رحمہ اللہ نے جب پورے احتیاط کے ساتھ اور ہر حدیث سے قبل استخارہ کے بعد پوری کتاب مکمل کرلی تو اس وقت کے تین ایسے اماموں پر اپنی کتاب کو پیش کیا جو علم حدیث کے جملہ فنون کے ماہر تھے،
ان تینوں ائمہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب صحیح بخاری کو کلین چٹ دیا اور اس کتاب میں موجود تمام احادیث کی صحت سے اتفاق کیا سوائے چار احادیث کے۔
اور ایسا نہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کے بعد ان کی تصحیح شدہ احادیث کو میزان جرح وتعدیل میں رکھنے کا حق کسی کو نہیں ملا،
اس لیے اس بات کا نعرہ لگانا کہ امام بخاری اور امام مسلم کی تصحیح شدہ احادیث پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں یہ امت مسلمہ کے کو مغالطے میں ڈالنا ہے۔
لہٰذا پہلے اس لائق بنیں کہ آپ کو تصحیح وتضعیف کا حق ملے،





