زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو نئی راہوں کے لیے سنگ میل ثابت ہوتے ہیں۔پتھر راہ کے صرف روڑے نہیں بنتے مائل سٹون بھی بنتے ہیں۔ٹھہرے ہوئے پانی میں تحریک پیدا کرتے ہیں۔کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ٹھوکروں سی لگتی ہیں مگر دشائیں ٹھیک کردیتی ہیں۔کچھ سلوک ایسے ہوتے ہیں جو جابرانہ سے لگتے ہیں مگر دل کی دویدھا دور کردیتے ہیں۔ایسے سارے لمحے اکثر یاد آتے ہیں۔وہ چہرے بھی یاد آتے ہیں جو ان لمحوں میں زندہ رہتے ہیں۔من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ۔یاد آنا کافی نہیں لگتا،
اساتذہ تو سارے ہی کچھ نہ کچھ سکھا جاتے ہیں۔ماسٹر مشتاق احمد صاحب کا ہی جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔ان کے علمی فیوض پر ہی ساری (جتنی بھی شدبد ہے) انگریزی دانی کی بنیاد ٹکی ہے۔ایک ایک استاد سے کئی کئی اپلبدھیاں منسوب ہیں۔
مختلف مواقع پر اساتذہ سے جڑی ہوئی متعدد یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔وہ یادیں تو نجی تجربے ہیں مگر ان سے ایک بہترین استاد اور بے مثال مربی کی جو تصویر ابھرتی ہے اس پر رشک کرنا ہی کافی نہیں ہے،
کتنا برا لگا تھا مجھے جب مولانا عدیل صاحب نے میرے سوٹ کیس میں وہ تہ خانہ برآمد کرلیا تھا۔فلمی ہیرو ہیروئنوں کی تصویروں والے چھوٹے چھوٹے بے شمار اسٹیکر سجا رکھے تھے میں نے۔
کتنی مشکل سے ملتے تھے وہ دو روپے مولانا عبدالغنی سراجی صاحب سے۔کپڑے استری کروانے کے لیے مانگو تو آیرن ہی دے دیتے تھے۔سموسے کے نام پر کسی طرح مل جانے والے وہ دو دو روپے بے کار اسٹیکروں کی شکل دھارے میرے سوٹ کیس کے نچلے حصے میں سجے رہتے تھے۔دیکھ کر آنکھوں میں چمک آجاتی تھی،
مولانا عدیل صاحب نے سارے اسٹیکر اپنی تحویل میں لے لیے۔میں ان کے کمرے میں مجرم کی طرح کھڑا تھا،
ایک بار تیز بخار ہوا،
پڑھائی میں دلچسپی رکھنے والے اور امتحان میں اچھا نمبر لانے والے ایک طالب علم کے ساتھ مولانا کی یہ فکرمندی میرے لیے زندگی بھر کا سبق بن گئی۔اس کے بعد پھر کبھی کلاس سے غیر حاضری کا نہیں سوچا۔ایک مرتبہ کرکٹ کھیلتے ہوئے گھٹنا زخمی کرلیا،
ششماہی امتحان تھا،
ششماہی تعطیل کے بعد دوبارہ پڑھائی شروع ہوئی،
استاد محترم کی مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے کہی ہوئی یہ بات آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے اور ایک انوکھے جذبے سے سرشار کردیتی ہے۔اس وقت نہیں پتہ تھا فکر و فن کی یہ حوصلہ افزائی کبھی اس لائق بھی بنادے گی کہ وہی قلم اس واقعے کو اپنی اٹھان کا عنوان لکھے گا۔
ایسے استاد اور مربی جنھیں میسر ہوں ان کے بہتر مستقبل کی امیدیں کی جاسکتی ہیں۔ورنہ استاد کا ایک غلط قدم،
اللہ رب العالمین ہمارے استاد محترم مولانا محمد عدیل سلفی صاحب اور دیگر تمام اساتذہ کو جزائے خیر عطا فرمائے،





