اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے:
وَجَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَقَبائِلَ لِتَعارَفُوا [سورۃ الحجرات:١٣] اور ہم نے تمھیں کنبے اور قبائل میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔
کنبے،
تعلموا من أنسابكم ما تصلون به أرحامكم (تم اپنے انساب کو سیکھو جس سے صلہ رحمی کر سکو)
[جامع الترمذى،
صحابہ کرام میں ابو بکر صدیق،
اس فن پر متعدد کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن میں سے چند مشہور کتابیں یہ ہیں:
١-جمهرة نسب قريش وأخبارها للزبير بن بكار الأسدي المكي
٢-جمهرة أنساب العرب لابن الكلبي
٣-الأنساب للسمعاني
٤-جمهرة أنساب العرب لابن حزم
اسلام سے پہلے اہل عرب کی عادت تھی کہ وہ خاندان اور قبائل کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے تھے۔پھر جب اسلام آیا اور گاؤں،
اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حافظ عراقی فرماتے ہیں:
وَضَاعَتِ الأَنْسَابُ في البُلْدَانِ ... فَنُسِبَ الأَكْثَرُ لِلأَوْطَانِ
[ألفيۃ العراقي: ص١٨٥]
اور علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقد كانت العرب إنما تنتسب إلى قبائلها فلما جاء الإسلام وغلب عليهم سكنى القرى انتسبوا إلى القرى كالعجم (اہل عرب اپنے قبائل کی طرف منسوب ہوتے تھے،
اگر ہم اسلامی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو نسبت اختیار کرنے کے متعدد طریقے نظر آتے ہیں۔چنانچہ بعض قبائل کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں،
”وَلاء“ کی طرف نسبت کا مسئلہ ہو سکتا ہے بعض لوگوں کے لیے سمجھنا تھوڑا مشکل ہو۔اس لیے اس کی تھوڑی سی تفصیل پیش کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
ولاء کی تین قسمیں ہیں:
پہلی قسم: وَلاء العَتَاقَہ: اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی غلام کو کسی نے آزاد کیا ہے تو وہ اپنے مُعتِق (آزاد کرنے والے) کے قبیلے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے۔جب رُوات حدیث کے متعلق "مولی لہم" کہا جاتا ہے تو ولاء کی یہی قسم اکثر مراد ہوتی ہے۔
مثلا: امام ترمذی رحمہ اللہ اعمش کے متعلق فرماتے ہیں:
والأعمش اسمه سليمان بن مهران أبو محمد الكاهلي وهو مولى لهم (جامع الترمذي:١/٦٦)
علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ «وهو مولى لهم» کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
أي نسبة الأعمش إلى قبيلة كاهل من جهة أنه مولى لهم لا من جهة أنه هو منهم صلبية (یعنی قبیلہ کاہل کی طرف اعمش کی نسبت ان کے آزاد کردہ غلام ہونے کے اعتبار سے ہے،
دوسری قسم: وَلاء الاسلام: اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کے ہاتھ پہ اسلام قبول کرے تو اس شخص کے قبیلے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے۔امام بخاری رحمہ اللہ کی ایک نسبت "جُعْفِی" بھی ہے،
تیسری قسم: ولاء الحلف: یعنی کسی قبیلے کے ساتھ باہمی نصرت کا معاہدہ ہو تو اس کی طرف منسوب ہونا۔
(تفصیل کے لیے دیکھیں: تحفۃ الاحوذی ١/٦٢،
موجودہ زمانے میں وطن عزیز میں تعلیمی اداروں کی طرف انتساب کا رواج عام ہوگیا ہے،
دوسرے ممالک میں ہو سکتا ہے اب تک یہ سلسلہ رائج نہ ہوا ہو سوائے جامعہ ازہر (مصر) کے۔وہاں کے فضلا کا ازہری نسبت استعمال کرنا معروف ہے۔یہاں تک کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے بر صغیر کے بیشتر متخرجین عموما ”مدنی“ نسبت استعمال کرتے ہیں،
ماضی قریب تک علماے ہند کی تاریخ میں بھی علاقوں کی طرف انتساب کا ہی سلسلہ ہمیں ملتا ہے،
بہرحال تعلیمی اداروں کی طرف انتساب کا یہ طریقہ اب معروف ومشہور ہے۔اور اس میں شرعًا یا عُرفًا ان شاء اللہ کوئی حرج بھی نہیں ہے۔اگر کوئی کسی مدرسے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے تو اس پر نکیر نہیں کی جاسکتی۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے یہ علماے متقدمین کی سنت نہیں ہے،






