احادیث مبارکہ میں عاشورہ کے روزے کی بڑی فضیلت اور تاکیدآئی ہے۔یہ روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
صيام يوم عاشوراء،
بالاجماع اس دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔علامہ ابن عبد البر،
اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس دن کے روزے کا خصوصی اہتمام کرے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے چھوٹے بچوں کو بھی اس دن کا روزہ رکھواتے تھے۔جب و ہ بھوک پیاس سے روتے تو انھیں کھلونوں سے بہلاتے پھسلاتے یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا۔(متفق علیہ: صحیح بخاری 1960،
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فضیلت پانے کے لیے ہمیں ماہ محرم کی کن تاریخوں میں یہ روزہ رکھنا ہے۔اس بارے میں علمائے کرام کے درج ذیل اقوال پائے جاتے ہیں:
یہ روزہ رکھا جائے:
(۱) صرف نویں تاریخ کو
(۲) صرف دسویں تاریخ کو
(۳) نویں اور دسویں تاریخ کو
(۴)نویں اور دسویں یا دسویں ا ورگیارہویں تاریخ کو
(۵)نویں،
ان اقوال کی تفصیلات مع دلائل اور مناقشے کے حاضر ہے:
پہلا قول عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے۔اس کی دلیل کے طور پر درج ذیل روایت پیش کی جاتی ہے:
عن الحكم بن الأعرج،
(حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا،
اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جب ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عاشورہ کےروزے کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے صرف نویں تاریخ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حالانکہ یہ استدلال صحیح نہیں،
امام بیہقی رحمہ اللہ ان کے مذکورہ قول کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"وكأنه رضي الله عنه أراد صومه مع العاشر وأراد بقوله في الجواب نعم ما روي من عزمه صلى الله عليه وسلم على صومه والذي يبين هذا ما أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار ببغداد, أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار،
(شاید ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد دسویں کے ساتھ نویں تاریخ کا روزہ رکھنا تھا،
"صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود"
(نویں اور دسویں کو روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو)
جہاں تک صرف نویں تاریخ کو عاشورہ کا روزہ رکھنے کی بات ہے تو یہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے" عاشورہ "کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے،
الزین بن المنیر فرماتے ہیں:
هو مقتضى الاشتقاق والتسمية۔
دیکھیں: فتح الباري (5/436) وشرح الزرقاني على الموطأ (2/104)
بلکہ بعض احادیث میں دسویں تاریخ کی صراحت موجود ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
إن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بصيام يوم عاشوراء يوم العاشر۔(مسند البزار 18/153)
(نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا)
اس کی سند صحیح ہے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے "اسنادہ صحیح" کہا ہے۔(مختصر زوائد البزار 1/406 حدیث نمبر 672)
پتہ چلا کہ دسویں تاریخ کا روزہ رکھنا یہ اصل ہے۔پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ نے دسویں تاریخ کا ہی روزہ رکھا ہے۔جب آپ کے سامنے یہود کی بات کی گئی کہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں تو آپ نے ان کی مخالفت میں آئندہ سال نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھنے کی خواہش ظاہر کی اور فرمایا:
«لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع»
(اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کو (بھی) روزہ رکھوں گا)۔صحيح مسلم (2/798) حدیث نمبر (1134)
