یہ ایک عام رجحان ہے کہ تبلیغی جماعت سیدھے سادھے،
ہندوستان کی حکومت نے بھی کسی بھی دور حکومت میں ان کے کاموں اور ان کی نقل وحرکت سے کبھی تعرض نہ کیا بلکہ جب دوسری کئی مسلم تنظیموں کو جہادی و طالبانی کا خطاب دے کر انھیں ملک کے امن وامان کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا رہا اور انھیں دیش دروہی اور ملک دشمن اور غدار وطن کے خطاب سے نوازا جاتا رہا تب بھی کسی نے ان کی طرف انگلیاں نہیں اٹھائیں۔لیکن اب چونکہ حکومت وقت کو کورونا وائرس پر قابو پانے میں ناکامی اور اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی آسان ہدف کی تلاش تھی تو اس کو تبلیغی جماعت سے بہتر کوئی اور ہدف نہ مل سکا اور چونکہ اندیشے اور خدشات یہ کہتے ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں (اللہ نہ کرے) اس بیماری کا زور اور بڑھے گا اور متاثرین ومہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہوگا جیسا کہ پوری دنیا کا ٹریند ہے کہ بعد کے ہفتوں میں یہ وائرس تشویشناک حد تک تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے تو آج ہی سے میڈیا اور حکومت کے ذمہ داران نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مودی جی نے اس بیماری پر قابو پا ہی لیا تھا اگر درمیان میں تبلیغی جماعت نہ کود پڑتی۔کچھ اسی طرح کا یوگی کا بیان آج کے اخبارات میں چھپا ہے۔اب اس موقع پر میں تبلیغی جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ جو ہمیشہ زمین سے نیچے اور آسمان سے اوپر کی بات کرتی ہے کبھی زمینی حقائق کا سامنا کرنے کی بات بھی اسے کرنی چاہیے تھی۔ٹھیک ہے وہ ایک خالص دینی جماعت ہے اپنے اپنے ملکوں کی سیاست سے اس کا کبھی کوئی تعلق نہیں رہا لیکن دنیا کے مسلمانوں کے مسائل نماز،
مست کردو ذکر وفکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
خانقاہوں میں گوشہ نشین ان مست قلندر اللہ والوں سے ابلیسی طاقتوں کو نہ کبھی کوئی خطرہ محسوس ہوا نہ حکومت وقت نے کبھی ان کی سرگرمیوں کو لائق اعتنا سمجھا لیکن آج ان کے خلاف جو محاذ کھڑا کیا گیا ہے اور ان کو ملک میں کورونا پھیلانے کا قصور قرار دیا جارہا ہے اس سے ان کی خوش فہمیوں کا بت یقینا پاش پاش ہوگیا ہوگا جبکہ حکومت کی نظر میں یہ جماعت ہمیشہ بے ضرر اور مسکین رہی ہے۔
اس جماعت نے کبھی اپنے ملک میں مسلمانوں کو درپیش مسائل و مشکلات سے کوئی واسطہ نہیں رکھا،
غرض اس جماعت نے ملک میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجوں اور ان کے وجود کو لاحق خطرات پر کبھی بھی اپنی فکروتشویش کا اظہار نہیں کیا۔یہ اپنی مساجد اور خانقاہوں کی دنیا تک محدود رہتے ہوئے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا کر یہ سمجھتے رہے کہ سارے خطرات کے بادل خود کار طریقے سے چھٹ جائیں گے۔حالانکہ جس مسلک دیوبند کی یہ نمائندگی کرتے ہیں اسی کے ایک بڑے عالم دین بلکہ عالمی شہرت یافتہ مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے اسی طرح کی صورت حال پر بڑے ہی پتہ کی بات کہی تھی کہ آج اگر ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف آپ نے آواز نہیں بلند کی اور اپنے زاویوں،
کیا آج جس طرح مساجد میں نمازوں کی ادائیگی پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں اسی صورت حال کی اس سے عکاسی نہیں ہورہی ہے؟
آج میڈیا کے بنائے ہوئے ماحول کے زیر اثر جس طرح ان کو ایک ولن اور خطرناک مجرم بنا کر پیش کردیا گیا ہے،
آج حکومت وقت کے اس ظلم کے خلاف ہندوستان کی تمام جماعتیں اور تنظیمیں بلا اختلاف مسلک ومنہج تبلیغی جماعت کے ساتھ کھڑی ہیں لیکن کیا یہ بھی کبھی ملک کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر صدائے احتجاج بلند کرنے بلکہ اظہار ناپسندیدگی کے لیے بھی سامنے آئے؟ کبھی انھوں نے اپنے کسی قول وفعل سے یہ تاثر دیا کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف وہ بھی ملک کے عام مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ فسادات کے شکار مسلمانوں کی باز آبادکاری میں یا ناگہانی آفات کے شکار لوگوں کی مدد میں بھی انھوں نے کبھی حصہ لیا ہو۔انھوں نے اپنی دنیا مساجد تک محدود کرلی ہے تو آج انھیں مساجد ومدارس سے ان کی گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں،
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے





