اللہ رب العالمین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے مابین معلم بنا کر بھیجا،
اللہ رب العالمین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دین دے کر مبعوث فرمایا تھا اس کے نزدیک بس وہی دین قابل قبول ہے،
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ
(بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے) (سورہ آل عمران،
نیز اس کا ارشاد ہے:
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(جو اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین تلاشے وہ دین اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا) (سورہ آل عمران،
ہر شخص کو قبر کے اندر اسی دین کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ (ما دینک؟) "تمھارا دین کیا تھا؟"
اگر اس نے اپنی عملی زندگی میں اسی دین کو فالو کیا تھا جو دین نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو دے کر گئے تھے تب تو یہ اس کی نجات کا ضامن ہے،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کرام کو اس دنیا میں چھوڑ کر رخصت ہوئے اس وقت امت میں کوئی فتنہ رونما نہیں ہوا تھا،
(میں نے تمھیں ایک ایسے واضح شاہراہ پر چھوڑا ہے جس کی راتیں بھی دن کے اجالے کی طرح روشن ہیں،
امام ابو منصور عبد القاہر البغدادی رحمہ اللہ (متوفی 429ھ) ”الفرق بين الفرق“ (ص: 12) میں فرماتے ہیں:
"كَانَ الْمُسلمُونَ عِنْد وَفَاة رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم على منهاج وَاحِد فِي أصول الدّين وفروعه غير من أظهر وفَاقا وأضمر نفَاقًا".
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تمام مسلمان دین کے اصول وفروع میں ایک منہج پر قائم تھے،
اس وقت کے مسلمان جس راہ پر گامزن تھے اللہ رب العالمین نے اس راہ کو ”سبیل المؤمنین“ سے تعبیر کیا ہے۔یہی ”راہ سلف“ ہے جس کی اتباع کو نجات کا ضامن اور اس سے انحراف کو ہلاکت کا باعث قرار دیا ہے،
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
(جو ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مؤمنین کے راستے کے علاوہ کسی دوسرے راستے کی اتباع کرے تو ہم اسے اس کے حوالے کر دیں گے اور اسے جہنم رسید کریں گے،
اس آیت پر غور کریں! یہاں اللہ رب العالمین نے ہدایت واضح ہو جانے کے بعد صرف رسول کی مخالفت کو ہی دخول جہنم کا باعث نہیں قرار دیا،
قارئین کرام! غور فرمائیں! اگر راہ سلف کوئی ضروری شئی نہ ہوتی تو ”وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ“ کہنے کے بعد ”وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ“ کے اضافے کی کیا ضرورت تھی؟
ایک مسلمان کا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ رب العالمین کا ایک ایک کلمہ ہر طرح کے لغو اور حشو وزوائد سے پاک ہے۔لہذا یہ آیت بالکل صریح ہے کہ اتباع رسول کے ساتھ ساتھ ”سبیل المؤمنین“ یعنی راہ سلف کی اتباع بھی ضروری ہے۔اگر کوئی اس سے رو گردانی کرتا ہے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں ”مؤمنین“ سے مراد کون لوگ ہیں جن کے راستے کی مخالفت پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
تو معلوم ہونا چاہیے کہ خود اللہ اور اس کے رسول کے کلام میں اس کی وضاحت وتفسیر موجود ہے۔
اگر ہم کتاب وسنت کا بغور مطالعہ کریں تو پائیں گے کہ اللہ رب العالمین نے صحابہ کرام کے ایمان اور تقوی کی گواہی خود دی ہے اور ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔اس کا ارشاد ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ
(جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ تعالی نے تقوی وپرہیز گاری کے لیے پرکھ لیا ہے،
بلکہ احسان کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والوں کے لیے بھی اپنی رضامندی اور جنت کا وعدہ کیا ہے،
السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(جو پہلے پہل اسلام قبول کرنے والے ہیں مہاجرین وانصار میں سے،
یہاں اللہ تعالی نے مہاجرین وانصار یعنی صحابہ کرام کے لیے مطلقا رضامندی وجنت کا اعلان کیا ہے،
«خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي،
(سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں،
علامہ سفارینی رحمہ اللہ لوامع الانوار البہیہ (1/20) میں فرماتے ہیں:
"الْمُرَادُ بِمَذْهَبِ السَّلَفِ مَا كَانَ عَلَيْهِ الصَّحَابَةُ الْكِرَامُ-رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ-وَأَعْيَانُ التَّابِعِينَ لَهُمْ بِإِحْسَانٍ وَأَتْبَاعُهُمْ وَأَئِمَّةُ الدِّينِ مِمَّنْ شُهِدَ لَهُ بِالْإِمَامَةِ،
(مذہب سلف سے مراد یہ ہے کہ جس پر صحابہ کرام قائم تھے،
پس مذکورہ آیتوں کی روشنی میں بلاشبہ صحابہ کرام کی جماعت ”سبیل المؤمنین“ میں داخل ہے اور بعد میں آنے والوں کے لیے احسان کے ساتھ ان کی اتباع کرنا شرط ہے۔
ایک دوسری آیت میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام کے ایمان کو بعد والوں کے لیے ضابطہ اور معیار قرار دیا ہے،
فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ
(اگر وہ لوگ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پائیں گے) (سورة البقرة: 137)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی کی تاکید کی اور فرمایا کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی،
(آج میں اور میرے صحابہ جس پر قائم ہیں جو بھی اس پر قائم ہوگا وہ نجات یافتہ ہوگا) المعجم الأوسط (8/ 22)
قارئین کرام! یہاں غور کریں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوامع الکلم کی صفت سے متصف ہیں،
فإنَّه من يَعِشْ منكم بَعْدي فسَيَرى اختلافًا كثيرًا
(جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا)
اور انھیں ان فتنوں سے مقابلے کا طریقہ بھی سکھایا تھا،
فعليكُم بسنَّتي وسُنَّةِ الخُلفاءِ،
(ایسے موقع پر تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے اپنی ڈاڑھ کی دانتوں سے پکڑے رہنا اور نئی چیزوں کی ایجاد سے دور رہنا،
(سنن ابی داود،
صحابہ کرام نے یہ ڈیوٹی پوری امانت داری اور مستعدی کے ساتھ نبھائی۔چنانچہ جب عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے شہید کیے جانے کے بعد خوارج وروافض اور کذاب ومتہم روات کے فتنوں کا ظہور ہوا تو انھوں نے عملی تطبیق کے ذریعہ امت کو سمجھایا کہ کیسے راہ سلف ہی نجات کا ضامن ہے۔چنانچہ جب عباس رضی اللہ عنہ خوارج سے مناظرہ کرنے کے لیے ان کے پاس گئے تو انھیں کہا:
"أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُهَاجِرِينَ،
(میں تمھارے یہاں صحابہ کرام مہاجرین وانصار کے پاس سے آیا ہوں،
(المستدرک للحاکم،
آپ حبر الامت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ پر غور کریں کہ کیسے انھوں نے خوارج کے سامنے ان کی گمراہی کو واضح کیا اور ان کی گمراہی کی سب سے اہم وجہ یہ بیان کی کہ تم میں سے کوئی اصحاب رسول میں سے نہیں اور تم ان کی راہ پر گامزن نہیں جو قرآن اور دین کو تم سے بہتر جاننے اور سمجھنے والے ہیں۔
یہی بات عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی کوفہ کی مسجد میں ان لوگوں کے سامنے کہی تھی جو الگ الگ گروپ کی شکل میں تسبیح وتہلیل میں مشغول تھے:
"لَقَدْ فَضَلْتُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا, أَوْ لَقَدْ جِئْتُمْ بِبِدْعَةٍ ظُلْمًا"۔(البدع لابن وضاح1/ 35)
(یا تو تم علم میں صحابہ کرام سے بھی آگے بڑھ گئے ہو یا پھر تم نے ظلم وزیادتی کرتے ہوئے یہ بدعت ایجاد کی ہے) کیونکہ تمھارا یہ طریقہ اس دین سے میل نہیں کھاتا جو دین اللہ کے رسول نے ہم صحابہ کو سکھایا تھا۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَأَسِّيًا فَلْيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛
(تم میں سے جو کسی کی اقتدا کرنا چاہے اسے چاہیے کہ وہ صحابہ کرام کی اقتدا کرے،
پس پتہ چلا کہ کتاب وسنت اور سلف صالحین کے نصوص کی روشنی میں راہ سلف سے مراد صحابہ کرام کی راہ ہے اور جو بھی ان کے بعد احسان کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والا ہو ان کی راہ ہے اور اس میں تابعین،