اس کا مطلب قطعی یہ نہیں تھا کہ آئندہ سال سے دسویں کا روزہ نہیں رکھوں گا،
"خالفوا اليهود وصوموا التاسع والعاشر"
(یہود کی مخالفت کرو اور نویں ودسویں تاریخ کو روزہ رکھو)۔(اس کی تخریج آگے آرہی ہے)
نیز کسی بھی صحابی سے نہیں ملا کہ انھوں نے اسے منسوخ سمجھا ہو اور صرف نویں تاریخ کا روزہ رکھا ہو۔
بلکہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی درج ذیل حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام دسویں تاریخ کے روزے کو منسوخ نہیں سمجھتے تھے:
عن حميد بن عبد الرحمن،
(حمید بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ انھوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو جس سال انھوں نے حج کیا عاشورہ کے دن منبر پر کہتے ہوئے سنا: اے مدینہ والو!کہاں ہیں تمھارے علمائے کرام؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی دن یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: یہ عاشورہ کا دن ہے،
معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر صحابہ کرام کے سامنے دسویں تاریخ کے روزے کے متعلق عاشورہ کے دن ہی انھیں کہا اور کسی نے ان پر نکیر نہیں کی۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام اس دن کے روزے کو منسوخ نہیں سمجھتے تھے۔
اس لیے صرف نویں تاریخ کو روزہ رکھنا اور دسویں کو نہ رکھنا یہ صحیح نہیں ہے۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"وأما إفراد التاسع فمن نقص فهم الآثار،
(صرف نویں تاریخ کو روزہ رکھنایہ آثار کی کم فہمی اور اس کے الفاظ اور طرق کے عدم تتبع کی دلیل ہے،
دوسرا قول: جہاں تک صرف دسویں تاریخ کو روزہ رکھنے کی بات ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،
بعض اہل علم نے اسے مکروہ کہا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مکروہ نہیں ہے۔البتہ افضل یہ ہے کہ نویں اور دسویں دونوں دن کا روزہ رکھا جائے۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"وصيام يوم عاشوراء كفارة سنة ولا يكره إفراده بالصوم"۔(الفتاوى الكبرى لابن تیمیہ 5/ 378)
(عاشورہ کے دن کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔اور صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھنا مکروہ نہیں)
یہی بات متعدد علماء کرام سے منقول ہے۔
(دیکھیں: مطالب أولي النهى في شرح غاية المنتهى (2/215)،
تیسرا قول: نویں اوردسویں تاریخ کو یہ روزہ رکھا جائے۔تمام اقوال کے مابین یہی عمل سب سے افضل اور سنت سے قریب تر ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کا خود روزہ رکھنے اور رکھنے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"حين صام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء وأمر بصيامه, قالوا: "يا رسول الله إنه يوم تعظمه اليهود والنصارى, فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع"قال: "فلم يأت العام المقبل حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم"۔(صحيح مسلم 1134)
(جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا،
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"قال الشافعي وأصحابه وأحمد وإسحاق وآخرون يستحب صوم التاسع والعاشر جميعا لأن النبي صلى الله عليه وسلم صام العاشر ونوى صيام التاسع"۔شرح النووي على مسلم (8/12)
(امام شافعی اور ان کے اصحاب،
جہاں تک چوتھے اور پانچویں قول کی بات ہے تو اس میں نویں و دسویں کے ساتھ،
اس کی دلیل کے طور پر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت پیش کی جاتی ہے:
صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ،
وفي رواية عند البيهقي: "صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا وَبَعْدَهُ يَوْمًا"۔
(تم لوگ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھو،
لیکن اس سے استدلال کرتے ہوئے مذکورہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں ہے،
یہ حدیث "داود بن علي بن عبد الله بن عباس عن أبيه عن جده عبد الله بن عباس رضي الله عنه" سے تین طریق سے مروی ہے:
پہلا طریق: امام احمد،
ابن ابی لیلی یہ قاضی محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی ہیں۔ائمہ جرح وتعدیل نے ان کے حافظہ پر سخت کلام کیا ہے۔
امام شعبہ بن حجاج فرماتے ہیں:
"ما رأيت أحدًا أسوأ حفظًا من ابن أبى ليلى"
(میں نے ابن ابی لیلی سے بڑا حافظہ کا گڑبڑ کسی کو نہ پایا)۔(الجرح والتعديل 1/152)
اسی طرح امام احمد بن حنبل اور ابو حاتم رازی وغیرہ نے بھی ان کے حفظ وضبط پر کلام کیا ہے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
"صدوق سیئ الحفظ جدا"۔(تقریب التہذیب 6121)
دوسرا طریق: ابن عدی،
حدثنا محمد بن أحمد بن هارون الدقاق،
ابن عدی کی اس سند کے مطابق ابن حی نے داود بن علی سے روایت کرنے میں ابن ابی لیلی کی متابعت کی ہے۔
لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔صحیح یہ ہے کہ سفیان بن عیینہ نے بھی دوسرے رواة کی طرح اسے "ابن ابی لیلی عن داود بن علي بن عبد الله بن عباس عن أبيه عن جده عبد الله بن عباس رضي الله عنه" کے طریق سے ہی روایت کی ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ امام حمیدی نے اپنی مسند (1/434) میں سفیان بن عیینہ سے اسے روایت کی ہے اور اس میں ابن عیینہ نے ابن حی سے نہیں بلکہ ابن ابی لیلی سے ہی روایت کی ہے۔اور امام حمیدی کو محدثین کرام أثبت الناس فی ابن عیینہ کہتے ہیں۔تقریبا انیس سال تک انھوں نے ان کی ملازمت اختیار کی ہے۔(دیکھیں: الجرح والتعدیل 5/57،
بلکہ ابن عدی اسے روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "قال العباس:
"وغير سفيان يقول: ابن حي عن ابن أبي ليلى يعني عن داود".
یعنی عباس بن یزید البحرانی فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے اسے "ابن حی عن داود..." کے طریق سے روایت کی ہے۔جب کہ سفیان کے علاوہ دوسرے رواة جب روایت کرتے ہیں تو "ابن حي عن ابن أبي ليلى يعني عن داود"کے طریق سے روایت کرتے ہیں۔
اس صورت میں یہ کوئی نئی سند نہیں ہوگی،
امام حمیدی کی روایت دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ عباس بن یزید البحرانی سے ہی سفیان کی طرف منسوب کرکے جو انھوں نے بات کہی ہےاس میں ان سے غلطی ہوئی ہے۔حافظ ابن حجر نے انھیں "صدوق یخطئ" کہا ہے۔(التقریب 3211)
لہذا صحیح یہ ہے کہ یہ کوئی نئی سند نہیں بلکہ ابن ابی لیلی کی ہی پہلی والی سند ہے۔
تیسرا طریق: ابن عدی الکامل (3/554) میں اسے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حدثنا ابن سعيد ثنا محمد بن أحمد بن العوام الرياحي حدثنا أبي ثنا الحارث بن النعمان بن سالم عن سفيان بالإسناد المذكور مختصرًا بلفظ: "صوموا عاشوراء".
ابن عدی نے اپنے شیخ کا نام ابن سعید کہا ہے،
لیکن سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ متن مختصر ہے اور اس میں محل شاہد "وخالفوا فيه اليهود وصوموا قبله يوما أو بعده يوما" والا ٹکڑا موجود نہیں ہے۔
لہذایہ سندیں داود بن علی تک صحیح سند سے ثابت ہی نہیں ہیں۔
اور داود بن علی خود معتمد علیہ راوی نہیں ہیں۔ابن حبان نے الثقات (6/281) میں انھیں ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ کہا ہے: "یخطئ"۔
امام ابن معین فرماتے ہیں:
"ارجو انہ لیس یکذب"۔الکامل میں فی ضعفاء الرجال (3/553)
امام بزار فرماتے ہیں:
لم يكن بالقوي في الحديث (مسند البزار: 11/394)
حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
"لیس حدیثہ بحجۃ"۔(المغنی فی الضعفاء 2013)
