کسی بھی حدیث کی قبولیت کے لیے محدثین کرام نے درج ذیل چھ شرطیں رکھی ہیں:
۱۔روات عادل ہوں۔
۲۔ضابط ہوں (یعنی غلطیوں اور بہ کثرت غفلت سے پاک ہوں)۔
۳۔سند متصل ہو۔
۴۔ضعف خفیف (مثلًا سند میں خفیف یا خفی انقطاع ہو،
۵۔۶۔شذوذ اور علتِ قادحہ سے خالی ہو۔[ملاحظہ فرمائیں:شرح التبصرۃ والتذکرۃ للعراقی1/177،
جب کسی حدیث کے اندر مذکورہ صفات موجود ہوں تو وہ محدثین کے نزدیک قبولیت کے درجہ پر فائز ہوجاتی ہے۔اور اگراس میں مذکورہ کوئی شرط مفقود ہو تو وہ درجہ قبولیت سے نیچےگر جاتی ہے۔اور اسے ضعیف یا مردود کہا جاتا ہے۔
پتہ چلا کہ کسی بھی حدیث کی قبولیت کے لیے محدثین کے نزدیک پہلی شرط یہ ہے کہ اسے روایت کرنے والے تمام طبقوں کے روات عادل ہوں۔اس لیے کسی بھی حدیث کی تخریج کرتے وقت جمع طرق کے بعد محدثین سب سے پہلے یہی تحقیق کرتے ہیں کہ اس کے تمام طبقوں کے روات (سوائے صحابہ کرام کے طبقے کے) عادل ہیں یا نہیں۔صحابہ کرام کے طبقے میں وہ یہ زحمت نہیں اٹھاتے کہ ان کی عدالت کے بارے میں بحث وتحقیق کریں،
محدثین کے نزدیک عدالت ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو تقوی ومروت کی مداومت پر ابھارے۔اس لیے کسی راوی کی عدالت کی تحقیق کے وقت یہ پانچ چیزیں دیکھی جاتی ہیں:اسلام،
”فسق وخوارم مروت امور سے اجتناب“ کا یہ معنی نہیں کہ انسان بالکل معصوم ہو،
لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ[سورۃ التحریم:۶]اللہ تعالی نے انھیں یعنی فرشتوں کو جو حکم دیا ہے وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور جس کام کا انھیں حکم دیا جاتا ہے اسے وہ بجا لاتے ہیں۔
اس لیے جب محدثین کرام ”عدالت“ کے شرائط بیان کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں وہ ”فسق وخوارم مروت امور سے پاک ہوں“ تو اس کا قطعًا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہی نہ ہوا ہو۔
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَوْ عَمِلَ الْعُلَمَاءُ وَالْحُكَّامُ عَلَى أَنْ لَا يَقْبَلُوا خَبَرًا وَلَا شَهَادَةً إِلَّا مِنْ مُسْلِمٍ بَرِيءٍ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ قَلَّ أَوْ كَثُرَ لَمْ يُمْكِنْ قَبُولُ شَهَادَةِ أَحَدٍ وَلَا خَبَرِهِ[الکفایہ للخطیب البغدادی:ص۸۰]علما اور حکمراں اگر یہ اصول بنا لیں کہ وہ صرف ایسے مسلمان شخص کی خبر اور گواہی قبول کریں گے جو ہر طرح کے گناہوں سے پاک ہو،
صحابہ کرام کے متعلق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ان سے معصیت کا ارتکاب ممکن ہے،
لا يعتقدون أن كل واحد من الصحابة معصوم عن كبائر الإثم وصغائره،
البتہ گناہوں سے معافی کے جو متعدد ذرائع واسباب شریعت نے مقرر کیے ہیں وہ اسباب بہ درجۂِ اتم صحابہ کرام میں موجود ہونے کی وجہ سے وہ مغفور ہیں،
مثلا:غزوۂِ تبوک میں پیچھے رہ جانے والوں کے متعلق اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
وعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ[سورة التوبة:۱۱۸]
غزوۂِ احد میں دوبارہ حملہ ہوا تو بہت سارے صحابہ کرام کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ فرار اختیار کر لیے،
إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ التَقَى الجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ[آل عمران:۱۵۵]
غزوۂِ حنین میں بھی جب اسی طرح میدان جنگ سے فرار کا حادثہ ہوا تو اس پر بھی اللہ تعالی نے ان کی سرزنش کی،
وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ۔ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ۔ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ[سورة التوبة:۲۵۔۲۷]
بلکہ اللہ تعالی نےتو ان سے اپنی رضامندی کاعمومی اعلان کر دیاہے۔مثلا: اس کا ارشاد ہے:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ[سورة التوبة:۱۰۰]
اب اس اعلان کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان سے صادر بعض معصیتوں کی بنا پر وہ ان کا محاسبہ کرے اور ان کی عدالت کے بارے کلام کرے۔یہ در حقیقت اللہ تعالی کے فیصلے پر کلام کرنا ہے۔
دوسری بات:جس طرح دوسرے عادل وثقہ رواتِ حدیث کو مجرد کسی معصیت کے ارتکاب کی وجہ سے ساقط العدالہ نہیں قرار دیا جاتا اسی طرح صحابہ کرام کا بھی معاملہ ہے،
اس لیے جو حضرات کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سےصحابہ کرام کی عدالت پر کلام کرتے ہیں وہ دراصل محدثین کے منہج سے واقف ہی نہیں۔”عدالت“ کا قطعًا یہ مفہوم نہیں جو انھوں نے اپنے ذہنوں میں بیٹھایا ہوا ہے۔اگر ان کے خود ساختہ اصولوں پر ”عدالت“ کا مفہوم طے ہونے لگے تو امت میں کوئی عادل نہیں بچےگا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لو كان العدل من لا ذنب له لم نجد عدلًا،
اور امام سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس من شريف ولا عالم ولا ذي سلطان إلا وفيه عيب لا بد،
اور خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَا يَكَادُ يَسْلَمُ الْمُكَلَّفُ مِنَ الْبَشَرِ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ[دیکھیں:الکفایہ للخطیب البغدادی:ص۸۰]کوئی مکلف شخص ہر طرح کے گناہوں سے شاید ہی بچ سکتا ہو۔
چنانچہ آپ رحمہ اللہ ”محدثین کے نزدیک عدالت کا مفہوم“سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
إِنَّ الْعَدْلَ هُوَ مَنْ عُرِفَ بِأَدَاءِ فَرَائِضِهِ وَلُزُومِ مَا أُمِرَ بِهِ, وَتَوَقِّي مَا نُهِيَ عَنْهُ, وَتَجَنُّبِ الْفَوَاحِشِ الْمُسْقِطَةِ, وَتَحَرِّي الْحَقِّ وَالْوَاجِبِ فِي أَفْعَالِهِ وَمُعَامَلَتِهِ, وَالتَّوَقِّي فِي لَفْظِهِ مَا يَثْلِمُ الدِّينَ وَالْمُرُوءَةَ, فَمَنْ كَانَتْ هَذِهِ حَالَهُ فَهُوَ الْمَوْصُوفُ بِأَنَّهُ عَدْلٌ[الکفایہ للخطیب البغدادی:ص۸۰]عادل وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی،
یہ ہے محدثین کے نزدیک عدالت کا صحیح معنی ومفہوم۔
جہاں تک صحابی کی بات ہے تو علما نے اس کی تعریف میں کہا ہے:
”جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کی حالت میں ملے ہوں اور ایمان پر ہی ان کی وفات ہوئی ہو،
اس تعریف سے ہر وہ شخص صحابی کے زمرے سے خارج ہےجو ایمان کی حالت میں نہیں بلکہ کفر یا نفاق کی حالت میں اللہ کے رسول سے ملا تھا،
اس لیے منافقین یا مرتدین کو سامنے رکھ کر عدالت صحابہ پر کلام کرنا بھی منہج محدثین سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔
افسوس کہ بہت سارے حضرات جو عدالت صحابہ پر کلام کرتے ہیں وہ ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جو اسی قبیل سے ہوتی ہیں،
ظاہر سی بات ہے کہ یہ جب صحابی کی تعریف میں فٹ ہی نہیں بیٹھتے تو ان کے جرائم کو دلیل بنا کر صحابہ کرام کی عدالت پر کلام کرنا کہاں کا انصاف ہے۔
جو بھی شخص محدثین کرام کے منہج سے واقف ہوگا وہ کبھی بھی صحابہ کرام کی عدالت کےمتعلق چہ می گوئی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔در اصل صحابہ کرام کی عدالت کے بارے میں کلام کرنا اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر انگلی اٹھانا ہے،
(۱)اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وكذلك جعلناكم أمة وسطاً لتكونوا شهداء على الناس و يكون الرسول عليكم شهيداً[سورة البقرة:۱۴۳]ہم نے اسی طرح تمھیں عادل امت بنایا ہے،
وجہ استدلال:اس آیت کے اول مخاطبین صحابہ کرام ہیں،
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهذا اللفظ وإن كان عاما فالمراد به الخاص،
(۲)اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
كنتم خير أمة أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله[سورة آل عمران:۱۱۰] تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے،
وجہ استدلال:اس آیت کے اول مخاطبین صحابہ کرام ہیں،
(۳)اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم و رضوا عنه وأعد لهم جنات تجري تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا ذلك الفوز العظيم[سورة التوبہ:۱۰۰]
وجہ استدلال:اس آیت میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام کو مطلقا اپنی رضامندی اور جنت کی عظیم خوشخبری سنائی ہے،
قرآن کریم کی طرح احادیث رسول میں بھی ان کی عدالت کی گواہی دی گئی ہے۔ذیل میں بعض احادیث پیش خدمت ہیں:
۱۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دینے کے بعد صحابہ کرام کے جم غفیر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
ألا ليبلغ الشاهد منكم الغائب[متفق علیہ:صحیح بخاری،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام کو یہ ذمہ داری دی،
۲۔نبی صلہ اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبًا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه[متفق علیہ،
نبی صلہ اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ پر سب وشتم سے مطلقا منع فرمایا،
