عائشہ کی خود کشی نے ایک بار پھر جہیز اور خواتین پر ظلم و زیادتی کو موضوع بحث بنادیا ہے۔ہر طرف سے جہیز کے لین دین کی مذمت،
نہایت ہی خوشی کا مقام ہے کہ اس سلسلہ میں ہر طرف سے آواز بلند ہوئی خاص طور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فعال و متحرک جنرل سکریٹری جناب مولانا ولی رحمانی صاحب نے بھی اس کی سنگینی اور خود مسلم سماج میں اس کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ’’اس طرح کے واقعات کسی بھی سماج کے لیے افسوس ناک ہیں اور سماج کو اس کے وجوہات پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے،
مولانا ولی رحمانی صاحب جیسی فعال اور ذمہ دار شخصیت کا اس طرح کا بیان قابل قدر اور قابل ستائش ہے۔لیکن یہاں یہ پہلو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ لڑکیوں کا بھی اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کی جائیداد میں حق ہے جو وراثت کی شکل میں انھیں ضرور ملنا چاہیے اور اگر ان کا صحیح حق صحیح تناسب سے انھیں ملنے لگے تو بہت حد تک خود بخود جہیز کی مانگ اور اس کی لعنت کچھ کم ہوگی اور پھر نہ وہ اپنے حق سے محروم ہوں گی اور نہ دوسرے لوگ مزید لالچ کے جواز کے چور راستے ڈھونڈنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسی تنظیموں اور اس کے عہداروں،
یاد رہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور اس سے نسبت صرف کوئی اسٹیٹس سمبل یا اعزازی نسبت نہیں بلکہ یہ ایک مقدس مقصد کے لیے شروع کی گئی ملکی سطح پر معتبر ترین ایک عظیم تحریک سے نسبت ہے جس کے پیچھے بہت سے عظیم مقاصد اور اس کے لیے اعلی اخلاق و کردار اور اعمال کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں بورڈ کی طرف سے ایک عہد نامہ کی تیاری اور اس پر تمام متعلقین سے تعاہد اور دیگر معاون افراد اور تنظیموں کو بھی ساتھ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا یہ اقدام نہایت دور رس اور اچھے نتائج کا ان شاءاللہ حامل ہوگا۔اور ملک کے مسلمانوں تک اس کا اچھا پیغام جائے گا جس پر دیر سویر ان شاءاللہ دوسری تنظیمیں بھی کاربند ہوں گی اور کچھ حد تک اس طرح کے معاملے سے نمٹنے میں ان شاء اللہ ضرور مدد ملے گی۔