اور حافظ ابن حجرنے انھیں التقریب (1812) میں "مقبول" کہا ہے۔اور ان کے مقبول کہنے کا مطلب یہ ہے کہ متابعت کے وقت مقبول ہیں ورنہ وہ لین الحدیث ہیں۔اور ان کی کوئی متابعت نہیں مل سکی۔
امام بزار فرماتے ہیں:
"هذا الحديث قد روي عن ابن عباس من وجوه،
(یہ حدیث-یعنی صوموا قبلہ یوما و بعدہ یوما-ابن عباس رضی اللہ عنہ سے متعدد وجوہ سے مروی ہے،
یعنی "صوموا قبلہ یوما وبعدہ یوما " کا لفظ داود بن علی کے علاوہ ابن عباس سے یا کسی دوسرے سے کوئی روایت نہیں کرتا۔
بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سےیہ حدیث موقوفا اس طرح وارد ہے:
" خالفوا اليهود وصوموا التاسع والعاشر"
(یہود کی مخالفت کرو اور نویں ودسویں تاریخ کو روزہ رکھو)
اسے امام عبد الرزاق نے اس سند سے روایت کی ہے،
أخبرنا ابن جريج قال: أخبرني عطاء،
اس کی سندصحیح ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے،
"صوموا التاسع والعاشر ولا تشبهوا باليهود"
(نویں اور دسویں تاریخ کو روزہ رکھو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو)
امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے درج ذیل سند سے روایت کی ہے:
أخبرنا سفيان أنه سمع عبيد الله بن أبي يزيد يقول: سمعت ابن عباس يقول: " صوموا التاسع والعاشر ولا تشبهوا باليهود"۔(دیکھیں: معرفۃ السنن والآثار للبیہقی 6/350،
اور یہ سند بھی صحیح ہے۔
یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے موقوفایہ حدیث دو صحیح سندوں سے مروی ہے،
اور جہاں تک مرفوع حدیث کی بات ہے تووہ داود بن علی تک اس کی سند ثابت نہ ہونے اور ان کے متکلم فیہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔فرماتے ہیں:
"رواية أحمد هذه ضعيفة منكرة من طريق داود بن علي عن أبيه عن جده،
علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔(تحقیق صحیح ابن خزیمہ 3/291)
شیخ شعیب ارنؤوط اور ان کی ٹیم نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔(تحقیق مسند امام احمد 5/280)
اور جب یہ دلیل صحیح نہیں تو اس سے استدلال کرتے ہوئے عاشورہ کی نیت سے دسویں کے ساتھ گیارہویں،
بعض حضرات کہتے ہیں کہ اصل مقصودیہود کی مخالفت ہے،
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وضاحت اور صراحت کے ساتھ مخالفت کا حکم دیا ہے اور یہود کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے لیکن انھوں نے بھی مخالفت کی صورت یہ بیان کی کہ دسویں کے ساتھ نویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔اس لیے اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہوئے گیارہویں تاریخ کو صوم عاشورہ میں شامل کرنا صحیح نہیں ہے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ احتیاط کے طور پر اگر کوئی گیارہویں تاریخ کو عاشورہ کا روزہ رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے۔اس کے لیے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی درج ذیل حدیث سے دلیل لیتے ہیں:
ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ،
اس پر یہ کہنا ہے کہ اولا: یہ حدیث شعبہ مولی ابن عباس کی وجہ سے ضعیف ہے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ان کے متعلق فرماتے ہیں:
"صدوق سیئ الحفظ"۔
(التقریب 2792)
ثانیا: اس روایت میں گیارہویں تاریخ کی صراحت نہیں ہے،
ثالثا: احتیاط یا شک کی وجہ سے روزہ رکھنے کا حکم شریعت میں نہیں آیا ہے۔اگر احتیاط کی ہی بات کی جائے تو دوسرے روزوں کے تعلق سے بھی یہ بات کہنی چاہیے صرف عاشورہ کے متعلق نہیں۔ہاں اگر کوئی عاشورہ کی نیت سے نہیں بلکہ عام نفلی روزے کی نیت سے گیارہویں محرم کو روزہ رکھتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے،
واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم





