ابھی چند دنوں قبل ’ کرسمس ڈے‘ کے موقع پر ایک پوسٹ کافی گردش میں رہی کہ ’ عیسی علیہ السلام کی پیدائش سردی میں نہیں بلکہ گرمی میں ہوئی تھی اور وہاں پر کرسمس کا درخت نہیں بلکہ کھجور کا درخت تھا جس سے حضرت مریم نے پکا ہوا پھل کھایا تھا،
قارئین کرام! قرآن مجید کے اندر اس بات کی صراحت موجود نہیں ہے کہ عیسی علیہ السلام کی پیدائش کون سے مہینے یا کس موسم میں ہوئی تھی۔
جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَاَجَآءَهَا الۡمَخَاضُ اِلٰى جِذۡعِ النَّخۡلَةِۚ قَالَتۡ يٰلَيۡتَنِىۡ مِتُّ قَبۡلَ هٰذَا وَكُنۡتُ نَسۡيًا مَّنۡسِيًّا . فَنَادَاهَا مِنْ تَحْتِهَا أَلا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا . وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا (مریم:۲۳-۲۵) پس زچگی کی درد اسے ایک کھجور کے تنے تک لے آئی تو وہ کہنے لگی،
ان آیات سےمعلوم ہوتا ہے کہ:
(۱)عیسی علیہ السلام کی ولادت کے وقت مریم ایک کھجور کے درخت کے پاس تھیں۔
(۲)اللہ رب العزت نے وہاں پر ایک چشمہ جاری کر دیا تھا۔
(۳)حضرت مریم کو کھجور کا درخت ہلانے کا حکم ہوا تھا تاکہ اس کا پھل کھا سکیں۔
اس بات کا تذکرہ بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ کون سا مہینہ یا کون سا موسم تھا۔
-لہذا تروتازہ خرموں کا گرنا یا تو نظام فطرت کے تحت رہا ہوگا۔
یعنی: وہ درخت پہلے سے وہاں موجود تھا،
-یا پھر معجزہ اور خرق عادات کے طور پر تھا۔
یعنی: وہاں پر پہلے سے کوئی درخت موجود ہی نہ تھا یا موجود تو تھا مگر بالکل سوکھا ہوا تھا،
چنانچہ آیت کے سیاق پر غور کرنے سے جو بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے وہ یہی کہ یا تو وہاں پر کھجور کا کوئی درخت پہلے سے موجود ہی نہ تھا یا موجود تو تھا مگر پھل دینے کا موسم نہیں تھا اور درخت بالکل سوکھا ہوا تھا مگر اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کاملہ سے پینے کے لیے چشمہ اور کھانے کے لیے تازہ کھجور کا بندوبست کر دیا تاکہ مریم کے جسم کو قوت ملے،
کیونکہ اللہ رب العزت نے ان آیات میں مریم پر اپنے خاص فضل اور احسان کا تذکرہ کیا ہے اور اس فضل واحسان کی اہمیت کا اندازہ سب سے بہترین طریقے سے اسی وقت ہو سکتا ہے جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وہاں پر درخت اور چشمہ تھا ہی نہیں یا موجود تو تھا مگر چشمہ میں پانی نہیں تھا درخت میں پھل نہیں لگے تھے بلکہ دونوں سوکھے ہوئے تھے،
ظاہر سی بات ہے کہ وہ کھجور کے اس درخت کو ہلانے سے قبل وہ بےحد خوفزدہ رہی ہوں گی،
اسی بات کو اکثر مفسرین نے راجح قرار دیا ہے۔
-ابن جریر طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ذكر أن الجذع كان جذعًا يابسًا،
جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
كان جذعًا يابسًا(درخت کا تنہ سوکھا ہوا تھا )
ابو نہیک کہتے ہیں:
كانت نخلة يابسة(کھجور کا درخت سوکھا ہوا تھا )
وہب بن منبہ کہتے ہیں:
وذلك في الشتاء(یہ واقعہ موسم سرما میں رونما ہوا تھا )
[تفسير طبری ت شاکر:۱۸/۱۷۸]
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قِيلَ: كَانَتْ يَابِسَةً،
