دوسری قسط: کیا مسئلہ صومِ حاملہ ومرضعہ کی کسی صورت پر علما کا اجماع ہے؟
تیسری قسط:
یہ اثر ان سے ان کے مولی اور مشہور جلیل القدر شاگرد نافع ابو عبد اللہ المدنی نے روایت کی ہے،
آگے بالترتیب ہر ایک کی روایت مع اسناد ومتن پیش کی جا رہی ہے۔

●عبید اللہ بن عمر العمری کی روایت:
امام دار قطنی نے ان کی حدیث روایت کی ہے۔فرماتے ہیں:
حدثنا أبو صالح ثنا أبو مسعود ثنا أبو أسامة عن عبيد الله عن نافع قال: كانت بنت لابن عمر تحت رجل من قريش،
اس کی سند صحیح ہے،
●علی بن ثابت البصری الانصاری کی روایت:
امام طبری اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیروں میں ”سَعِيد بن أَبِي عَرُوبَةَ،
أَنَّهُ قَالَ لأُمِّ وَلَدِهِ: إِمَّا حَامِلٌ وَإِمَّا مُرْضَعٌ،
اس کی سند بھی صحیح ہے۔
●امام مالک کی روایت:
امام شافعی نے ان سے روایت کی ہے،
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
یہ سند بھی صحیح ہے،
●ایوب السختیانی کی روایت:
ان کے دو شاگردوں نے ان سے یہ حدیث روایت کی ہے: حماد بن سلمہ اور معمر بن راشد
■حماد بن سلمہ کی حدیث امام دار قطنی نے روایت کی،
حدثنا أبو صالح الأصبهاني ثنا أبو مسعود ثنا الحجاج ثنا حماد عن أيوب عن نافع عن ابن عمر أن امرأته سألته وهي حبلى فقال: أفطري وأطعمي عن كل يوم مسكينًا ولا تقضي. (سنن الدارقطني: 2/ 207, ح 14)
اس کی سند صحیح ہے،
اور ابن حزم کے یہاں حماد بن سلمہ کے نام کی صراحت ہے۔(المحلی:4/411)
■اور معمر کی حدیث ان کے مشہور شاگرد عبد الرزاق الصنعانی نے اپنے مصنف میں روایت کی ہے،
عَنْ مَعْمَرٍ،
اس کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔امام مسلم نے بعینہ اسی سند سے متعدد حدیثیں روایت کی ہیں۔مثلا دیکھیں: حدیث نمبر:789،
اسی طرح امام بخاری نے بھی ”عبد الرزاق عن معمر عن ایوب“ کے واسطے سے اپنی صحیح میں روایت کی ہے۔مثلا دیکھیں: حدیث نمبر 2368 اور 4278۔اور ”معمر عن ایوب“ کے واسطے سے دو حدیثیں روایت کی ہیں: 3352 اور 4320۔بلکہ حدیث نمبر 4320 ”حدثني محمد بن مقاتل،
امام بخاری نے یہ چاروں احادیث مسندًا روایت کی ہیں،
لہذا اس سند کے صحیح ہونے کے بارے میں ذرہ برابر شک نہیں کیا جاسکتا۔یہ شیخین کی شرط پر بالکل صحیح ونظیف سند ہے۔
●اس صحیح ترین سند کے متعلق ایک شبہ اور اس کا زالہ:
■شبہ: یہ سند متکلم فیہ ہے۔اس کی دلیل ابن معین رحمہ اللہ کا یہ قول ہے:
إذا حدثك مَعْمَر عَنِ العراقيين فخَفْه؛
یہاں امام ابن معین رحمہ اللہ نے معمر کی وہ حدیثیں جو انھوں نے اپنے عراقی شیوخ سے روایت کی ہیں ان سے محتاط رہنے کے لیے کہا ہے۔اور ایوب السختیانی ان کے بصری شیوخ میں سے ہیں،
■شبہ کا ازالہ: یہ بات متعدد اسباب کی بنا پر صحیح نہیں:
■ 1–شیخین نے اس سند پر اعتماد کیا ہے اور مجھے کوئی ایسا امام جرح وتعدیل نہیں ملا جنھوں نے اس پر کلام کیا ہو۔
■ 2–ایوب السختیانی معمر کے خاص قریبی مشایخ میں سے ہیں۔معمر نے ان کی احادیث کا خصوصی اہتمام کیا ہے۔درج ذیل امور اس پر بین دلیلیں ہیں:
