اسلام میں شہادتین کے اقرار کے بعد سب سے زیادہ اہمیت نماز کی ہے۔اسلام میں یہ تصور نہیں کہ کوئی مسلمان بے نمازی ہو سکتا ہے،
کتاب وسنت کے بے شمار نصوص بے نمازی کے کفر پر دلالت کرتے ہیں،
جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مجوسی ابو لؤلؤۃ نے خنجر مارا تو آپ اپنی نماز پوری نہ کرسکے،
یہی بات دوسرے صحابہ کرام بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا:ارشاد ہے
العَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ،
(ہمارے اور ان کے–یعنی کفار ومشرکین کے-درمیان فرق کی چیز نماز ہے،
مشہور تابعی عبد اللہ بن شقیق العقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "كان أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم لا يرون شيئا من الأعمال تركه كفر غير الصلاة"۔[سنن الترمذي،
(صحابہ کرام نماز کے علاوہ اور کوئی دوسرا عمل ایسا نہیں تھا جسے چھوڑنے کو کفر سمجھتے تھے۔)
بظاہر اس میں انھوں نے تارک صلاۃ کے کفر پر صحابہ کرام کا اجماع نقل کیا ہے۔
لیکن کیا اس سے مطلق نماز چھوڑنے والا مراد ہے؟ یا وہ بھی اس میں شامل ہے جو کبھی کبھی نماز پڑھتا ہے اور کبھی چھوڑتا بھی ہے؟
اس بارے میں علما کے مابین اختلاف ہے۔
راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں سمجھا جائے گا جو کبھی نماز پڑھتا ہے اور کبھی چھوڑتا ہے،
عموما جو حضرات ایسے شخص کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں وہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی کتاب ”حکم تارک الصلاۃ“ کا حوالہ دیتے ہیں جیسا کہ کئی حضرات سے اس مسئلہ پر بات کرنے کے بعد احساس ہوا،
آپ سے سوال کیا گیا کہ ایسا شخص جو کبھی نماز پڑھتا ہے اور کبھی چھوڑتا بھی ہے تو کیا ایسا شخص کافر ہے؟
آپ نے جواب دیا کہ ایسے شخص کو کافر نہیں کہا جائے گا۔
آپ کے الفاظ یہ ہیں: "الذي يظهر لي أنه لا يكفر إلا بالترك المطلق بحيث لا يصلي أبداً،
(مجھے لگ رہا ہے جب تک مطلقًا نماز ترک نہ کرے یعنی کہ کبھی بھی نماز پڑھتا ہی نہ ہو تب تک کافر نہیں ہوگا۔البتہ وہ شخص جو کبھی نماز پڑھتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوگا: آدمی اور شرک وکفر کے مابین حد فاصل نماز کا ترک کرنا ہے،
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا مذکورہ کلام تارک صلاۃ کے مسئلہ کو سمجھنے کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔تارک صلاۃ کے کفر پر صحابہ کرام کا اجماع ہے لیکن کسے تارک صلاۃ کہا جائے اس بارے میں اختلاف ہے۔خود شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تارک صلاۃ کے کفر کے قائل ہیں لیکن شیخ نے خود اس کی بہترین توضیح کی ہے کہ کسے تارک صلاۃ کہا جائے اور کسے نہیں۔
اب آتے ہیں بے نمازی کی وفات کے بعد اس کے نماز جنازہ کے مسئلہ پر:
کسی بھی مسلمان کی نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔اگر تمام لوگ ترک کر دیں تو سبھی گنہگار ہوں گے۔اور ابھی بیان کیا گیا کہ اگر کوئی کبھی نماز پڑھتا ہے،
ہاں البتہ جس طرح دوسرے بعض گناہوں کے متعلق آیا ہے کہ معاشرہ کے معزز ونیک لوگ شرکت نہ کریں بلکہ عام لوگ جنازہ پڑھ لیں اسی طرح بے نمازی کے ساتھ سلوک کیا جائے تو کوئی حرج نہیں،
البتہ یہ ضرور دھیان رکھنا چاہیے کہ یہ ایک تادیبی کاروائی ہے،
ایک ضروری تنبیہ:
تارک صلاۃ پر کفر کا حکم یہ "حکم عام" ہے۔اس سے کسی ایسے معین شخص کو جو کلمہ "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کرتا ہو بالتعیین کافر کہنا صحیح نہیں،
نیز بالتعیین تکفیر یہ کسی بھی ایرے غیرے اور طلبہ علم کا کام نہیں ہے،
افسوس کہ بعض مقررین وواعظین اس طرح کی تکفیر میں بہت آگے ہوتے ہیں،
یقینا اتمام حجت سے قبل اس طرح کی بالتعیین تکفیر سلف صالحین کا منہج نہیں،
جہمیہ جو اللہ رب العالمین کے عرش پر مستوی ہونے کا انکار کرتے تھے ان سے مناظرہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے تھے: ”أنا لو وافقتكم كنت كافرًا لأني أعلم أن قولكم كفر وأنتم عندي لا تكفرون لأنكم جهال“۔[الرد على البكري (2/ 494)]
(اگر میں تمھاری موافقت کروں تو کافر ہو جاؤں گا اس لیے کہ مجھے معلوم ہے کہ تمھارا یہ قول کفریہ قول ہے لیکن باوجود اس کے تم میرے نزدیک کافر نہیں کیونکہ تم سب جاہل ہو۔)
پتہ چلا کہ صرف کفریہ عقیدے یا عمل کے پائے جانے سے لازم نہیں آتا کہ یہ عقیدہ رکھنے والا یا عمل کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو ہی چکا ہے،
اللہ تعالی ہمیں صحیح علم کی رہنمائی کرے اور حکمت ومصلحت کی دولت سے نوازے۔آمین