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَمَرَهَا بِهَزِّ الْجِذْعِ الْيَابِسِ لِتَرَى آيَةً أُخْرَى فِي إِحْيَاءِ مَوَاتِ الْجِذْعِ (تفسير القرطبی:۱۱/۹۴)اللہ رب العزت نے مریم کو خشک کھجور کے تنہ کو حرکت دینے کا حکم دیا تاکہ وہ مردہ تنہ کے احیا میں دوسری نشانی دیکھ لیں۔
امام ثعالبی کہتے ہیں:
الظاهر من الآية أَن الجِذْع كان يَابِساً فهي آيات تسليها،
امام شنقیطی رحمہ اللہ تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
بعض نے کہا ہے کہ درخت کے جس تنہ کو ہلانے کا حکم دیا گیا تھا وہ سوکھا پڑا تھا،
بعض نے کہا کہ تنہ تو پہلے سے موجود کھجور کے درخت کا تھا مگر اس پر پھل نہیں تھے،
بعض نے کہا وہ پھل دار درخت تھا اور اللہ رب العزت نے اسے ہلانے کا حکم اس لیے دیا تھا تاکہ اس پر لگے ہوئے تازہ کھجور ان کی طرف گریں۔
البتہ قرآن کے سیاق سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ اللہ رب العزت نے اس تازہ کھجور اور چشمہ کو خرق عادات کے طور پر پیدا فرما دیا تھا،
اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:
فَكُلِي واشْرَبِي وقَرِّي عَيْنًا ( مریم:۲۶)تو کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی کر۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اس نازک ترین وقت میں ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک خرق عادت امور کے ذریعے حاصل ہوتی ہے،
ورنہ مجرد کھانے اور پینے سے اس وقت آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتیں۔کیونکہ ان پر ایسی تہمت لگائی گئی تھی جس کی وجہ سے وہ موت کی تمنا کر رہی تھیں۔
نیز اللہ رب العزت نے سورۃ آل عمران میں مریم کے لیے خرق عادت امور کو ثابت بھی کیا ہے،
كُلَّما دَخَلَ عَلَيْها زَكَرِيّا المِحْرابَ وجَدَ عِنْدَها رِزْقًا قالَ يامَرْيَمُ أنّى لَكِ هَذا قالَتْ هو مِن عِنْدِ اللَّهِ إنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ (آل عمران:۳۷)جب بھی زکریا مریم کے کمرہ میں داخل ہوتے تو اس کے ہاں کوئی کھانے پینے کی چیز موجود پاتے اور پوچھتے مریم! یہ تجھے کہاں سے ملا؟ وہ کہہ دیتیں اللہ کے ہاں سے بلاشبہ اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے۔
علماء کرام کہتے ہیں: حضرت زکریا علیہ السلام ان کے یہاں سردی کے موسم میں گرمی کا پھل اور گرمی کے موسم میں سردی کا پھل پاتے،
خلاصہ یہ نکلا کہ:
-ان آیات میں اس بات کی قطعی وضاحت نہیں ہے کہ عیسی علیہ السلام موسم گرما میں پیدا ہوئے تھے۔
-آیات کے سیاق اور مفسرین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کی پیدائش موسم گرما میں نہیں ہوئی تھی۔
-پانی کا چشمہ اور کھجور کا درخت دونوں پہلے سے موجود نہیں تھے یا موجود تو تھے مگر چشمہ میں پانی نہیں تھا اور درخت پر پھل نہیں تھا بلکہ اس کے تنے سوکھے ہوئے تھے۔
-یہ کہنا کہ کرسمس کے درخت کے پاس عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی باطل اور بے بنیاد ہے بلکہ نص قرآنی کے خلاف ہے۔
لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم باطل افکار و نظریات کی تردید کے لیے محکم،





