کیا موزہ (جراب) اتار دینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ یا موزے کا مسح باطل ہوجاتا ہے؟
المسمی بـ
الإنصاف في مسألة نقض الوضوء وبطلان المسح بنزع الخِفَاف
اللہ رب العالمين نے دین کو نہایت آسان اور انسانی فطرت کے عین مطابق بنایا ہے،
قارئین کرام!
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ناقض وضو کا مطلب وضو توڑنے والی چیزیں ہیں،
موزہ (جراب) کا اتارنا ناقض وضو ہے یا نہیں اس سلسلے میں علماء کرام کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔
✺ ائمہ اربعہ کا (مختلف شروط ضوابط کے ساتھ) اس بات پر اتفاق ہے کہ موزہ (جراب) کا اتارنا ناقض مسح ہے۔[تبيين الحقائق،
ان کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ایک صحابی سے سوال کیا گیا:
الرجل يمسح على خفيه،
یعنی اگر کوئی شخص موزہ (جراب) پر مسح کرتا ہے،
ابن ابی شیبہ نے اس اثر کومصنف]۱/۱۷۰،
لیکن اس اثر کی سند میں تین علتیں ہیں:
۱:یزید الدالانی: ان کے بارے میں ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: صدوق یخطئ کثیرا [تقریب التهذیب:رقم۸۹۸۲]یعنی وہ ضعیف ہیں۔
ب: نیز وہ تدلیس بھی کرتے تھے اور ان کا شمار مدلسین کے تیسرے طبقہ میں ہوتا ہے۔[تعریف أهل التقدیس:ص۴۸]اور انھوں نے اپنے شیخ سے سماع کی صراحت بھی نہیں کی ہے۔
ج: یحییٰ بن اسحاق اور صحابی کے درمیان انقطاع ہے،
امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ بن اسحاق نے سعید بن ابی مریم سے سنا ہے یا نہیں اس کا ہمیں علم نہیں اور نہ ہی سعید بن ابی مریم کا کسی صحابی سے سماع کا علم ہے۔[السنن الکبری:۱/۴۳۲]
خلاصہ یہ کہ یہ سند ضعیف ہے،
۲۔البتہ امام بیہقی نے اپنی سند سےابو بکرۃ رضی اللہ عنہ کا عمل نقل کیا ہے جس میں ابو بکرۃ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبد الرحمن بن ابی بکرۃ کہتے ہیں:
وكان أبي ينزع خفيه ويغسل رجليه[السنن الکبری:۱/۴۳۳،
یعنی میرے والد موزہ (جراب) اتارنے کے بعد دونوں پاؤں کو دھلتے تھے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ اس اثر کے بارے میں کہتے ہیں:
رجالہ ثقات غیر علی بن محمد القرشی فلم اعرفہ [تمام النصح فی احکام المسح:ص۲۸]
یعنی اس سند کے تمام رواۃ ثقہ ہیں سوائے علی بن محمد القرشی کے،
شاید اسی راوی کی جہالت کی وجہ سے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس اثر کو بھی ضعیف کہا ہے۔
لیکن علی بن محمد بن الزبير القرشی کو خطیب بغدادی نے ثقہ کہا ہے۔[تاریخ بغداد:۱۳/۵۵۵]
اور ذہبی نے بھی انھیں ثقہ کہا ہے۔[سیر اعلام النبلاء:۱۵/۵۶۷]
مختصر یہ کہ مذکورہ راوی ثقہ ہے اور یہ اثر صحیح ہے۔
۳۔اصل حکم دونوں قدم کو دھلنے کا ہے اور جرابوں پر مسح بدل (Substitute) ہے،
✺ اس سلسلے میں دوسرا قول یہ ہے کہ: موزہ (جراب) اتارنے سے نہ وضو ٹوٹتا ہے اور نہ ہی مسح ٹوٹتا ہے،
اس کے قائل سلف میں سے ابراہیم نخعی،
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔[الاختيارات الفقهية:ص۱۵]
اور معاصرین میں سے شیخ البانی اور ابن عثیمین رحمہما اللہ اسی قول کی طرف گئے ہیں۔[تمام النصح فی احکام المسح:ص۲۸،
اس قول کے دلائل درج ذیل ہیں:
۱۔شریعت نے جن اشیاء کو نواقض وضو قرار دیا ہے ان میں سے موزہ (جراب) اتارنا نہیں ہے،
لا ينفتل-أو لا ينصرف-حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا[صحيح بخاری:رقم۱۷۷]
یعنی ریاح خارج ہونے کے سلسلے میں اگر کسی کو شک ہو کہ پیٹ سے ریاح نکلی یا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس وقت تک وضو کرنے کے لیے نہ جائے جب تک کہ وہ ریاح کی آواز نہ سن لے یا اس کی بو نہ پائے۔
مذکورہ حدیث میں موزہ (جرابیں) اتارنے کو ناقض وضو یا بطلان مسح نہیں بتایا گیا۔
۲۔موزہ (جراب) کا اتارنا ناقض وضو یا بطلان مسح کا سبب نہیں ہے،
دعا بماء فتوضأ فمسح على نعليه،
یعنی علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا،
اس اثر کی سند صحیح ہے۔
مذکورہ اثر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ موزے (جراب) یا جوتے پر مسح کرنے کے بعد اسے اتارنے سے وضو یا مسح نہیں ٹوٹتا۔
۳۔نیز کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو موزہ (جراب) اتارنے کو ناقض وضو قرار دیتی ہے،
۴۔اس سلسلے میں علماء کرام نے ایک قیاس کا بھی ذکر کیا ہے: مثال کے طور پر اگر کسی نے وضو کرنے کے بعد سر کا بال حلق کروا لیا،
قارئین کرام!
☚ موزہ (جراب) اتارنے پر پاؤں دھلنے یا نہ دھلنے کا صریح حکم شریعت میں موجود نہیں ہے،
البتہ شریعت کے عمومی دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بات راجح سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ موزہ (جراب) اتارنا ناقض وضو یامسح کے بطلان کا سبب نہیں ہے،
✺ شریعت نے جن چیزوں کو ناقض وضو قرار دیا ہے اگر اس کے سلسلے میں شک اور تردد ہو جائے تو شریعت نے یقین کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کو کہا ہے،
لا ينفتل-أو لا ينصرف-حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
ریاح خارج ہونے کے سلسلے میں اگر کسی کو شک ہو کہ پیٹ سے ریاح نکلی یا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس وقت تک وضو کرنے کے لیے نہ جائے جب تک کہ وہ ریاح کی آواز نہ سن لے یا اس کی بو نہ پائے۔[صحيح بخاری:رقم۱۷۷]
تو پھر جس چیز کو شریعت نے ناقض وضو قرار ہی نہیں دیا اسے ناقض وضو یا مسح کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
✺ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر ومقیم کے لیے مسح علی الخفین کی مدت کی مکمل تفصیل بیان کی:
جعل رسول اللہ صلی الله عليه وسلم ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر،
یعنی مسافر کے لیے تین دن اور تین رات مسح کرنے کی رخصت ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات۔
✺ جو چیزیں بطلان مسح کا سبب ہوتی ہیں اس کی بھی وضاحت فرمادی:
أن لا ننزع خفافنا ثلاثة أيام ولياليهن إلا من جنابة،
یعنی جنابت کی صورت میں موزہ اتارنا ہے،
☚ قارئین آپ غور فرمائیں کہ اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن چیزوں سے موزہ (جراب) کا مسح ٹوٹ جاتا ہے ان کو بیان فرمایا،
موزہ (جراب) کا اتارنا ناقض وضو یا ناقض مسح ہے یا نہیں اس کی وضاحت نہیں فرمائی،
واللہ أعلم،





