طلاق فی نفسہ مشروع ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے طلاق دینا صحیح حدیث سے ثابت ہے۔لیکن طلاق دینے میں پیش قدمی اور عجلت یا بلا وجہ طلاق دینا غیر مرغوب عمل ہے۔بلکہ مرد کو اپنی مردانگی اور صبر وضبط کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ طلاق کی نوبت نہ آئے،
ذیل میں چند وہ امور اور نبوی ہدایات اختصار کے ساتھ قلمبند کیے جاتے ہیں جن کو اگر میاں بیوی اول دن سے بروئے کار لائیں تو شاید طلاق کی نوبت ہی نہ آئے۔
یاد رکھنے کی چیز ہے کہ شیطان کو سب سے زیادہ لطف اور مزہ طلاق کا راستہ ہموار کرنے میں آتا ہے اور ابلیس اپنے ایسے چہیتے شاگرد کو اپنے سے قریب تَر بھی رکھتا ہے۔
1-دیندار اور اخلاق مند عورت کا نکاح کے لیے انتخاب:
اس لیے کہ عورت کی دینداری اسے محرمات کے ارتکاب سے روکے گی اور اس کا عمدہ اخلاق اسے ہر اس چیز سے دور رکھے گا جو اس کے یا اس کے شوہر کے شایان شان نہ ہو۔ہر حال میں عورت دونوں وصف کی وجہ سے اپنے شوہر کو دنیا و آخرت کی سعادت سے ہم کنار کرانا چاہے گی،
ایسے ہی عورت اور اس کے ولی(سرپرست) کو چاہیے کہ وہ دیندار اور اخلاق مند مرد کا انتخاب کریں تاکہ عورت کو نکاح کے بعد پُر مسرت زندگی حاصل ہوسکے۔اس لیے بھی کہ جو قدر اور عزت ایک دین دار شخص اپنی بیوی کو دے سکتا ہے اتنی عزت دوسرا آدمی نہیں دے سکتا۔
مشاہدے میں یہ بات ہے کہ جتنے عائلی مسائل ایک غیر دین پسند شخص کے گھر میں پیدا ہوتے ہیں اتنے مسائل ایک دین پسند گھرانے میں رونما نہیں ہوتے۔
2-مخطوبہ کو دیکھنا:
ہمارے مسلم معاشرے میں مخطوبہ(وہ لڑکی جس کو نکاح کا پیغام دیا جائے) کو دیکھنا ناپسند سمجھا جاتا ہے۔بلکہ ایسے لڑکے جو اپنے والدین سے شرعی حدود وقیود میں رہ کر بھی مخطوبہ کو دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں انھیں لعن طعن اور سماج کی طرف سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حالانکہ سنت رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ اگر لڑکا نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو لڑکی کے ولی کی موجودگی میں وہ لڑکی کو دیکھ سکتا ہے۔لیکن بعض معاشرے میں مخطوبہ کو دیکھنے کے نام پر جو رنگ رلیاں منائی جاتی ہیں،
ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر تم میں سے کسی کے دل میں کسی عورت سے نکاح کا خیال پیدا ہو تو اسے دیکھ لے،
3- نکاح ان عورتوں اور مردوں سے کیا جائے جو دنیاوی اعتبار سے کمتر ہوں:
عام طور پر دیکھا یہ جاتا ہے کہ مرد یا عورت یا دونوں کے ذمہ داران ایسی لڑکی یا ایسے لڑکے کا انتخاب کرتے ہیں جو سماجی اعتبار سے اعلی رتبہ اور مقام رکھتے ہوں۔لڑکے کے بالمقابل لڑکی کی پوزیشن،
4-گارجین حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں سے ان کی مرضی معلوم کرلیں: نکاح کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ لڑکی کنواری ہو یا بیوہ اس کا نکاح کرتے وقت ان سے ضرور ان کی مرضی معلوم کرلیں۔بسا اوقات شہروں خاص طور سے دیہاتوں میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ لڑکیوں کی شادی بلا ان کی رضامندی حاصل کیے کردیتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔شریعت میں بار بار گارجین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لڑکی کی رضامندی لے لیں اور رضامندی حاصل کرنے کا ولی(گارجین،
5-ولی کو چاہیے کہ لڑکی کا نکاح اس کے شایانِ شان لڑکے سے کرے: ولایت ایک امانت ہے،
بلکہ ولی کے اوپر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لڑکی کا نکاح کرتے وقت لڑکے کے اخلاق وکردار اور دینداری کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔
6-شوہر اور بیوی دونوں اپنی اپنی حفاظت کریں: کہا جاتا ہے کہ ہزار بیماریوں کا علاج تحفظ اور بچاؤ میں ہے۔جب تک آدمی خود برائی بے حیائی سے بچنے کی کوشش نہیں کرے گا اس وقت تک خارجی تدابیر سود مند ثابت نہیں ہوسکتے۔اس لیے ضروری ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں اپنے تئیں محتاط رہیں،
میرے خیال میں اگر مذکورہ نبوی ہدایات پر عمل کیا جائے تو طلاق کی سماج میں کافی کم نوبت آئے گی۔ساتھ ہی ہم دشمنوں کے اس طعنے سے بھی بچ جائیں گے کہ مسلمانوں کے مابین کثرت سے طلاق کے مسائل رونما ہوتے ہیں۔آج کل تو بعض سیاسی لوگوں کی طرف سے یہ راگ بھی الاپا جارہا ہے کہ جب سے تین طلاق پر پابندی لگی ہے اس کے بعد سے شرحِ طلاق میں کافی کمی واقع ہوئی ہے،
تین طلاق کا موضوع پیش کرکے در اصل سیاسی سیانے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور شریعت میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں،





