توحید کے باب میں قرآن کریم اصل ہے،
نام ونسب:
آپ کا نام ونسب اس طرح ہے: احمد بن علی بن عبد القادر بن محمد بن ابراہیم بن محمد بن تمیم المقریزی،
سال ولادت:
ابن تغری بَردی(م۸۷۴ھ) آپ کے شاگرد کہتے ہیں: میں نے تقی الدین رحمہ اللہ سے ان کی ولادت سے متعلق پوچھا تو کہا:۷۶۰ ھ کے بعد میری ولادت ہوئی۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے مقریزی کی تحریر میں پایا کہ ان کی تاریخ ولادت۷۶۶ ھ ہے۔
نشو ونما اور تعلیم:
حافظ ابن حجر(م۸۵۲ھ) کہتے ہیں: امام مقریزی کی نشو ونما پرورش وپرداخت اچھے ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے نانا شمس الدین ابن الصائغ الأدیب کے مسلک کی پیروی کرتے ہوئے کتب حنفیہ ازبر کیں۔جب ہوش سنبھالا،
مشائخ:
آپ نے اپنے زمانے کے متعدد اساتذہ ومشائخ سے کسب علم کیا،
امام سخاوی( م۹۰۲ھ) کہتے ہیں: میں نے مقریزی کی تحریر میں پایا کہ ان کے اساتذہ کی تعداد چھ سو(۶۰۰) کے قریب ہے۔حافظ ابن حجر کہتے ہیں: امام مقریزی نے میرے اساتذہ اور مجھ سے کچھ قبل کے اساتذہ سے کسب فیض کیا۔
انھوں نے مختلف علوم وفنون میں مہارت حاصل کی،
اوصاف واخلاق:
خلافت ناصریہ کے اوائل میں آپ کو دمشق کا قضا سونپا گیا مگر آپ نے لینے سے منع کردیا۔آپ لوگوں سے دور،
ابن تَغری بَردی کہتے ہیں: میں نے ان سے ان کی کئی کتابیں پڑھیں،
امام مقریزی سے متعلق علماء کے تاثرات:
۱۔حافظ ابن حجر کہتے ہیں: آپ مختلف فنون کے امام،
۲۔ابن تغری بردی کہتے ہیں: آپ امام،
۳۔امام شوکانی(م۱۲۵۰ھ) کہتے ہیں: آپ علم تاریخ کے مختلف گوشوں کے ماہر تھے،
وفات:
آپ کی وفات۱۶؍رمضان۸۴۵ ھ کو تقریبا۸۰ سال کی عمر میں ہوئی۔
تالیفات:
امام سخاوی اپنی کتاب’ الضوء اللامع‘ میں لکھتے ہیں کہ امام مقریزی کی کل کتابیں دو سو مجلد سے زیادہ ہیں۔ابن تغری بردی کہتے ہیں کہ امام مقریزی زود نویس تھے،
آپ کی مشہور تالیفات میں سے چند کے اسماء ذیل میں قلمبند کیے گئے ہیں:
(۱)الإشارة والإعلام ببناء الكعبة بيت الله الحرام
(۲)إمتاع الأسماع بما للرسول صلى الله عليه وسلم من الأبناء والأخوال والحفدة والمتاع
(۳)البيان المفيد في الفرق بين التوحيد والتلحيد
(۴)تجريد التوحيد
(۵)درر العقود الفريدة في تراجم الأعيان المفيدة
(۶)السلوك لمعرفة دول الملوك
(۷)شارع النجاة
(۸)الطرف الغريبة في أخبار حضر موت العجيبة
(۹)مجمع الفوائد ومنبع الفوائد
(۱۰)المقفی فی تراجم أھل مصر والواردین إليها( التاريخ الكبير)
(۱۱)مختصر الكامل لابن عدي