◇پہلا: عبید اللہ بن عمرو الرقی فرماتے ہیں: "كُنْتُ بِالْبَصْرَةِ أَنْتَظِرُ قَدُومَ أَيُّوبَ مِنْ مَكَّةَ فَقَدِمَ عَلَيْنَا وَمَعْمَرٌ مُزَامِلُهُ"۔
(میں بصرہ میں ایوب کا مکہ سے لوٹنے کا انتظار کر رہا تھا،
◇دوسرا: ابن سعد فرماتے ہیں: "كانَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ،
(معمر بن راشد بصری تھے،
◇تیسرا: ایوب کی احادیث کا معمر نے کس قدر اہتمام کیا ہے خود ان کے اس قول سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے،
■ 3–محدثین کے نزدیک معمر سے روایت کرنے والے اگر بصری روات ہیں تو ان کی احادیث میں غلطیاں پائی جاتی ہیں۔کیونکہ جب وہ یمن سے اپنی ماں کی زیارت کے لیے بصرہ آئے تھے تو ان کے پاس کتابیں نہیں تھیں،
اور زیر بحث حدیث میں معمر سے روایت کرنے والے عبد الرزاق الصنعانی ہیں،
■ 4- معمر سے روایت کرنے والے رواة بصری ہوں تو اس پر محدثین کا کلام تو موجود ہے کہ معمر سے غلطیاں ہوتی ہیں۔حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: "في رواية البصريين عنه مقال،
لیکن مشایخ میں اگر بصری/ عراقی رواة ہوں تو ابن معین کے علاوہ کسی کا قول نہیں ملا کہ وہاں بھی معمر سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ابن معین اسے کہنے میں متفرد ہیں۔جہاں تک ابن رجب کی بات ہے تو انھوں نے بھی ابن معین کے کلام پر اعتماد کرتے ہوئے عراقی شیوخ سے ان کی حدیث کو ضعیف کہا ہے۔متقدمین میں ابن معین کے علاوہ کسی اور نے یہ بات نہیں کہی ہے۔اور انھوں نے اس کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی کہ عراقی مشایخ سے جب وہ روایت کریں تو کیوں ان کی احادیث نہ لی جائیں۔
■یہاں پر دوسرا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابن معین نے ان کے عراقی شیوخ میں سے جن کو مستثنی کیا ہے دونوں عراقی نہیں ہیں۔زہری مدنی ہیں اور ابن طاووس یمنی۔بلکہ عبد اللہ بن طاووس کی طرف ایوب کے مشورے پر ہی انھوں نے سفر کیا تھا۔(تہذیب الکمال:15/131)
لہذا ایسا لگتا ہے کہ یہاں پر عبارت میں سے کوئی مؤثر لفظ ساقط ہے جس کی وجہ سے یہ مفہوم پیدا ہو رہا ہے۔
اگر ابن معین کا قول موجودہ عبارت کے ساتھ ہی من وعن تسلیم کرلیا جائے پھر بھی عراقی شیوخ میں سے ایوب السختیانی سابقہ دلائل کی بنا پر مستثنی ہوں گے اور ایوب کے علاوہ دوسرے عراقی شیوخ کے سلسلے میں ان کی بات قابل قبول ہوگی،
شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
"إنَّني أقبل قول ابن معين في رواية معمر عن العراقيين بصريين وكوفيين إلاَّفي رواية قتادة وأيُّوب, فإنّهْ كان يحفظ حديثه عن قتادة،
(عراقیوں سے چاہے وہ کوفی ہوں یا بصری معمر کی روایت کے متعلق ابن معین کا قول میں قتادہ وایوب کی روایت کے علاوہ قبول کرتا ہوں۔کیونکہ معمر کو قتادہ کی حدیث حفظ تھی نیز ایوب اور ان کے درمیان گہرا ربط و تعلق تھا جس کی بنا پر مجھے یقین ہے کہ وہ ایوب کی حدیث کے حافظ تھے،
لہذا یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور اس کی صحت پر کوئی غبار نہیں ہے،
●یہاں ایک اشکال اس کے لفظ کو لے کر آسکتا ہے کہ معمر کی روایت میں ”خوف علی النفس“ کی بات آئی ہے جو کسی دوسرے کی روایت میں موجود نہیں ہے۔دوسروں کی روایت سے معمر کی روایت دو طرح سے مختلف ہے:
◇ 1–علی بن ثابت،
◇ 2–امام مالک کی روایت میں ”خوف علی الولد“ کی بات ہے،
■اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ اولا اسے مخالفت کہنا مناسب نہیں۔ورنہ امام مالک کی روایت کو بھی نافع کے دوسرے اصحاب کی روایت کے مخالف کہنا پڑے گا اور مخالفت کی بنا پر شاذ کہنا پڑے گا،
■دوسری بات: جس وجہ سے امام مالک کی روایت کو نافع کے دوسرے اصحاب کی روایت کے مخالف نہیں کہا جاتا اسی وجہ سے معمر کی روایت کو بھی حماد بن سلمہ اور نافع کے دوسرے اصحاب کی روایت کے مخالف نہیں کہا جائے گا۔اگر اسے مخالف مانا گیا تو امام مالک کی روایت کو اس سے پہلے نافع کے تین اصحاب کی مخالفت کی بنا پر شاذ تسلیم کرنا پڑے گا۔
معمر کی روایت کو حماد بن سلمہ کی روایت کے مخالف ماننے کی صورت میں بھی ترجیح معمر کی روایت کو حاصل ہوگی،
حافظ ذہبی حماد بن سلمہ کے متعلق فرماتے ہیں: كَانَ بَحْراً مِنْ بُحُورِ العِلْمِ،
اور امام حاکم فرماتے ہیں: قَدْ قِيْلَ فِي سُوْء حِفْظِ حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ،
ان دونوں اقوال کی روشنی میں واضح ہے کہ حماد بن سلمہ کا درجہ معمر کی طرح نہیں۔اسی وجہ سے امام بخاری نے ان سے کنارہ کشی اختیار کی ہے۔اور امام مسلم نے صرف ثابت اور حمید سے ان کی احادیث کو اصول میں جگہ دی ہے،
■رہی بات اختلاف کی دوسری صورت کی،
سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں: "ومن كَانَ أطلب لحديث نافع وأعلم به من أيوب"۔(تهذيب الكمال: 3/ 461)
اور امام ابو داؤد فرماتے ہیں: میں نے امام احمد سے کہا: تقدم أيوب على مالك؟ قال: نعم.
(آپ ایوب کو امام مالک پر مقدم کریں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا: ہاں)
امام ابو داؤد مزید فرماتے ہیں: میں نے صاعقہ سے سنا،
(نافع سے روایت کرنے میں تمام شاگردوں میں سب سے اثبت ایوب وعبید اللہ ہیں)
اور صاعقہ کے علاوہ دوسرے نے یہ اضافہ کیا: "ومالك" یعنی امام مالک بھی۔(تہذیب التہذیب،
لہذا یہاں بھی اگر ترجیح دی جائے تو ایوب کی روایت کو ترجیح حاصل ہوگی،
ابن عمر کی اس صحیح ترین حدیث کے الفاظ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے خوف علی النفس یا علی الولد دونوں صورتوں میں روزہ چھوڑنے اور فدیہ دینے کا فتوی دیا ہے۔اسی طرح انھوں نے ایک بار نہیں متعدد بار اس طرح کا فتوی دیا ہے جسے ان کے سب سے قریبی شاگرد نافع نے دیکھا اور سنا ہے۔ایک بار انھوں نے یہ فتوی اپنی بیوی کو،
چوتھی قسط: حاملہ ومرضعہ کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر کی تخریج






