جو چیز کتاب اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح سنت سے ثابت ہو وہی دین کا حصہ ہو سکتا ہے اور جن چیزوں کا ثبوت کتاب وسنت میں نہ ہو اسے دین کا حصہ مانا ہی نہیں جا سکتا۔
علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ضعیف حدیث عقائد کے باب میں قابل قبول نہیں،
البتہ احکام وفضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے سلسلے میں علماء کے مابین اختلاف رہا ہے،
ہم طوالت کے خوف سے ہر قول کی تفصیل اور اس کے دلائل بیان کرنے سے قاصر ہیں تاکہ ہمارے محترم ومعزز قارئین پر گراں نہ گذرے،
محترم قارئین!
پہلا قول ضعیف ہے اور دوسرا قول جمہور اہل علم کا ہے جنھوں نے چند شرائط کے ساتھ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:
پہلی شرط: جس ضعیف حدیث پر عمل کیا جا رہا ہو وہ سخت ضعیف نہ ہو۔
دوسری شرط: جس ضعیف پر عمل کیا جا رہا ہو اس سے ایسے عمل کی فضیلت ثابت ہوتی ہو جس کا ثبوت صحیح حدیث میں موجود ہو۔
تیسری شرط: کوئی ضعیف حدیث پر عمل کرتے وقت یہ نہ سمجھے کہ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،
چوتھی شرط: وہ ضعیف حدیث کسی صحیح حدیث سے متعارض نہ ہو رہی ہو۔
پانچویں شرط: اس ضعیف حدیث سے جو عمل ثابت ہو رہا ہو اسے مسنون نہ سمجھا جائے۔
چھٹی شرط: اس ضعیف حدیث پر عمل کرنے کو لوگوں کے درمیان مشہور نہ کرے،
قارئین کرام!
مذکورہ شرطوں کو بار بار پڑھیں اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ:
جو لوگ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے جواز کے قائل ہیں کیا انھیں مذکورہ تمام شروط کی پابندی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے یا نہیں؟ کیوں کہ جن علماء کے اقوال کی بنیاد پر وہ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے قائل ہیں انھی علماء نے ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے مذکورہ شروط بھی بیان کیے ہیں؟
اور آج کے زمانے میں کون ان تمام شروط کی پابندی کے ساتھ ضعیف حدیث پر عمل کرتا ہے؟
جب ضعیف حدیث پر مذکورہ شرائط کی پابندی کے ساتھ عمل کرنا ممکن نہیں تو پھر اس موضوع کو ہوا دینے کا کیا مقصد ہے؟
کیا کسی ایسے عمل کو فضیلت مل سکتی ہے جس کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملتا ہو؟
کیا ایک مسلمان کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہر قسم کی عبادت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہ بنائے؟
جب ضعیف حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں تو اس حدیث میں موجود فضیلت والا عمل کرنے کے لیے ایک مسلمان کس کو اسوہ بنائے گا؟
کیا ہر مسلمان یہ نہیں چاہتا کہ وہ کوئی بھی عمل کرے تو اس کا اجر وثواب ملے؟
لیکن ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا کوئی ثواب نہیں،
معززقارئین!
آپ نے مذکورہ شروط میں ایک شرط یہ بھی دیکھی ہوگی کہ جس ضعیف حدیث پر عمل کیا جائے اس کے سنت ہونے کا اعتقاد نہ رکھا جائے،
کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ ان اعمال کو انجام دیتے وقت آپ یہ عقیدہ رکھیں کہ ان اعمال کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موجود نہیں؟
نیز جو لوگ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے جواز کے قائل ہیں وہ اسے ہر کسی کے لیے جائز قرار نہیں دیتے جیسا کہ مذکورہ شروط میں ہے،
اسلام کے احکام تو ہر خاص وعام کو شامل ہیں،
مختصر یہ کہ اگر آپ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو اس عمل کو انجام دینے سے پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں،
اب آپ ہی بتائیں کہ فضائل کے باب ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا کیا فائدہ؟
ایک اور بات سمجھیں کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ احادیث میں فضائل کی کچھ کمی رہ گئی ہے کہ ہمیں ضعیف احادیث کے ذریعہ ان فضائل کو پورا کرنے کی ضرورت پڑ گئی؟
دوسری بات: کیا جو لوگ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا جواز علماء کے اقوال سے پیش کرتے ہیں کیا انھوں نے فضائل کے باب میں وارد ایک چوتھائی احادیث صحیحہ پر بھی عمل کیا ہے؟
پھر ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی کون سی ضرورت پیش آگئی؟
تیسری بات یہ کہ: جب جب ضعیف حدیث کو راوج ملا ہے صحیح سنت لوگوں کے درمیان سے ختم ہوگئی اور طاق نسیاں کی زینت بن گئی۔
چوتھی بات یہ کہ: بدعتی اپنی بدعت کو رواج دینے کے لیے ضعیف حدیث کا ہی استعمال کرتا ہے،
پانچویں اور اہم بات یہ کہ: کسی بھی عمل کے صحیح اور عند اللہ مقبول ہونے کے لیے بنیادی طور دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے،
آخری بات: کیا ہم اپنی تحریر وتقریر کے ذریعہ عوام کو یہ آگاہ کر سکتے ہیں کہ یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے،
خلاصہ کلام یہ کہ: فضائل اعمال کے باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر صحیح احادیث وارد ہیں کہ دن رات عبادت میں غرق رہنے والا مسلمان بھی ان تمام احادیث پر بہ مشکل عمل کر سکتا ہے،
اس لیے ہمارا منہج یہی ہونا چاہیے کہ صحیح حدیث سے فضائل اعمال کو بیان کریں اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب امت کو دلائیں اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں،
واللہ اعلم،