آپ کی مذکورہ کتابوں میں تجرید التوحید المفید کتب تاریخ کے بعد سب سے شہرت رکھتی ہے اور اس کا شمار توحید پر لکھی گئی قدیم کتابوں میں ہوتا ہے۔ذیل کے سطور میں اسی کتاب سے متعلق بعض مفید معلومات درج کی جاتی ہیں۔
کتاب کا اصل نام:
اس کتاب کا اصل نام خود امام مقریزی نے اسی کتاب کے مقدمہ میں’تجرید التوحید المفید‘ لکھا ہے۔لیکن کتاب کے بعض قدیم نسخوں میں کتاب کا نام’ کتاب تجرید التوحید المفید‘ اور بعض میں صرف ’تجرید التوحید‘ ہے۔
کتاب کا موضوع:
اجمالی طور پر کتاب توحید الوہیت کے موضوع پر ہے،
مولف کی طرف کتاب کی نسبت:
تجرید التوحید المفید کے مولف امام مقریزی ہی ہیں،
۱۔امام مقریزی کے اکثر سوانح نگار نے ان کی تالیفات کے ضمن میں اس کتاب کا تذکرہ کیا ہے۔جیسے ابن تغری بردی نے،
۲۔اس کتاب کے قدیم نسخوں پر امام مقریزی کا نام درج ہے۔
۳۔اسلاف نے اس کتاب سے اقتباسات نقل کیے ہیں،
تاریخ تالیف:
امام مقریزی نے اپنی اس کتاب میں امام ابن القیم جوزیہ کی متعدد تالیفات سے استفادہ کیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ امام مقریزی دمشق جانے کے بعد ان کی کتابوں سے آگاہ ہوئے ہوں گےاور امام مقریزی کا دمشق میں قیام۸۱۰ھ سے۸۱۵ھ کے درمیان ہے۔گویا امام مقریزی نے اپنی کتاب تجرید التوحید کی تالیف۸۱۵ھ کے بعد کی اور اس کے بعد سے مسلسل کتاب کی تنقیح وتہذیب کرتے رہے یہاں تک کہ وفات سے چار سال قبل بھی تصحیح ونتقیح کی اور اس کے بعد کتاب منظر عام پر آئی۔
تجرید التوحید کے مراجع:
امام مقریزی نے اپنی اس کتاب کی تیاری میں سب سے زیادہ امام ابن القیم کی دو کتاب سے استفادہ کیا:
۱۔کتاب کے نصف اول میں ’الجواب الکافی‘ سے۔
۲۔کتاب کے نصف ثانی میں’ مدارج السالکین‘ سے۔
لیکن امام مقریزی نے اس وقت کے علماء کے ڈر سے جو امام ابن تیمیہ،
مذکورہ دونوں کتابوں کے علاوہ امام مقریزی نے دیگر کتابوں سے بھی استفادہ کیا جیسے:
۱۔مسند احمد
۲۔سنن ابو داود
۳۔صحيح ابن حبان
۴۔مستدرك حاكم
۵۔احياء علوم الدين
۶۔بدائع الفوائد
۷۔روضة المحبين
۸۔إغاثة اللهفان
۹۔إعلام الموقعين
کتاب کے بارے میں اہل علم کی آرا:
کتاب کی تعریف قدیم وجدید تمام علماء اہل سنت نے کی ہے اور اس کی اہمیت کو اپنی تحریروں میں اجاگر کیا ہے۔
علامہ صدیق حسن خان قنوجی،
کتاب کے طبعات:
اب تک کتاب متعدد مرتبہ طبع ہوچکی ہے۔ذیل میں چند اہم طبعات پر روشنی ڈالی جاتی ہے:
۱۔طبعہ منیریہ
۲۔طبعہ مکتبہ ظاہر
۳۔طبعہ مدنی
۴۔طبعہ مکتبہ سلام عالمیہ
۵۔طبعہ دار عمار
۶۔طبعہ جامعہ اسلامیہ
۷۔طبعہ مکتبہ تراث اسلامی
ان طبعات میں سب سے زیادہ غلطیاں طبعہ منیریہ میں اور سب سے کم غلطیاں طبعہ دار عمار میں ہیں۔





