اپنے حسن اور جسم کی نمائش یا چھپانے کو لے کر لڑکیاں تین طرح کی ہوتی ہیں۔پہلی وہ لڑکیاں جو اپنے پورے جسم کو چھپا کر رکھنا چاہتی ہیں۔ایسی لڑکیاں مکمل طور سے حجاب کرتی ہیں۔جسم کو چہرے سے پیر تک ڈھانپنے کے لیے ڈھیلا ڈھالا نقاب پہنتی ہیں۔بہت سی لڑکیاں تو ہتھیلی،
دوسری قسم ان لڑکیوں کی ہے جو اپنے پورے جسم کو نمائش کا سامان سمجھتی ہیں۔وہ بالکل حجاب نہیں کرتی ہیں۔چہروں اور بالوں کی زینت پر خوب خرچ کرتی ہیں۔اوپر کے کپڑے ایسے پہنتی ہیں جن سے ان کے جسم کے نشیب وفراز دور سے ہی نظر آ جائیں۔اگر انھیں ماحول ملے تو یہ صرف بکنی اور ٹاپ میں گھومیں۔لیکن کم از کم ہندوستانی سماج میں ان کے لیے کھلے عام یہ ممکن نہیں ہے۔
لڑکیوں کی تیسری قسم وہ ہے جو جسم کی نمائش پر یقین تو نہیں رکھتی ہیں لیکن چہرے کے بارے میں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ دیکھیں۔خاص طور پر جب لڑکی تھوڑی حسین ہو تو اس کے لیے چہرہ چھپانا اور مشکل ہوتا ہے۔یہ لڑکیاں چہرہ چھوڑ کر باقی جسم کا حجاب کرتی ہیں۔ایک کلاس میٹ کہتا تھا یہ جو لڑکیاں حجاب میں چہرے کو کھلا چھوڑ دیتی ہیں ان کا چہرہ اور زیادہ گلاب کی طرح کھل جاتا ہے اور ان کا اٹریکشن بالکل حجاب نہ کرنے والیوں کے مقابلہ میں بڑھ جاتا ہے۔چہرہ کھلا رکھنے کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی انھیں آنٹی نہ سمجھ لے۔یا کچھ تو اس لیے نہیں چھپاتی ہیں کہ لوگ انھیں کنزرویٹیو نہ سمجھ لیں۔لیکن کچھ اتنی بھولی ہوتی ہیں کہ شلوار قمیص کو عصمت کا محافظ سمجھتی ہیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے فیگرز تک لڑکوں کی رسائی بالکل آسان رکھتی ہیں۔وہ لڑکیاں بھی انہی میں آتی ہیں جو ڈھیلے جینس اور شرٹ کے ساتھ اسکارف میں رہتی ہیں۔مردوں کی ذہنیت کو سب سے بہتر پہلے اور دوسرے نمبر کی لڑکیاں ہی سمجھتی ہیں۔اور ان کی ذہنیت کے حساب سے خود کو مینٹین رکھتی ہیں۔تیسرے نمبر کی لڑکیاں بالکل بھولی ہوتی ہیں یا بھولی بنتی ہیں۔
ایک بار میں نے تیسرے نمبر کی ایک شریف اور بھولی بھالی لڑکی سے پوچھا تم صرف شلوار قمیص کیوں پہنتی ہو؟ ٹائٹ جینس اور ٹی شرٹ کیوں نہیں پہنتی ہو؟ اس نے جواب دیا "لڑکے گھورتے ہیں"۔میں نے کہا لڑکے اپنی آنکھوں سے تیز اپنے رنگین ذہن چلاتے ہیں۔اگر کسی لڑکی نے شلوار قمیض کے اوپر ڈھیلا نقاب بھی پہنا ہو تب بھی۔گرچہ ایسی لڑکی کا معاملہ ذرا سا الگ ہوتا ہے۔یہاں تک کہ وہ لڑکی جو پورے نقاب میں بھی ہو تب بھی مردوں کی ہوس سے بچنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔گرچہ نقاب والی کے ساتھ اس کے چانسز انتہائی کم ہوجاتے ہیں۔لیکن نقاب میں بھی ایک عورت مرد کے ذہن رسا کی پہنچ سے باہر نہیں ہے۔وہ عورتیں خوش فہمی میں ہیں جو آدھا ادھورا نقاب پہن کر خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔اتنا سن کر اس نے کہا تب عورتیں کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ میں نے کہا ایک باحیا عورت کے لیے گھر کی چہار دیواری سے محفوظ کوئی جگہ نہیں ہے۔اور قرآن کی آیت سنا دی "وقرن بھی بیوتکن" یعنی اپنے گھروں کے سب سے اندر والی کوٹھری میں چھپ کر رہیں۔مطلب غیر محرم مردوں کی نگاہوں سے جتنا زیادہ ہو سکے دور رہیں۔اور انتہائی سخت ضرورت نہ ہو تو چہار دیواری کی سیکورٹی کو توڑ کر باہر نہ نکلیں۔اور اگر کوئی غیر محرم مرد کسی آڑ سے یا فون پر بات بھی کرے تو اتنے روکھے اور سخت لہجے میں بات کریں کہ کوئی ٹھرکی دل نہ دے بیٹھے۔اور اگر کسی عورت کو مجبوراً باہر نکلنا بھی پڑے تو خود کو مکمل طور سے پردے میں چھپا کر نکلے۔یہ ڈھیلا ڈھالا،
