پوری دنیا میں اسلام دشمنی زوروں پر ہے۔مسلمانوں کے لیے عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔گاہے بگاہے ان پر بلاوجہ کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔بےقصور نوجوانوں سے جیل کی کوٹھری بھری جا رہی ہے۔یہ سب کچھ اسلاموفوبیا کے زیر اثر ہو رہا ہے۔اسلاموفوبیا یہ دو لفظ اسلام اور فوبیا کا مرکب ہے۔جس کا معنی اسلام اور مسلمانوں سے خواہ مخواہ خوف زدہ ہونا ہے۔جو لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کو جنم دیتا ہے۔(۱)
یہ لفظ اسلام کے ساتھ مل کر پچھلی کئی دہائیوں سے استعمال ہو رہا ہے البتہ اس کا عام استعمال 11/9 کے بعد سے کثرت سے ہونے لگا ہے۔(۲)
لیکن اسلامی تہذیب سے ڈرنا،
اسلام کے روز اول سے چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی کی کشمکش جاری رہی ہے۔چاہے وہ دارالندوہ کی میٹنگ ہو،
بھارت میں اسلاموفوبیا
ہندوستان شروع سے ہی ذات پات کے طبقاتی نظام سے جکڑا ہوا تھا۔جس میں اعلی ذات کے لوگ نچلی ذات کے لوگوں کو غلام سمجھتے تھے۔ان پر ظلم و ستم کرنا اور بغض و عداوت عام بات تھی۔وہ چاہ کر بھی ترقی نہیں کرسکتے تھے۔عبادت یا مذہبی کتابوں کا مطالعہ ان کے لیے ممنوع تھا۔ویدوں کے مطابق انسان پورے ایک جسم کی مانند ہے۔اس کا سر برہمن ہے۔اس کے بازو چھتری ہیں۔اس کے ران ویشو اور پاؤں شدر ہیں۔(۶) اسی ترتیب کے لحاظ سے ان کا معاشرے میں مقام و مرتبہ تھا اس لیے ہندوستان کے لوگ قدیم دور سے آپس میں ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے۔اعلیٰ ذات والے اپنے سے کمتر لوگوں سے اور نچلی ذات کے لوگ اعلیٰ ذات کے ظلم و ستم کی وجہ سے انھیں پسند نہیں کرتے تھے۔جب ہندوستان میں اسلام آیا اور اس کے نظام عدل میں سب کے لیے یکساں مقام و مرتبہ دیکھ کر ہندوستانیوں کو یہ انوکھی چیز معلوم ہوئی۔جس کے بعد بہت سارے لوگ مشرف بہ اسلام ہو کر اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں آ کر سکون محسوس کرنے لگے۔ایک بڑی تعداد کے تبدیلئ مذہب سے ’’مہابھارتی‘‘ آگ بگولہ ہوگئے اور ان نچلی ذات سے نفرت کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں سے بھی اسی نوعیت کی عداوت رکھنے لگے۔یہیں سے ہندوستان میں اسلاموفوبیا کی شروعات ہوتی ہے۔یعنی جب سے مسلمانوں نے ہندوستان میں قدم رکھا ہے اسی وقت سے ان سے نفرت و عداوت کی فضا بن گئی تھی۔میں ان لوگوں سے ہرگز متفق نہیں ہوں جو اسلاموفوبیا کا سرا 2014 سے جوڑتے ہیں۔ایسے لوگ سیاسی جانبداری کے شکار ہیں۔انڈیا کی اونچی ذاتوں کی فطرت میں اپنے علاوہ دوسروں سے نفرت کرنا تھا۔گاندھی جیسے شخص بھی اس مرض سے محفوظ نہ رہ سکے۔(۷) البتہ 1915 سے بتدریج اسلاموفوبیا بڑھا ہے۔1915 میں ہندو سبھا کا قیام،
Those only are nationalist patriots, who, with the aspiration to glorify the Hindu race and Nation next to their heart, are prompted into activity and strive to achieve that goal. All others are either traitors and enemies to the National cause, or, to take a charitable view, idiots.(۹)
اس کے مطابق ہندوستان میں ہندوؤں کے علاوہ اگر کوئی رہنا چاہتا ہے تو وہ اس وقت تک ہندوؤں کے رحم و کرم پر رہ سکتا ہے جب تک یہ اسے حقوق شہریت سے محروم رکھ کر غلام کی طرح رکھنا چاہیں یا پھر دوسری صورت یہ کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت کو ہندوؤں کی تہذیب و ثقافت میں ضم کر لے۔(۱۰) گولوالکر وہ شخص ہے جس سے نریندر مودی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔مودی نے گجراتی زبان میں ایک کتاب جیُوتی پنج نامی ان سولہ اشخاص کے بارے لکھا جن سے وہ متاثر تھے اور اس میں گولوالکر کی سوانح عمری کو سب سے زیادہ تفصیل سے ذکر کیا ہے۔(۱۱) جو شخص ایسے آدمی سے متاثر ہو اس کے اسلاموفوبیا کے معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
نریندر مودی یا پورے ہندوستان کی عوام یوں ہی اچانک Radicalize نہیں ہوگئی بلکہ سالوں سے نفرت کرنے کی مختلف شعبوں میں کھیتی کی گئی ہے۔زندگی کے ہر شعبے میں مختلف النوع لوگوں کی الگ الگ انداز میں مسلمانوں کے خلاف ذہن سازی کی گئی ہے۔اگر آپ صرف آر ایس ایس کی قائم کردہ تنظیموں کی لسٹ اور ان میں دی جا رہی تعلیم و تربیت پر نظر ڈالیں گے تو دنگ رہ جائیں گے۔اگلے چند سطور میں کچھ تنظیموں کے نام سن قیام کے ساتھ ذکر کیے جا رہے ہیں:
1936 راشٹریہ سیویکا سمیتی: آر ایس ایس کا خواتین ونگ (۱۲)
1949 اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی): طلبہ ونگ(۱۳)
1952 سرسوتی ششو مندر: نرسری اسکول(۱۴)
1954 ون واسی کلیان آشرم دلتوں کی تربیت اور ان کی ذہن سازی کے لیے قائم کیا گیا تھا(۱۵)
1955 بھارتیہ مزدور سنگھ(۱۶)
1964 وشو ہندو پریشد: گولوالکر کی ہندو مذہب کی حفاظت کے لیے قائم کردہ تنظیم ہے۔آر ایس ایس کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق اسے لوگوں کے مذاہب کو تبدیل کرکے ہندو بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔(۱۷) یہ تنظیم گئورکھشا کے نام پر قتل وغارت گری کرنے اور بابری مسجد کے انہدام میں پیش پیش رہ چکی ہے۔(۱۸) اسے CIA امریکا نے 2018 میں مذہبی جنگجو تنظیم قرار دیا تھا۔(۱۹)
1972 اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت(۲۰)
1977 ودیا بھارتی: 2016 کی رپورٹ کے مطابق اس کے تحت 12,000 اسکول 250 انٹرمیٹییٹ کالج،
1978 اکھل بھارتیہ اتہاس سنکلن یوجنا: ہندوستانی تاریخ کو نئے سرے سے ہندوتوا بنیادوں پر مرتب کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔(۲۲)
1982 ہندو جاگرن منچ: ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بدظن کرنے کا کام کرتی ہے۔دو ہزار چودہ میں 50 مسلم خاندانوں کو جبراً تبدیلئ مذہب کے لیے سرخیوں میں رہ چکی ہے۔(۲۳)
1986 راشٹریہ سکھ سنگت: سکھوں کی ذہن سازی کے لیے قائم کیا گیا۔(۲۴)
1986 آر ایس ایس کے اصولوں اور اس سے انسپائر ’’سنکلپ‘‘ کے پورے انڈیا میں 11 کوچنگ سینٹر ہیں۔اس کا دراصل قیام انٹرویو گائیڈنس کے طور پر ہوا تھا پھر 2001 سے باضابطہ کوچنگ دی جانے لگی،
1988 اکھل بھارتیہ راشٹریہ شکچھک مہا سنگھ: اس تنظیم کی ماتحتی میں اساتذہ کی ایسی تربیت کی جاتی ہے تاکہ یہ اپنے عملی زندگی میں بچوں کو ہندوانہ طور طریقے کے مطابق ڈھال سکیں۔ویسے تو اس سے جڑے ہوئے اساتذہ ہندوستان کے تمام مرکزی اداروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔لیکن ان کی کوشش ہے کہ ابتدائی کلاسوں سے لے کر اعلی تعلیمی درجات کے ہر شعبہ میں ان کا اپنا ایک سینٹر ہو۔جس کے لیے ان کی کوششیں جاری ہیں۔اس کے لیے انھوں نے کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ کلوزڈ ڈور میٹنگیں بھی کی ہیں تاکہ ان کے مقاصد سرکاری سرپرستی میں مکمل ہوں۔جیسا کہ 23 اگست 2018 کی اتراکھنڈ کے وزیر اعلی کے ساتھ میٹنگ کی خبریں موضوع بحث بنی تھیں۔(۲۶)
1991 درگا واہنی: وشو ہندو پریشد کا خواتین ونگ(۲۷)
1992 اکھل بھارتیہ ادِھوکتا پریشد: وکلاء کی تنظیم(۲۸)
1993 اکھل بھارتیہ پوروَ سینک سیوا پریشد: ریٹائر فوج کی خدمات حاصل کرنے کے لیے(۲۹)
2002 مسلم راشٹریہ منچ: مسلمانوں کو ہندوتوادی فکر کا ہم خیال بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔(۳۰)
