جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جانا ہے ایک روز سبھی کو یہاں سے دور

کلام: کاشف شکیل15 دسمبر، 20201,305قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہجرت نے یوں کیا ہے مجھے میری ماں سے دور
یوں لگ رہا ہے جیسے ہوں میں جسم و جاں سے دور
روح و بدن کا رشتہ مکین و مکاں کا ہے
مطلب ہے موت کا کہ مکیں ہے مکاں سے دور
بانہیں چھڑا کے جب وہ گیا میرے پاس سے
مجھ کو لگا کہ میں ہوا دار الاماں سے دور
جاؤ کہیں بھی موت تمھیں آئے گی ضرور
جانا ہے ایک روز سبھی کو یہاں سے دور
الفاظ بھی ہیں تیر زباں بھی ہے اک کماں
بے سوچے سمجھے تیر نہ کرنا کماں سے دور
پت جھڑ میں جس شجر سے وہ گزرا تو یوں ہوا
آئی بہار ہوگئے پتے خزاں سے دور
کاشف بہت ہی سوچ کے ہم‌‌ نے کیا ہے عشق
سود و زیاں سے دور تمھارے جہاں سے دور
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جانا ہے ایک روز سبھی کو یہاں سے دور - دی فری لانسر | دی فری لانسر