اس لیے جو لوگ صحابہ کرام کی عدالت پر کلام کر رہے ہیں وہ در حقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
اسی لیے اللہ کے فضل وکرم سے امت میں سے کسی نے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی سوائے چند باطل فرقوں اور ان کے ہمنواؤوں کے۔چنانچہ بے شمار علما نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے کہ تمام کے تمام صحابہ کرام عادل ہیں۔
(۱)خطیب بغدادی رحمہ اللہ عدالت صحابہ پر کتاب وسنت کے دلائل پیش کرنے اور ان دلائل سے تمام صحابہ کرام کی عدالت ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:
”یہ تمام علما اور معتبر فقہا کا مذہب ہے“۔[الکفایہ:ص۶۷]
(۲)حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
للصحابة بأسرهم خصيصة،
(۳)علامہ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن جميع الأمة مجمعة على تعديل من لم يلابس الفتن منهم وأما من لابس الفتن منهم وذلك حين مقتل عثمان رضي الله عنه فأجمع من يعتد به أيضًا في الإجماع على تعديلهم إحسانًا للظن بهم،
(۴)حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اتفق أهل السنة على أن الجميع عدول و لم يخالف ذلك إلا شذوذ من المبتدعة[الاصابۃ فی تمییز الصحابہ:1/17]
عقل بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کی عدالت کے بارے میں کسی بحث وتفتیش کے بغیر ان کی احادیث قبول کی جائیں کیونکہ اگر عدالت کی وجہ سے ان کی احادیث رد کی جانے لگیں تو الزامی طور پر یہ اللہ اور اس کے رسول پر طعن ہوگاکہ اللہ تعالی نے نقل شریعت کے لیے ان کا انتخاب کیا جو اس لائق نہ تھے،
نیز اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلےگا کہ شریعت صرف عہد صحابہ تک ہی سمٹ کر رہ جائے اور آنے والی نسلوں تک منتقل نہ ہو،
رہی بات حفظ وضبط کی تودوسرے ثقہ وعادل روات کی طرح صحابہ کرام سے بھی سہو وخطا کا امکان ہے،
مثلا:ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے جب شادی کی تھی تو آپ حالت احرام میں تھے۔[صحیح مسلم:حدیث نمبر۱۴۱۰]
یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم کے اندر مروی ہے۔لیکن محدثین نے متعدد دلائل کی بنا پر بیان کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کرنے میں سہو ہوا ہے۔[دیکھیں:التمہید لابن عبدالبر:3/158،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے جب شادی کی تھی اس وقت آپ احرام کا لباس اتار چکے تھے اور حلال ہو چکے تھے۔خود میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شادی ہوئی دونوں حلال ہو چکے تھے۔[صحیح مسلم:حدیث نمبر۱۴۱۱]
تو عدالت صحابہ کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ کسی صحابی سے حفظ وضبط کے باب میں کوئی سہو یا وہم نہیں ہو سکتا،
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأما الغلط فلا يسلم منه أكثر الناس،
مستشرقین نے اس طرح کےبعض دلائل کو پیش کرکے امت کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ صحابہ کرام کی مطلقا عدالت کا دعوی کرنا درست نہیں،
تو یہ محض ایک تلبیس ہے اور محدثین کے منہج سے عدم واقفیت کی دلیل۔اس طرح کے شبہات سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور محدثین کے نزدیک عدالت صحابہ کا صحیح مفہوم کیا ہے اسے جاننے کی ضرورت ہے۔
جب دوسرے روات حدیث سے کبھی کبھار روایت حدیث میں چوک ہو جانے کی وجہ سے ان کی عدالت مجروح نہیں ہوتی اور ایک آدھ غلطیوں کے باوجود وہ بالاتفاق عادل وثقہ ہی شمار کیے جاتے ہیں تو کیا یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ اس طرح کی ایک آدھ غلطیوں کو بنیاد بنا کر صحابہ کرام کی عدالت کو مجروح کیا جائے اور انھیں ساقط العدالہ سمجھا جائے؟
صحابہ کرام سے جن بعض احادیث کی روایت میں سہو ہوا ہے ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ انھیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔اللہ کے فضل وکرم سے کسی بھی صحابی سے اتنے اوہام سرزد نہیں ہوئے جنھیں بنیاد بنا کراس صحابی کی عدالت پر کلام کرنا جائز بلکہ قرین انصاف ہو۔یہاں محدثین کرام کا عدل وانصاف دیکھیں کہ وہ صحابہ کرام سے بے انتہا عقیدت رکھنے کے باوجود تحفظ شریعت کو مقدم رکھتے ہیں اور خود ان اوہام کی نشاندہی کرتے ہیں جو ان سے سرزد ہوئیں،
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں سلف صالحین کے منہج پر قائم ودائم رکھے اور نبیین صدیقین شہدا وصالحین کے ساتھ ہمارا حشر ہو۔