2012 بھارتی گئو رکھشا دل(۳۱)
2020 رجّوبھیّا سینیک ودیا مندر: یوں تو آر ایس ایس اپنی شاکھاؤں میں ہتھیاروں کی ٹریننگ دیتی رہی ہے۔البتہ اب باقاعدہ اپریل 2020 سے ان کا آرمی اسکول شروع ہو چکا ہے۔کورونا کی وجہ سے اب تک ایڈمیشن کی کارروائی جاری ہے۔(۳۲)
اوپر صرف چند ایسی تنظیموں کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کا براہ راست آر ایس ایس سے تعلق ہے۔جن میں تنظیم کے عنوان پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ممبران کے ذہن میں مسلم دشمنی کو اتارا جاتا ہے۔ان لوگوں نے معاشرے کے ہر فرد کے لیے اس کے معیار کے مطابق کام کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ریڑھی والے سے لے کر اعلیٰ عہدیداران تک تمام لوگ اسلاموفوبک ہیں۔آج جو قانون رہتے ہوئے قانون نہ رہا اور عدالت مجبور و بے اثر ہوگئی یہ اسی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
بھارت میں بڑھتے اسلاموفوبیا کے مظاہر
انڈیا میں اسلاموفوبیا معاندانہ رویہ اختیار کر چکا ہے۔مسلمانوں کی شناخت سے لے کر ان کے وجود کے خاتمہ کی سعی کی جارہی ہے۔ان کی تاریخ سے لے کر ذاتی زندگی تک داؤ پر ہے۔مسلم پہچان کو کھرچ کھرچ کر مٹایا جارہا ہے۔دہلی کی میونسپل کونسل نے 2 ستمبر 2015 کو وہاں کے اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کرکے عبدالکلام روڈ کردیا۔(۳۳) یوپی حکومت نے 5 اگست 2018 کو مغل سرائے جنکشن کا نام آر ایس ایس کے رہنما کے نام پر پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن،
باریش مردوں اور باپردہ عورتوں کو ملازمت سے بے دخل کر دیا جا رہا ہے۔مسلمانوں کو سوسائٹی اور اپارٹمنٹ میں گھر دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔(۳۸) ان کو ٹوپی اور داڑھی کی وجہ سے ہوٹلوں سے نکال دیا جاتا ہے۔(۳۹) انڈین ائیر فورس کے انصاری آفتاب احمد نے عدالت میں 24 فروری 2003 سے 10 دسمبر 2016 تک داڑھی رکھتے ہوئے ملازمت کے لیے پیروی کی لیکن انڈین ایئر فورس نے سپریم کورٹ کو یہ کہتے ہوئے ملازمت کی اجازت نہیں دی کہ ’’صرف ان لوگوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے جن کے مذہب میں واضح طور پر بال کاٹنے سے منع کیا گیا ہو،
آج کل بم دھماکوں کی آوازیں بعد میں آتی ہیں۔پہلے یہ الزام لگتا ہے کہ یہ کسی مسلمان نے کیا ہوگا۔جب معلوم پڑتا ہے کہ کوئی بم دھماکا ہوا ہی نہیں تھا تو اشتعال انگیزی،
اسباب
آئیے اب دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اتنی تیزی سے بڑھتے اسلاموفوبیا کے پیچھے کون سے اسباب ہیں۔پچھلے صفحات میں اس کے چند بنیادی اسباب ضمناً ذکر کر دیے گئے ہیں۔جیسے مسلمانوں کا اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنا،
ہندوؤں کی ذہنیت
ہندوؤں کے مذہب میں اتنی خرابیاں ہیں کہ لوگ اگر اس کی تعلیمات پر سرسری نگاہ بھی ڈالیں گے تو وہ اس سے متنفر ہو جائیں گے اور ممکن ہے کہ ہندومت کو ترک کرکے کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلیں۔اس لیے ان کے مذہبی رہنماؤں اور ذات پات کی تفریق کے مدعیان نے اپنے مذہب کے دوسرے ہم پایہ مذاہب کے خلاف ریشہ دوانیاں کیں۔چونکہ تمام مذاہب میں سے سب سے بڑا مد مقابل اسلام ہی تھا۔اس لیے اس کے خلاف سب سے زیادہ پروپیگنڈہ کیا گیا۔جس کے باعث لوگ اسلام اور مسلمانوں سے بدظن اور شکوک و شبہات میں مبتلا ہوگئے۔اگرچہ یہ وقتی طور پر لوگوں کو اسلام کی طرف مائل ہونے سے روک سکے لیکن ہندومت کی گمراہیاں ہندوؤں کو الحاد کے گود میں جانے سے نہیں روک پا رہی ہیں۔آج ہندوؤں کی اکثریت خود کو سیکولر ہندو کہلوانا پسند کرتی ہے۔رہے وہ لوگ جو خود کو کٹر ہندو کہتے پھرتے ہیں۔وہ بھی چند رسم و رواج کے علاوہ ہندومت کی بیش تر تعلیمات کو ناقابل عمل مانتے ہیں۔
میڈیا
ہندوستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں میڈیا کی مختلف جہتوں نے الگ الگ انداز میں اسلامو فوبیا پھیلانے کا کام کیا ہے۔
پرنٹ میڈیا
انڈیا میں پرنٹ میڈیا کے شعبے میں ہندی اخبار بڑے پیمانے پر جانبدارانہ رپورٹنگ اور خبروں پر تجزیہ کرتی ہے۔خبروں اور سرخیوں کو اس انداز میں ڈھالا جاتا ہے کہ وہ ہندوؤں کے جذبات کے موافق ہوں اور جب خبریں ہندو مسلم مسائل سے جڑی ہوں تو اخبار ایک خاص فریق کا طرفدار اور اس کی نیابت کرتا نظر آتا ہے۔ہندو تہواروں پر ہندی اخباروں کا ایسا منظر ہوتا ہے گویا یہ اخبار نہ ہوں بلکہ کوئی مذہبی روزنامچہ ہو اور یہ ہندی نہیں بلکہ ’’ہندو اخبار‘‘ ہو۔یہ رویہ اگر کسی خاص مذہبی،
الیکٹرانک میڈیا
پورے ملک میں پرائیویٹ نیوز چینل اور فلم انڈسٹری نے مسلمانوں کے خلاف ذہن سازی کی ہے۔جب تک پرائیویٹ نیوز چینل نے خبر رسانی میں قدم نہیں رکھا تھا اور صرف حکومت کی جانب سے دور درشن اکیلا چینل تھا تو ٹی آر پی کی لڑائی میں فرقہ واریت کا ماحول نہیں تھا۔پھر جب اس میدان میں پرائیویٹ نیوز چینل آئے تو ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی لیکن جوں جوں ان میں تجارتی عنصر غالب آتا گیا توں توں ان کی صورتیں بگڑنے لگیں۔ان کے پروگرام ریٹنگ کی بنیاد پر تیار کیے جانے لگے،
فلم انڈسٹری
ذرائع ابلاغ میں فلم پیغام رسانی کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔یہ معاشرے کے ناخواندہ طبقہ سے لے کر دانشور گروہ تک کو یکساں طور پر متاثر کرتا ہے۔اسے غریب سے غریب شخص اور امیر سے امیر ترین فرد بھی دیکھتا ہے۔اسی وجہ سے یہ صرف ابلاغ وترسیل کا ذریعہ نہیں ہے۔بلکہ کامیاب تجارتی میدان اور نظریاتی جنگ کا وسیلہ ہے۔اسی کے پیش نظر فلموں میں وہی کانٹینٹ پروسا جاتا ہے جس کی زیادہ مانگ ہو۔اور ان مضامین پر زیادہ فلمیں بنائی جاتی ہیں جسے عوام کی اکثریت پسند کرے۔اسی لیے جب معروف فلم ہدایت کار مہیش بھٹ سے نومبر 2011 کو پیس کانفرنس،
مہیش بھٹ کی بات درست ہے کہ ایسی فلمیں اچھا بزنس نہیں کر پاتیں،
بلاشبہ ہر سماج کے اندر چند برے لوگ ہوتے ہیں لیکن میڈیا بڑی عیاری کے ساتھ بری شبیہ والے مسلمانوں کے کردار کو فلماتی ہے۔مثال کے طور پر اگر کہیں بم بلاسٹ ہوا اور اس کے مجرمین غیر مسلمین پائے گئے تو میڈیا انھیں ملیٹین،
سوشل میڈیا
سوشل میڈیا کو جہاں لوگوں نے مثبت افکار کی اشاعت کا ذریعہ بنایا ہے،
مسلم آبادی کا ہوّا
مسلمانوں کی بڑھتی آبادی سے ہندوستان کے باشندوں کو خوفزدہ کیا گیا کہ مسلمانوں کی سازش ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کیے جائیں اور اپنی آبادی بڑھائی جائے تاکہ جب وہ اکثریت میں ہو جائیں تو انڈیا ان کے قبضے میں چلا جائے اور یہ ایک نیا ’’پاکستان‘‘ بن جائے۔جس کی وجہ سے 2050 کے بعد بھارت کا کوئی پردھان منتری ہندو نہیں بن پائے گا۔یہی بھرم آزادی کے بعد بھی پھیلایا گیا تھا کہ مسلمان اتنی تیزی سے بڑھیں گے کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہندوؤں سے زیادہ ہوجائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی رفتار دھیمی ہو رہی ہے۔ہر سال ہندوؤں کی اتنی آبادی بڑھ جاتی ہے جتنی مسلمانوں کی کل آبادی ہے۔مسلم آبادی کا خوف دلا کر لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی کہ اگر مسلمانوں کی حکومت آگئی یا وہ اس ملک کے وزیراعظم بن گئے تو ہندوؤں کے حقوق سلب کر لیے جائیں گے،
اسلام کے تعارف کے غلط ذرائع
کوئی بھی غیر مسلم اسلام کو دو طریقے سے جانتا ہے:(۱)مسلمانوں کو دیکھ کر (۲)ذرائع ابلاغ سے۔پہلے طریقے سے اسلام کو جاننے والے مزید گمراہ ہو جاتے ہیں۔مسلمانوں کی بستیاں اور ان کی نجی زندگی اسلام کے بالکل برعکس ہے۔ایسے لوگوں کے لیے گلی کے لفنگے سے لے کر داعش کے دہشت گرد تک اسلام مخالف ذہن بنانے میں مدد کرتے ہیں۔اسی لیے علماء کو کہنا پڑتا ہے کہ اسلام کا مطالعہ مسلمانوں کو دیکھ کر نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے ذریعہ کرنا چاہیے۔
دوسری قسم کے وہ لوگ جو اسلام کو کتابوں اخباروں اور فلموں کے ذریعہ سمجھتے ہیں۔اخبارات اور فلموں پر تبصرہ اوپر گزر چکا ہے۔البتہ جو لوگ اسلام کا مطالعہ کتابوں کے ذریعہ کرنا چاہتے ہیں انھیں جو کتابیں میسر آتی ہیں وہ یا تو مستشرقین کی لکھی ہوئی ہوتی ہیں یا ان کی لکھی ہوئی کتابوں سے مستفاد ہوتی ہیں۔آپ اس سے بخوبی واقف ہوں گے کہ ان کتابوں میں اسلام کے تئیں کیسے کیسے مغالطے پھیلائے جاتے ہیں۔جیسے مسلمان عورتوں کو قید میں رکھتے ہیں۔غیر مسلموں کو مار ڈالتے ہیں اور اپنا مذہب جبر و تشدد کے ذریعے پھیلاتے ہیں وغیرہ۔
مستشرقین نے اسلام پر اتنی کتابیں تصنیف کی ہیں کہ اس موضوع پر عربی،
لسانی یورش
مسلمانوں سے نفرت و عداوت کی بنیاد ہی شبہات و اعتراضات پر رکھی گئی ہے۔مسلمان اپنے تئیں پرانے الزامات سے تو جوجھ ہی تھے مگر روز بروز نئے نئے طریقے سے ان پر ہورہی حرف گیری ان کے لیے مزید پریشان کن ہوتی جا رہی ہے۔اس کی وجہ سے لوگ ان سے اور بھی متنفر ہو رہے ہیں۔اسلاموفوبیا جڑ پکڑتا جارہا ہے۔کل تک لوگوں کو پریشانی مسلمانوں سے نہیں بلکہ اسلام سے تھی۔صرف وہ لوگ مورد الزام ٹھہرتے تھے جو مکمل اسلام پر عمل پیرا تھے یا داڑھی،
اشتعال انگیز بیانات
بے شمار شبہات اور من گھڑت اعتراضات و الزامات کو بنیاد بنا کر لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے۔ان سے کہا جاتا ہے کہ گائے ہماری ماں ہے۔اس کو ذبح کرنا اور کھانا ناقابل معافی جرم ہے۔جس کی سزا دینے کا حق خود وہ رکھتے ہیں۔ایسا نہ کرنے والوں کو بزدل اور دیوث کا طعنہ دیتے ہیں۔گئو ہتیا اور لو جہاد کی روک تھام کے لیے اے کے 47 اور تِرشول و بھالے کی تربیت ہندوتوا کے لیے فخر بتلاتے ہیں۔جس کا برسرعام اظہار کرنے سے کبھی نہیں کتراتے ہیں۔ان باتوں سے مسلموں کے تئیں ہندوؤں میں نفرت و عداوت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔جس کا سیدھا فائدہ مشتعل لیڈروں کو ہوتا ہے۔
ہندوتوادی حکومت
اشتعال انگیز بیانات پر چُن کر حکومت میں آنے والے سیاست دانوں کی منشا ہوتی ہے کہ جس جذباتیت کے سہارے وہ اقتدار کی کرسی تک پہنچے ہیں اس کو کبھی سرد نہ ہونے دیں بلکہ وہ ہمیشہ جواں رہے۔جس کے لیے وہ ہر شعبے کو مہر بلب کر دیتے ہیں یا اس کی کمر توڑ دیتے ہیں جو ان کے کھیل میں رخنہ انداز ہوسکے۔جب شکنجہ کسنے والوں کو ہی پژمردہ کردیا جائے تو اسلاموفوبیا کی مسموم لہر پھیلنا لازمی ہے۔اس کے بعد کل تک جو سر پھرے بلوائی یوں ہی بھٹک رہے تھے ان کی ہندوتوادی حکومت سرپرستی کرنے لگتی ہے۔جو بے بنیاد الزامات تھے انھیں ثبوت فراہم ہونے لگتے ہیں۔اب تک جو اپنے پچھلے گناہوں کی وجہ سے کورٹ کا چکر کاٹ رہے تھے یا جیل کی چکی میں پِس رہے تھے انھیں ’’باعزت بری‘‘ کر دیا جاتا ہے۔کل تک جو مجرم تھے اب وہ مؤقر عہدیدار اور وزارتِ عظمٰی کے رکن بن جاتے ہیں۔ان سے حوصلہ پا کر گلی کے چور اچکے بھی اس امید میں وہی ہڑبونگ مچانے لگتے ہیں کہ کہیں ہمیں بھی اس طفیل میں وزارتِ عظمیٰ کی رکنیت میسر ہو جائے۔
سد باب
اسلام سے وابستگی
آج مسلمانوں کو درپیش تمام مسائل صرف اس وجہ سے ہیں کہ وہ ایک اللہ کو الٰہ و معبود مانتے ہیں۔ان مسائل کا حل بھی اسلام پر مکمل عمل پیرا ہونے میں ہی پنہاں ہے۔(۵۲) جب ہم پر مسلمان ہونے ہی کی وجہ سے مشکلات کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور جب تک ہمارا اسلام سے ذرہ برابر بھی تعلق رہے گا ہمیں یوں ہی پریشان کیا جاتا رہے گا۔تو کیوں نہ ہم اسلام پر مکمل عمل پیرا ہو کر ان مشکلات کا مقابلہ کریں۔یہ کتنی بڑی بد نصیبی ہے کہ ہمیں مسلمان ہونے کی وجہ سے پریشان کیا جاتا ہے اور ہم مسلمان بن کر اپنی زندگی گزارنا نہیں چاہتے۔جب کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان سے وابستگی پر کامیابی کا وعدہ کر رکھا ہے۔تو پھر انجام کار سے گھبرانا کیسا؟ حالانکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسلمانوں کو ماضی میں جو سر بلندی ہاتھ آئی تھی وہ اسلام سے وابستگی کی ہی بنیاد پر آئی تھی اور اگر آئندہ کبھی انھیں کامیابی مل سکتی ہے تو وہ اسی راستے سے مل سکتی ہے۔جس کا اعتراف کرتے ہوئے عمر بن فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: ’’إنا كنا أذلَّ قومٍ فأعزَّنا اللهُ بالإسلامِ فمهما نطلبُ العزَّ بغيرِ ما أعزَّنا اللهُ به أذلَّنا اللهُ‘‘(۵۳) ہم لوگ بہت پسماندہ قوم تھے۔ہمیں اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت عطا کی ہے جب بھی ہم اس کے علاوہ عزت حاصل کرنا چاہیں گے اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔
صحیح دین پر عمل
اسلام پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کی حقیقی تعلیمات پر عمل کیا جائے خصوصاً معاملات میں جیسے وراثت میں انصاف،
اخلاق حسنہ
قرآن و حدیث میں اخلاق حسنہ کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔(۵۴) مسلمانوں کو ہر میدان میں اپنے بہتر ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔جذباتیت سے گریز،
رفاہی کام
مسلمانوں کو چاہیے کہ اُن معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں جن میں تمام لوگوں کے مصالح مشترک ہوں۔
اجتماعیت
اسلاموفوبیا اجتماعی سطح پر پھیل رہا ہے۔اس لیے اس کے تدارک کے لیے بھی اجتماعی کوششیں کرنی ہوں گی انفرادی کوششوں کا اثر دیرپا نہیں ہوتا ہے۔
بین المذاہب مکالمہ
اپنے علاقے کے غیر مسلم سے تعلقات استوار کریں خصوصاً ان لوگوں سے جن کے بارے میں یہ خدشہ ہو کہ یہ اسلاموفوبیا کی زد میں آسکتے ہیں۔ممکن ہے آپ سے ملنے کے بعد ان کے ذہن میں مسلمانوں کی ’’خیالی تصویر‘‘ محو ہو جائے۔ان کو اپنے قریب لانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔انھیں سماجی و دینی پروگراموں میں مدعو کریں۔انھیں بتلائیں کہ اسلام اپنے علاوہ دوسرے مذاہب اور ان کے معبودان کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔(۵۵) اسی طرح مدارس و جامعات میں ادیان و مِلَل کے تعارف پر کتابیں داخل نصاب کی جائیں تاکہ اسلام اور دوسرے مذاہب کے موازنہ اور بین المذاہب مکالمہ میں آسانی ہو۔
اسلامی تعلیمات کو عام کرنا
غیر مسلمین مستشرقین کی اسلام پر لکھی ہوئی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہو رہے ہیں۔ان کے لیے صحیح اور حقائق پر مبنی کتابیں،
شبہات و اعتراضات کا جواب
اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کی تاریخ پر لگائے جارہے ہر الزام کا علیحدہ علیحدہ تشفی بخش جواب دیا جائے۔اور اس کو عام کرنے کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جس سے وہ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچے۔
دعوت الی اللہ
اسلام کے تعارف اور شبہات کے ازالہ کے ساتھ ساتھ ان کو حکیمانہ انداز میں اسلام کی دعوت دی جائے۔(۵۸) دعوت کے نئے نئے اسلوب کو اپنایا جائے۔معاشرے کے ہر طبقے کے لیے دعوت کا مخصوص انداز ہو۔ان کو مساجد و مدارس اور اسلامی مراکز میں مدعو کیا جائے۔
اعلیٰ تعلیم
ملک کے ہر شعبے میں مسلمانوں کی رسائی ممکن بنائی جائے،
میڈیا
میڈیا کی دوغلی پالیسی کے ردعمل میں اچانک پورا میڈیا انفراسٹرکچر کے قیام کا مشورہ دینا کسی طور پر درست نہیں ہے اور نہ ہی یہ اتنا آسان ہے۔بےشک مسلمانوں کی اپنی میڈیا سروس ہو۔لیکن ابھی ہنگامی ضرورت کے تحت مسلم جماعتوں کی جانب سے اعلیٰ قسم کے ویب پورٹل اور یوٹیوب چینل شروع کروایا جائے۔ابھی چند سالوں سے ویب پورٹل اور سوشل سائٹس کی کافی اہمیت بڑھ گئی ہے۔لہذا یہاں مستحکم محاذ تیار کیا جائے اور جب یہاں بہتر نتیجے آنے لگیں تو دھیرے دھیرے میڈیا سروس کا بھی آغاز ہو۔
اسلاموفوبیا کے واقعات کی رپورٹ درج کروائیں
دیکھا جاتا ہے کہ اسلاموفوبیا کے واقعات سے مشتعل ہو کر احتجاج و مظاہرے تو خوب ہوتے ہیں۔لیکن ان کی مناسب قانونی چارہ جوئی کی فکر نہیں کی جاتی ہے۔جبکہ اصل لڑائی پولیس اسٹیشن اور کورٹ میں لڑی جاتی ہے۔سیاسی بساط پر کچھ بھی جاری ہو لیکن قانونی لڑائی کا اثر ہمیشہ مثبت ہی رہتا ہے۔اس لیے اسلاموفوبیا کے ادنیٰ سے ادنیٰ معاملہ کی رپورٹ درج کروائیں اور اس کے لیے قابل وکیلوں کا انتخاب کریں۔انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو ایسے معاملات کی خبریں پہنچائی جائیں،
ہندوتوا کی منشا کی وضاحت
مسلمانوں کو چاہیے کہ دفاعی پوزیشن سے اوپر اٹھ کر اقدامی رویہ اپنائیں۔جس طرح وہ اسلام کے تعارف اور دعوت الی اللہ کے لیے توانائی صرف کرتے ہیں۔اسی طرح وہ واضح کریں کہ کس طرح ہندوتوادی دس فیصد برہمنوں کو ۸۰ فیصد ہندوستانیوں پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔منوسمرتی کا احیا چاہتی ہے۔منوسمرتی کی طبقاتی تعلیمات اور غیر انسانی قوانین کس طرح انسانیت مخالف ہیں۔یہ لوگ دوسروں کو اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔صرف انھیں مسلمانوں سے بیر نہیں ہے بلکہ عیسائیوں،
اخلاص اور دعا
اسلاموفوبیا کے مقابلے کے لیے اعلی درجہ کا اخلاص و للہیت چاہیے۔نمائشوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔اسی طرح اپنی تمام کوششوں کے بعد اللہ پر توکل و یقین رکھیں کہ ان شاء اللہ ہمیں فتح ملے گی اور اللہ سے کامیابی کی دعائیں کرتے رہیں۔
وَٱصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِی ضَیۡقࣲ مِّمَّا یَمۡكُرُونَ(۵۹)
اور صرف اور صرف اللہ پر صبر و توکل کریں۔ان کے بارے میں غمزدہ نہ ہوں اور نہ ہی ان کی ریشہ دوانیوں سے کبیدہ خاطر رہیں۔
———————-
(۱)Muslim in the west: From Sojourners to Citizens by Yvonne Yazbeck Haddad, Oxford University Press, New York,2002, P:19
(۲)New Muslim in the European context: The Experience of Scandinavian converts by Anne Sofie Roald, Brill,Boston,2004, P:53
(۳)القرآن؛
(۴)القرآن؛
(۵)القرآن؛
(۶)رگ وید؛
(۷)تفصیل کے لیےملاحظہ ہوں ارندھتی رائے کی کتاب The Doctor and the Saint: Caste, Race, and Annihilation of Caste, the Debate Between B.R. Ambedkar and M.K. Gandhi, Haymarket Books, Chicago,2017
(۸)We or Our Nationhood Defined by M.S. Golwalkar, Bharat Parakashan, Nagpur,1947, P:53
(۹)ibid: P:52
(۱۰)ملاحظہ ہوں کتاب کا چوتھا اور پانچواں مضمون ص: 48تا59
(۱۱)ملاحظہ ہوں Jyotipunj by Narendra Modi,Translated into English by A.K. Gandhi,Prabhat Prakashan, New Delhi, P:43-75
(۱۲)https://www.rss.org//Encyc/2012/10/22/rss-vision-and-mission.html
(۱۳)https://en.wikipedia.org/wiki/Akhil_Bharatiya_Vidyarthi_Parishad
(۱۴)https://en.wikipedia.org/wiki/Vidya_Bharati
(۱۵)https://en.wikipedia.org/wiki/Vanavasi_Kalyan_Ashram
(۱۶)https://www.rss.org/hindi/Timeline.html
(۱۷)https://www.rss.org//Encyc/2012/10/22/rss-vision-and-mission.html
(۱۸)https://en.wikipedia.org/wiki/Vishva_Hindu_Parishad
(۱۹)https://theprint.in/india/governance/cia-document-tags-vhp-and-bajrang-dal-as-militant-religious-outfits/70409/
(۲۰)https://www.rss.org/hindi/Timeline.html
(۲۱)https://en.wikipedia.org/wiki/Vidya_Bharati
(۲۲)https://en.wikipedia.org/wiki/Akhil_Bharatiya_Itihas_Sankalan_Yojana
(۲۳)https://en.wikipedia.org/wiki/Hindu_Jagran_Manch
(۲۴)https://www.rss.org/hindi/Timeline.html
(۲۵)ذکر کردہ معلومات مضمون نگار نے سنکلپ کی دھیرپور،
(۲۶)https://www.newsclick.in/rss-affiliate-set-its-units-all-educational-institutions-uttarakhand
(۲۷)https://en.wikipedia.org/wiki/Durga_Vahini
(۲۸)http://www.adhivaktaparishad.org/
(۲۹)http://abpssp.org/
(۳۰)http://www.muslimrashtriyamanch.org/
(۳۱)http://bgrd.org/
(۳۲)http://www.rbsvm.in/
(۳۳)https://www.firstpost.com/india/renaming-aurangzeb-road-after-apj-abdul-kalam-new-delhi-was-inspired-by-history-not-bigotry-2416606.html
(۳۴)https://www.indiatoday.in/india/story/mughalsarai-station-now-deen-dayal-upadhyay-1305833-2018-08-05
(۳۵)https://www.indiatoday.in/education-today/featurephilia/story/allahabad-to-be-renamed-as-prayagraj-a-look-at-up-govt-s-renaming-streak-1368908-2018-10-16
(۳۶)https://www.thehindu.com/news/national/faizabad-district-to-be-renamed-as-ayodhya-yogi-adityanath/article25434603.ece
(۳۷)https://www.tribuneindia.com/news/archive/features/mustafabad-renamed-saraswati-nagar-194618t
(۳۸)https://www.cnbctv18.com/views/muslims-not-allowed-the-stereotypes-of-mumbais-rental-property-market-6970051.htm
(۳۹)https://www.bbc.com/hindi/india-54265779
(۴۰)https://www.indiatoday.in/amp/india/story/indian-air-force-supreme-court-dress-code-beard-357634-2016-12-15
(۴۱)https://twitter.com/GhazalaAhmad5/status/1301116493090836480?s=08
(۴۲)https://scroll.in/article/877901/in-gurgaon-hindutva-groups-stop-friday-namaaz-in-several-open-spaces
(۴۳)Report of the Fact-Finding Committee on the North-East Delhi Riots of February 2020, Prepared for Delhi Minorities Commission, by the Fact-Finding Committee headed by M.R. Shamshad, Published on 16 July 2020, P:30
(۴۴)ibid: P:36
(۴۵)https://thewire.in/women/delhi-riots-women-sexual-harassment
(۴۶)Report of the Fact-Finding Committee on the North-East Delhi Riots of February 2020, P:42-55 & 126
(۴۷)ibid: P:54
(۴۸)مزید معلومات کے لیے وزٹ کریںhttps://www.barcindia.co.in/
(۴۹)Mahesh Bhatt 's Feeling about Islam at Peace Conference https://youtu.be/s6ox34rspAo
(۵۰)The Making of Lynchistan: Inside India's Deadly 'Gau Raksha' Network, Documentary by The Quint https://youtu.be/UaCtvYtV2f0
(۵۱)Orientalism by Edward W. Said, Penguin Books, London, 2003, P:204
(۵۲)القرآن؛
(۵۳)مستدرک حاکم:207،
(۵۴)القرآن؛
الحدیث؛
(۵۵)القرآن؛
(۵۶)القرآن؛
(۵۷)القرآن؛
(۵۸)القرآن؛
(۵۹)القرآن؛





