ڈاکٹر محمد اسحاق محمد آل ابراہیم(پروفیسرجامعہ امام محمد بن سعود اسلامیہ،
لؤلوی کے بعد امام ابو داود سے سنن کو روایت کرنے والوں میں ابن داسہ اور ابو عیسی رملی کا نام آتا ہے۔پھر ابن داسہ سے ۱۷راویوں نے اور رملی سے ۱۳ نے سنن کو روایت کی ہے۔
امام ابو داود سے براہ راست سنن روایت کرنے والوں میں ابو سعید اعرابی،
ذیل کے سطور میں ان رواة میں سے چند مشاہیر کی زندگی کے اہم واقعات ذکر کیے جائیں گے تاکہ علماء اور طلبہ ان واقعات سے سبق حاصل کریں۔
(۱)لؤلوی:
آپ کا مکمل نام محمد بن احمد بن عمرو بصری لؤلوی ابو علی ہے۔ابو عمرو ہاشمی نے ان سے متعلق کہا کہ انھوں نے ابو داود رحمہ اللہ سے سنن کو بیس سال تک پڑھا۔ان کو ابو داود کے ورّاق سے موسوم کیا جاتا تھااور بصریوں کے یہاں ورّاق اس کو کہا جاتا ہے جو لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔ان کی وفات ۳۳۳ھ میں ہوئی۔
(۲)ابو عمر ہاشمی:
آپ کا پورا نام قاسم بن جعفر بن عبد الواحد بن عباس بن عبد الواحد ہاشمی بصری ابو عمر ہے۔آپ کی پیدائش سنہ ۳۲۲ ھ میں اور وفات ۴۱۴ھ میں ہوئی۔آپ نے سنن کو لؤلوی سے اور ابو بکر خطیب بغدادی سے سنا اور پھر خطیب بغدادی سے اہل علم کی بڑی جماعت نے ابو داود کی سنن کو سنا۔
ابو عمرو قاضی کہتے ہیں کہ میں اپنے ابو کے ساتھ ابو عمرو ہاشمی سے سنن سننے آٹھ سال کی عمر میں گیا،
(۳)خطیب بغدادی:
آپ کا مکمل نام احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی ابو بکر ہے۔آپ کی ولادت ۳۹۲ ھ میں اور وفات ۴۶۳ھ میں ہوئی۔آپ کی تعلیم وتربیت علم وعمل اور نیکی وبھلائی والے گھر اور خاندان میں ہوئی۔خطیب بغدادی کے والد نیک اور علم وعلماء کے بڑے قدر داں تھے۔شروع سے انھوں نے اپنے بیٹے خطیب کی اسلامی اور دینی نہج پر تعلیم وتربیت کی۔ابتدائی تعلیم کے بعد باضابطہ سماع حدیث کا آغاز خطیب بغدادی نے ۴۰۳ھ میں کیا۔خطیب نے اپنے شہر اور دیگر علمی مراکز کے حدیث،
خطیب بغدادی معرفت،
خطیب نے حدیث وعلوم حدیث،
آپ کی اہم کتابوں میں:
تاریخ بغداد
الکفایة فی علم الروایة
الرحلة في طلب الحديث
السابق واللاحق
الأسماء المبهمة في الأنباء المحكمة
الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع،
(۴)ابو بدر الکرخی:
آپ کا مکمل نام ونسب اس طرح ہے:ابراہیم بن محمد بن منصور بن عمر بن علی الکرخی ابو البدر ہے۔آپ کی سال ولادت ۴۵۰ھ اور وفات ۵۳۹ ھ ہے۔ابو سعد سمعانی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑا علمی استفادہ کیا۔آپ بغداد کے شہر کرخ میں رہتے تھے۔آپ عمر رسیدہ،
(۵)ابو الفتح الرومی:
آپ کا پورا نام مفلح بن احمد بن محمد بن علی بن عثمان بن القاسم الرومی الوراق ابو الفتح ہے۔آپ کی پیدائش ۴۵۷ ھ اور وفات ۵۳۷ ھ کو ہوئی۔آپ نے سنن ابو داود ابو بکر خطیب سے سنا۔
(۶)علی بن سعید العبدری:
آپ کی کنیت ابو الحسن ہے۔آپ نے خطیب بغدادی سے سنن اور ابن حزم سے حدیث کی دیگر کتابیں سنیں۔بغداد آنے کے بعد ابن حزم کے مسلک کو چھوڑ کر ابو بکر شاشی کے فقہی مسلک پر گامزن ہوگئے۔آپ کی وفات ۵۳۷ ھ میں ہوئی۔