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ پورن دیکھنے والی جنریشن کو شریف اور باحیا لڑکیاں اتنا بھولا کیوں سمجھتی ہیں؟ اسی لیے نا کہ لڑکے جب ان سے ملتے ہیں تو شرافت سے بات کر لیتے ہیں۔لیکن کوئی لڑکا یہ نہیں بتاتا کہ لڑکوں کی نجی محفلوں میں کن کن شریف لڑکیوں پر گفتگو ہوتی ہے،
مردوں کے اس نفسیاتی پہلو کو جاننے کے بعد بھی وہ شریف لڑکیاں جو بلا شدید ضرورت کے آدھے ادھورے پردوں کے ساتھ گھروں سے نکلتی ہیں کیا وہ اپنے پردے کو مکمل سمجھتی ہیں؟ آپ اللہ کے حکم پر اعتراض تو کر سکتی ہیں لیکن مردوں کی اس فطرت کا کیا کریں گی جو ایک حقیقت ہے؟ گھروں میں رہ کر اپنے گھر کو رہنے لائق بنانا اتنا برا کام بھی نہیں ہے۔لاک ڈاؤن میں دنیا بھر کی خاک چھاننے والا مرد خود کو گھر میں مہینوں کے لیے بند کر سکتا ہے تو کیا اللہ کے حکم پر عورتیں گھروں کو اپنی اصل جگہ نہیں بنا سکتی ہیں؟ جب اللہ نے اہل ایمان مردوں پر اپنی بیویوں کی ذمہ داریاں فرض کر دی ہے تو پروفیشنل تعلیم کے نام پر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مارے مارے پھرنا اتنا بھی کیا ضروری ہے؟ گھر بیٹھ کر اپنے بچوں کو ایک اچھا،
کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ پردے کے بارے میں مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ کے جو احکامات ہیں ان کی ویسی ہی پابندی ہونی چاہیے جیسی شدت کے ساتھ اللہ نے حکم دیا ہے۔اس میں تین پانچ کر کے راہ نکالی جائے تو ضرور نکل جائے گی لیکن شاید ہم اللہ کی منشا کو نہیں پاسکیں گے۔ہاں کچھ شدید ضرورتوں میں اگر گھر سے نکلیں تو مردوں کی اس فطرت کو کبھی نگاہ سے اوجھل ہونے نہ دیں۔پورے نقاب کا اہتمام کریں اور لڑکوں سے وہ دوری بنا کر رکھیں جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔اور لڑکوں کے لیے بھی جو احکامات ہیں مومن لڑکے بھی ان کی پاسداری کریں۔
تلخ لگے تو بھی یہی حقیقت ہے۔مرد اور عورت کی یہی فطرت ہے۔اس سے آپ نظریں چرا سکتے ہیں اور بالکل آپ نظر چرا کر گزر جائیے۔لیکن اس سے انکار نہیں کر سکتے ہیں۔عقلمند ہیں وہ لوگ جو اللہ کے حکموں پر اعتراض کرنے کے بجائے ان احکام سے مختلف انسانوں کی سائیکالوجی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔خود سے انسانوں کی سائیکالوجی سمجھنے بیٹھیں گے تو پوری زندگی بیت جائے گی لیکن انسان کی سائیکالوجی کے بارے میں دسیوں نظریات میں ایک نظریہ کا اضافہ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکیں گے۔زندگی بہت مختصر ہے اسے چاہیں تو اللہ کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کر کے گزار کر آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتوں میں داخل ہو جائیں۔یا پھر اللہ کے احکام پر اعتراضات کرتے ہوئے آخرت کی ناکامیاں مول لے کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔





