خالص فقہ الحدیث پر لکھی گئی اسلامی تاریخ کی اول کتاب امام ابو داود رحمہ اللہ کی ’سنن‘ ہے۔فقہ اسلامی سے دلچسپی رکھنے والے علماء وطلبہ کو اس کتاب سے استفادہ کرنا چاہیے۔امام ترمذی رحمہ اللہ کی جامع اور امام بخاری رحمہ اللہ کی صحیح بھی فقہ الحدیث پر کام کرنے والوں کے لیے بے حد معاون ہے۔لیکن افسوس ان لوگوں پر جو فقہ اسلامی پر کمال وعبور کا دعوی کرتے ہیں اور شریعت کے احکام کی دلیلوں کے لیے کتب حدیث کو ترک کرکے ادھر ادھر کا چکر لگاتے ہیں۔شرعی مسائل کے بنیادی دلائل کتاب وسنت ہیں اور اسی پر غور وخوض اور مسائل کے استنباط کا اصل نام فقہ ہے۔فقہ کے نام پر الم غلم دلیلوں اور مسائل کو جمع کرنا،
ذیل کے سطور میں امام ابوداود رحمہ اللہ کی زندگی سے متعلق چند اہم معلومات قلمبند کی گئی ہیں:
امام ابو داود کا زمانہ:
امام ابو داود رحمہ اللہ تیسری صدی ہجری کے شروع۲۰۲ھ میں پیدا ہوئےاور ۲۷۵ ھ میں وفات پائی۔اس طرح ان کی ساری زندگی تیسری صدی ہجری ہی میں گزری۔یہ پورا دور عباسی حکمرانوں کا تھا۔مامون،
علوم حدیث پر بھی بڑا کام ہوا۔کتب حدیث اور مصطلح کی بے شمار کتابیں منظر عام پر آئیں۔اس زمانے کے علماء نے علم حدیث کی جو خدمات انجام دیں اس کو جاننے کے لیے محمد بن جعفر کتانی کی معروف کتاب’الرسالة المستطرفة لبيان مشهور كتب السنة المشرفة‘ کا مطالعہ فائدے سے خالی نہ ہوگا۔
امام ابو داود رحمہ اللہ کے زمانے میں امام احمد بن حنبل،
نام ونسب اور نسبت:
آپ کی کنیت بالاتفاق ابو داود،
آپ کی نسبت ازدی اور سجستانی ہے۔
ولادت:
آپ ۲۰۲ھ میں پیدا ہوئے۔بصرہ کو جائے سکونت بنایااور بغداد ایک سے زائد مرتبہ آتے جاتے رہے۔
علمی اسفار:
آپ نے مختلف اسلامی شہروں کا علمی سفر کیا۔خراسان،
اساتذہ:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے سنن میں موجود اساتذہ کی مجموعی تعداد تین سو(۳۰۰) بیان کی ہے،
(۱)احمد بن محمد بن حنبل شیبانی
(۲)یحیی بن معین ابو زکریا
(۳)اسحاق بن راھویہ ابو یعقوب
(۴)عثمان بن محمد بن ابی شیبہ ابو الحسن عبسی کوفی
(۵)مسلم بن ابراہیم ازدی فراہیدی
(۶)ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن مسلمہ بن قعنب قعنبی مدنی
(۷)حافظ ابو الحسن مسدد بن مسرھد ابن مسربل بصری اسدی
(۸)ابو سلمہ موسی بن اسماعیل تمیمی تبوذکی
تلامذہ:
مشرق اور مغرب سے کثیر تعداد میں طلبہ آپ سے کسب علم کے لیے حاضر ہوئے۔روز بروز طلبہ کی تعداد بڑھتی گئی،
فضل وکمال کا اعتراف:
اللہ نے امام ابو داود کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا،
آپ کے زمانے اور بعد کے ادوار کے متخصصین اور ماہرین نے آپ کے کمالات کو سراہا ہے۔
ذیل کے سطور میں مشہور محدثین کے تعریفی جملے لکھے جاتے ہیں:
(۱)ابو بکر خلال کہتے ہیں: آپ کو اپنے زمانے میں علم حدیث میں اولیت حاصل تھی۔علومہ دینیہ اسلامیہ میں آپ کا ہمسر اور ہم پلہ اس وقت کوئی نہ تھا۔
(۲)حافظ موسی بن ہارون کہتے ہیں: اللہ نے دنیا میں آپ کو حدیث اور آخرت میں جنت کے لیے پیدا کیا تھا۔میں نے ان سے بہتر کسی کو نہ پایا۔
(۳)ابراہیم حربی کہتے ہیں: اللہ نے آپ کے لیے حدیث کو اسی طرح آسان بنادیا تھا جس طرح داود علیہ السلام کے لیے لوہا کو۔
(۴)امام حاکم کہتے ہیں: آپ اپنے زمانے میں بلا اختلاف اہل حدیثوں کے امام اور مقتدی تھے۔
(۵)امام ذہبی کہتے ہیں: آپ حدیث،
(۶)امام نووی کہتے ہیں: آپ کے حفظ،
(۷)ابن مندہ کہتے ہیں: آپ ان چار لوگوں میں تھے جن کو صحیح اور ضعیف حدیث کی پرکھ پر عبور کامل تھا۔آپ کے علاوہ اس میدان کے اعاظم امام بخاری،
عقیدہ:
آپ منہج سلف پر کار بند تھےاور اس پر آپ کی کتاب’سنن‘،
فقہی مذہب:
اس تعلق سے اہل علم کا اختلاف ہے۔بعض نے آپ کو حنبلی اور بعض نے شافعی قرار دیا ہے۔لیکن صحیح یہ کہ آپ حنبلی المسلک تھے۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ مقلد تھے،
تالیفات وتصنیفات:
آپ کی بے شمار کتابیں ہیں۔سب سے مشہور کتاب’سنن‘ ہے۔اس کے علاوہ چند کتابوں کے نام ذیل کے سطور میں تحریر کیے جاتے ہیں:
(۱)المراسیل
(۲)الرد علی القدریہ
(۳)الناسخ والمنسوخ
(۴)مسائل الإمام آحمد
(۵)كتاب الزهد
(۶)رسالته في وصف كتاب ’السنن‘
(۷)تسمية الإخوة الذي روي عنهم الحديث
(۸)كتاب البعث والنشور
(۹)دلائل النبوة
(۱۰)أخبار الخوارج