(۷)الفضل بن سہل بن بشر بن احمد بن سعید الاسفرائینی ابو المعالی بن ابی الفرج:
آپ کی ولادت سنہ ۴۶۱ ھ کو اور وفات ۵۴۸ھ کو ہوئی۔آپ مصر میں پیدا ہوئے،
ابن السمعانی کہتے ہیں: فضل بن سہل نے بذات خود عراق اور شام کا سفر کیا،
(۸)عمر بن محمد بن معمر:
آپ کا پورا نام عمر بن معمر بن احمد بن یحیی بن حسان بن طبرزد موفق الدین ابو حفص ہے۔آپ کی سنہ ولادت ۵۶۱ھ اور سنہ وفات ۶۰۷ھ ہے۔
حافظ ابو عبد اللہ محمد بن سعید دبیثی نے آپ کے اساتذہ پر مشتمل دو جلدوں میں کتاب لکھی ہے،
صحیح حدیثوں پر بڑا ذخیرہ ان کے پاس تھا،
ابن النجار کہتے ہیں کہ یہ خوش خط تھے،
(۹)المنذری:
آپ کا پورا نام عبد العظیم بن عبد القوی بن عبد اللہ بن سلامہ بن سعد بن سعید ابن المنذری زکی الدین ابو محمد ہے۔آپ کی ولادت مصر میں سنہ۶۸۱ھ میں اور وفات ۶۵۶ھ میں ہوئی۔
آپ نے اپنے والد کی اچھی تربیت کی بنا پر دس سال کی عمر سے حدیث سننا شروع کردیا تھا۔چیف جسٹس تقی الدین ابن دقیق العید جیسے اعاظم کا شمار آپ کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔
حافظ عز الدین کہتے ہیں کہ ہمارے استاد زکی الدین علوم حدیث کے مختلف فنون میں امامت کا درجہ رکھتے تھے۔آپ جیسا ذی علم بہت کم نظر آتا ہے۔
ڈاکٹر بشار عواد نے آپ کی تالیفات کی تعداد۲۵ بتلائی ہے،
(۱۰)ابو العباس الجوخی:
آپ کا پورا نام احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن ابو القاسم المسند بدر الدین ہے۔آپ ابن الجوخی اور ابن الزقاق کی کنیت سے مشہور ہیں۔آپ سنہ ۶۸۳ھ کو پیدا ہوئے اور سنہ ۷۶۴ھ کو وفات پائی۔آپ کے بڑے شاگردوں میں حافظ عراقی کا شمار ہوتا ہے۔آپ پہلے فوج میں تھے پھر علم حدیث کی خدمت پر معمور ہوگئے۔
(۱۱)یونس بن ابراہیم بن عبد القوی بن قاسم بن داود الکنانی العسقلانی الدبابیسی فتح الدین ابو النون:
آپ کی سالِ ولادت ۶۳۵ھ اور سالِ وفات ۷۲۹ھ ہے۔آپ کے ہونہار شاگردوں میں امام مزی،
حافظ ابن حجر ابو النون سے متعلق کہتے ہیں کہ آپ نہایت دیندار،
(۱۲)ابو علی التستری:
آپ کا مکمل نام علی بن احمد بن علی بن ابراہیم بن بحر التستری البصری السقطی ہے،
(۱۳)نصر بن ابو الفرج محمد بن علی حنبلی حصری بغدادی ابو الفتح:
آپ رمضان ۵۳۶ھ میں پیدا ہوئے اور ربیع الآخر ۶۱۹ ھ کو وفات پاگئے۔آپ نے قرآن کریم،
آپ علوم وفنون کے ماہر اور دین اسلام کے شہسوار تھے۔روزہ اور تلاوتِ کلام پاک کے بڑے پابند تھے۔تقریبا تیس سالوں تک مکہ کے پڑوس میں زندگی گزاری۔
(۱۴)ابو عبد اللہ بن مرزوق:
آپ کا مکمل نام محمد بن احمد بن محمد بن محمد بن محمد بن ابو بکر بن مرزوق تلمسانی شمس الدین ابو عبد اللہ ہے۔آپ کی ولادت سنہ۷۱۱ھ اور وفات ۸۸۱ھ میں ہوئی۔آپ نے تلمسان کے بڑے اساتذہ فن سے کسبِ فیض کیا،
(۱۵)ابو بکر محمد بن ھشام القیسی:
آپ کا مکمل نام ونسب اس طرح ہے محمد بن ھشام بن محمد بن عثمان بن عبد اللہ بن سلمہ بن عباد بن یونس القیسی القرطبی ابو بکر۔آپ کے اساتذہ میں ابو الفتوح ثابت بن محمد جرجانی،





