ضعیف حدیث یاتو قطعی طور پر نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتى ہے یا ظن غالب کی بنیاد پر وہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہے،
علامہ شاطبی فرماتے ہیں:
الأحاديثُ الضعيفةُ الإسناد لا يغلبُ على الظنّ أنّ النبي صلى الله عليه وسلم قالها،
علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
الضعيف الذي يبلغ ضعفه إلى حدٍّ لا يحصل معه الظن،
ضعیف حدیث سے کسى شرعی حکم پراستدلال کى ممانعت پر ائمہ سلف کا اتفاق بھى منقول ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
لم يقل أحد من الأئمة: إنه يجوز أن يُجعَل الشيءُ واجبًا،
حافظ جلال الدین دوانی فرماتے ہیں:
اتفقوا على أنّ الحديث الضعيف،
مزید برآں اگر اللہ تعالى کسى حکم کومشروع قرار دینا چاہتا تو وہ اسے اپنے بندوں تک ان کے نزدیک معتبر ذرائع میں سے کسى ذریعہ سے پہنچاتا،
اس بات کى مزید وضاحت کرتے ہوئے علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’الحمد للہ ہم اس بات سے بالکل مامون ہیں کہ شریعت کی کوئی بھی بات جس کا نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہو یا اسے مندوب قرار دیا ہویا آپ نےاسےکرکے دکھایا ہو،
شرعى احکام میں ضعیف حدیث سے استدلال کى ممانعت کى وجہ یہ ہےکہ اس سے نبى صلى اللہ علیہ وسلم کى طرف ایک ایسے شرعی حکم کى نسبت کرنا لازم آتا ہے جو آپ سے نہ تو قطعى طور پر اور نہ ہی ظن غالب کى بنیاد پر ثابت ہےاور نبى صلى اللہ علیہ وسلم کى طرف کسى ایسے حکم کى نسبت کرنا جو آپ سے ثابت نہیں شریعت میں اضافہ يا خلل کا سبب ہے،
لہذا کسى بھى حدیث سے استدلال کرنے سے پہلے اس کى استنادى حیثیت سے واقفیت ضرورى ہے اور اگر یہ معلوم نہ ہوکہ وہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف تو ایسى صورت میں اس سے استدلال کرنا جائز نہیں۔
علامہ نووی فرماتے ہیں:
’’اگر کسى شخص کو حدیث کے ضعف کا علم ہوتو اس کے لیے اس حدیث سے استدلال کرناجائز نہیں کیونکہ علماکا اس با ت پر اتفاق ہے کہ احکام میں ضعیف حدیث سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔اور اگر اسےاس حدیث کا ضعف معلوم نہ ہو اوروہ اس فن کا جانکار ہو تو اس کے لیےبغیر بحث وتحقیق کےاس حدیث سے استدلال کرنا جائز نہیں،
اسى طرح حافظ ابن حجر کتب سنن اورکتب مسانید میں موجود کسى حدیث سے استدلال کاضابطہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’چونکہ دونوں کے مصنفین نے اپنى اپنى کتابوں میں اس بات کى پابندى نہیں کى ہے کہ وہ صرف صحیح اور حسن حدیثیں ہى ذکر کریں گے۔لہذا اگر استدلال کرنے والا صحیح اور غیر صحیح کے درمیان تمیز کى اہلیت رکھتا ہو تو اس کے لیے قطعا یہ روا نہیں کہ کتب سنن یا کتب مسانید میں موجود کسى حدیث سے اس کى سند کے اتصال اور رواۃ کے احوال سے واقف ہوئے بغیر استدلال کرے۔
اور اگر صحیح اور ضعیف کے درمیان تمیز کرنے کا اہل نہ ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ حدیث صحیحین میں بھی ہے یا کسى امام نے اس کو صحیح قرار دیا ہے تو پھر اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث سے استدلال کر سکتا ہے۔اور اگر اس حدیث کے متعلق کسى امام کى تصحیح یا تحسین نہ ملے تو ایسى صورت میں اس کے لیے اس حدیث سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہوگا،
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ تصحیح وتضعیف کے باب میں اس فن کے معتبر اہل علم کى طرف رجوع کرنا ویسے ہى ہے جیسےہم ہرفن میں اس کے ماہر ین کى طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کى تحقیقات سے استفادہ کرتے ہیں،
هذا الحديث لا يثبته أهل العلم بالحديث[الأم:۴/۷۶-۵/۵-۶/۲۴۳]اس حدیث کو علمائےحدیث (محدثین) ثابت نہیں مانتے۔
نیز امام شافعى کااس باب میں امام احمد سے استفادہ کرنا اور ان سے حدیث کى صحت وضعف کے بارے میں تثبت کرنا اہل علم کے نزدیک معروف ومشہور ہے۔
چنانچہ عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتےہیں کہ میں نے اپنے والدکویہ فرماتے ہوئے سنا کہ شافعی نے کہا:
أنتم أعلم بالأخبار الصحاح منا،
یہى وجہ ہے کہ ائمہ سلف نے ایک عالم کے لیے صحیح اور ضعیف حدیث کى معرفت کو لازم قرار دیا ہے۔چنانچہ امام اسحاق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل رحمھما اللہ فرماتے ہیں:
إنّ العالم إذا لم يعرف الصحيح والسقيم من الحديث لا يسمى عالِمًا[معرفة علوم الحديث للحاكم:ص۶۰] اگر عالم کو صحیح اور ضعیف حدیث کا پتہ نہ ہو تو اسے عالم نہیں کہیں گے۔
اسى طرح امام احمد کا ایک قول یہ بھى ہے:
ينبغي للرجل إذا حمل نفسه على الفتيا أن يكون عالما بالسنن،
اگر کوئی شخص مفتی بننا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سنن کا جانکار ہو،
کسى حدیث سے استدلال کے وقت صحیح اور ضعیف کی تمیز وتحقیق کى اسى اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر ہر دور میں علماء امت کى ایک معتد بہ تعدادنے اس جاں گسل کام کابیڑا اٹھایا،
عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ یہ موضوع ومن گھڑت احادیث کا جو سلسلہ چل پڑا ہے اس کا کیا ہوگا؟ تو انھوں نے جواب دیا:
تعیش لها الجهابذة[ مقدمة ابن الصلاح:ص۶]
یعنی اس کے لیے ماہرنقادحدیث پیدا ہوتے رہیں گے جو ان من گھڑت حدیثوں کى کدورت سے سنت نبویہ کے رخ زیباکوصاف کرتے رہیں گے۔
چنانچہ اس مشن کے لیے مالک بن انس،
علم حدیث کے حوالے سے اسلاف کی جملہ علمى جہودپر غور کرنےسےیہ حقیقت طشت از بام ہوجاتى ہےکہ ان کى تمام تر کوششوں اور کاوشوں کا صرف اور صرف یہى ایک مقصد تھا کہ نبى صلى اللہ وسلم کى طرف منسوب احادیث کى چھان بین کى جائے،
چنانچہ اسى کدو وکاوش کے نتیجے میں فن حدیث کے اصول وضوابط نکھر کر سامنے آئے،
ان سب علوم وفنون کا بنیادى مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ صحیح اور ضعیف احادیث کے درمیان تمیزہو تاکہ صرف انھی احادیث پر عمل کیا جائےجو نبى صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں۔
علامہ شاطبى رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اگر اسلام کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہونے علماء کو ہر کس وناکس راوى کى جو بھى حدیث ملے اسے اخذ کرنا اور قبول کرنا ہى ہوتا تو پھر انھوں نے جرح وتعدیل کا جویہ بیڑا اٹھایا اس کاکوئى معنى ہى نہیں ہوتا جبکہ جرح وتعدیل پر ان کا اتفاق ہے۔اسى طرح حدیث کى سند طلب کرنا بھى ایک بے مقصد کام ہوتا جبکہ انھوں نے سند کو دین کا حصہ قرار دیا ہے۔چنانچہ ان کا یہ کہنا کہ:حدثنى فلان عن فلان (کہ فلاں راوى نے مجھ سے فلاں کے واسطے حدیث بیان کى) یہ یونہى بلا مقصد نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کے ذریعہ حدیث کےراویوں کے بارے میں جاننا مقصود ہوتا تھا تاکہ کسى مجہول یا مجروح یامتہم راوى سے حدیث نہ لى جائے اور نہ ہى ایسے شخص سےجس کى روایت قابل اطمینان نہ ہو،
نیز اس سلسلے میں ائمہ سلف کے طرز عمل کو بیان کرتے ہوئے حافظ ابن الجوزی لکھتے ہیں:
وقد كان جماهير أئمة السلف يعرفون صحيح المنقول من سقيمه،
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إنّ الأئمة لا يروون عن الضعفاء شيئًا،
ائمہ (حدیث) ضعیف راویوں سے کوئى ایسی حدیث نہیں روایت کرتے ہیں کہ محض اسى پر اعتماد کرتے ہوئے احکام میں اس سے استدلال کریں،
چنانچہ ایک بار امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے صلاۃ جمعہ کے متعلق ایک مسئلہ کا ذکر آیا کہ جمعہ کى نماز کس پر واجب ہے؟ امام احمد نے اس مسئلے میں نبى صلى اللہ علیہ وسلم سے کوئى حدیث ذکر نہیں کى،
یہ حدیث سن کر امام احمد رحمہ اللہ اس شخص پرسخت برہم ہوئے اور اس سے کہا: ’’استغفر ربك،
امام ترمذی رحمہ اللہ اس واقعہ کوذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
إنما فعل أحمد بن حنبل هذا؛
یعنی حدیث کى سند ضعیف ہونے کى وجہ سے امام احمد بن حنبل نے اس کو ذرا بھى در خو اعتنا نہ سمجھا۔
خلاصہ کلام یہ کہ کسی شرعی حکم کےاثبات کے لیےضعیف حدیث کو بنیاد بناناجائز نہیں اور یہی ائمہ سلف ومحقق اہل علم کاطریقہ رہا ہے،






