عشق سنسار میں ہے عشق ہی سنسار نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عشق کا مرحلہ میرے لیے دشوار نہیں
میرے قصے میں شہنشاہ کا کردار نہیں
سنگ برسے گا نہ لوگوں کی ملامت ہوگی
میری دنیا میں کوئی نجد کا بازار نہیں
کوئی فرہاد نہیں میں جو کروں کوہ کنی
میرے انجام میں تیشے کا بھی کردار نہیں
رومیو جیسا مروں زہر محبت کھا کر
جولیٹ سی کوئی لڑکی مجھے درکار نہیں
ہیر کے واسطے جوگی میں بنوں ناممکن
رانجھے کی طرح بچھڑنے کو میں تیار نہیں
میں وہ یوسف نہیں جو پاکی دامن دیکھے
دور حاضر میں زلیخا کی بھی سرکار نہیں
میں نئے دور کا عاشق ہوں مرا موقف ہے
عشق سنسار میں ہے عشق ہی سنسار نہیں
گھنٹوں باتیں میں کروں، ہائے ہیلو لکھتا رہوں
گرچہ شاعر ہوں مری جان! میں بیکار نہیں
’آج ملنا ہے‘ کہا پیر کو اس نے کاشف!
میں نے رپلائی کیا ’جان! یہ اتوار نہیں‘
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (3)
د
دنیادار
16 دسمبر، 2020کچھ تو ضرور ہے،🤔
ویسے اللہ حفاظت فرمائے
R
Rasheed
13 دسمبر، 2020واہ شاعر صاحب واہ❤️❤️❤️
ذرا بدلے بدلے لگ رہے ہو،عشق کے معاملے میں اپنے مزاج کو بڑے سلیقے سے لفظوں میں پرویاہے،لب ولہجہ سحر طاری کررہا ہے،رشتۂ الفاظ سے رس ٹپکتا محسوس ہورہا ہے،شکریہ اور پھر شکریہ۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ک
کلام اللہ عنایت اللہ عالیاوی
13 دسمبر، 2020ماشاء اللہ





