آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا،
(عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے،
شادی بیاہ کے اندر کفائت کے مسئلہ میں یہ حدیث اصول کا درجہ رکھتی ہے۔نکاح کے وقت کفائت میں کس چیز کا اعتبار کرنا چاہیے اور لوگ کن چیزوں کا اعتبار کرتے ہیں اس بارے میں یہ حدیث ہمیں بہترین رہنمائی کرتی ہے۔
کفائت کے متعلق بہت ساری ایسی باتیں عوام کے مابین رائج ہیں جو شریعت کے عمومی مزاج سے ٹکراتی ہیں۔مثلا زوجین کا مال ودولت،
”لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ،
(کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر۔نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر،
شریعت کی یہ تعلیم زندگی کے ہر شعبہ کو محیط ہے اور اس میں شادی بیاہ بھی ہے۔
زیر بحث حدیث میں آپ ﷺ نے لوگوں کی ذہنیت اور ان کی رغبت کا ذکر کیا ہے کہ عموما شادی بیاہ کے وقت لوگ مال ودولت،
اس حدیث میں صرف دینداری کو کفائت کا معیار قرار دیاگیا ہے۔اور باقی چیزوں کے بارے میں لوگوں کی رغبت کی خبردی گئی ہےکہ عموما لوگ ان چیزوں کا اعتبار کرتے ہیں۔اس حدیث میں ان چیزوں کی طرف دیکھنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے اور نہ ترغیب دی گئی ہے۔اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ زوجین کے مابین کفائت میں شریعت نے ان چیزوں کا بھی کوئی اعتبار کیا ہے۔
اس حدیث کے صحیح معنی کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الصحيح في معنى هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم أخبر بما يفعله الناس في العادة فإنهم يقصدون هذه الخصال الأربع،
(اس حدیث کا صحیح معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کی خبر دی ہے جن کا لوگ عموما اعتبار کرتے ہیں۔شادی کے وقت وہ انھی چار چیزوں کی طرف دیکھتے ہیں اور دینداری ان کے نزدیک سب سے آخر میں ہوتی ہے۔لہذا اے رشد وہدایت کے طلبگار!دیندار خاتون کے ساتھ کامیاب ہو جا)
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"هذه الأربع الخصال هي المُرغِّبة في نكاح المرأة, وهي التي يقصدها الرِّجال من النساء, فهو خبرٌ عما في الوجود من ذلك،
(یہ چار خصلتیں کسی خاتون سے نکاح پر رغبت دلانے والی ہیں اور مرد یہی چیزیں عورتوں میں چاہتے ہیں۔لہذا اس حدیث میں موجودہ صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے،
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الذي يقتضيه حكمه صلى الله عليه وسلم اعتبار الدين في الكفاءة أصلا وكمالا،
(آپ ﷺ کے حکم کا تقاضہ یہ ہے کفائت میں اصل وکمال دونوں لحاظ سے دینداری معتبر ہو۔لہذا کسی مسلمان خاتون کی شادی کافر سے نہ کی جائے اور نہ پاکدامن کی فاسق وفاجر سے۔قرآن وسنت میں اس کے علاوہ کفائت میں کسی چیز کا کوئی اعتبار نہیں کیا گیا ہے۔پس مسلمان خاتون کا زناکار بدبخت سے نکاح حرام قرار دیا۔اور حسب ونسب،
یہ ہے اس حدیث کا صحیح معنی ومفہوم،
1–حسب ونسب اور صناعت وحرفت میں کفائت کا اعتبار کرنے والے بطور دلیل یہ حدیث پیش کرتے ہیں:
"العرب أكفاء بعضها بعضا قبيل بقبيل و رجل برجل, والموالي أكفاء بعضها بعضا قبيل بقبيل و رجل برجل إلا حائك وحجام" [السنن الکبری للبیہقی:7/218 حدیث نمبر:13770]
(عرب ایک دوسرے کے کفو ہیں،
لیکن اس حدیث سے استدلال صحیح نہیں،
نیز یہ ان صحیح احادیث کے معارض بھی ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ کفائت میں نسب کا کوئی اعتبار نہیں۔بطور مثال ملاحظہ فرمائیں:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
أن أبا هند،
(ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم اپنی بچیوں کی شادی کرو)
ابو ہند یہ بنو بیاضہ کے غلام تھے،
علامہ صنعانی ”سبل السلام“(3/356) میں فرماتے ہیں:
”یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کفائت میں انساب کا کوئی اعتبار نہیں“۔
اسی طرح عہد نبوی میں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک عالی نسب کی شادی کسی غلام سے ہو ئی ہے۔مثلا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریشی خاتون تھیں ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو کہ غلام زادہ تھے،
اسی طرح زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو کہ غلام تھے ان کی شادی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔[صحیح بخاری،
عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن کی شادی بلال رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔[السنن للدار قطنی:3/301-302 والسنن الكبرى للبیہقی: 7/137]
ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس نے سالم مولی حذیفہ کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ کے ساتھ کی۔[صحیح بخاری،
ان تمام واقعات سے یہ آشکارا ہوجاتا ہے کہ کفائت میں حسب ونسب اور ذات برادری کا شریعت نے کوئی اعتبار نہیں کیا ہے۔
علامہ ابن عربی ”عارضۃ الاحوذی“(4/243) میں فرماتے ہیں:
”کفائت میں دین کا انتخاب کرنا چاہیے دنیا کا نہیں۔آپﷺ نے اپنے غلام زید کا اپنی پھپھیری بہن زینب سے شادی کرکے اور مقداد کا اپنی پھپھیری بہن ضباعہ سے شادی کرکے اسے بیان کردیا۔اسی طرح ابوحذیفہ بن عتبہ نے ہند بنت ولید سے سالم کی شادی کرکے اسے ثابت کردیا“۔
ابو ہند کی حجامت والی حدیث ذات برادری اور حسب ونسب کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ صنعت وحرفت کا بھی کفائت میں کوئی اعتبار نہیں۔
2–مال ودولت میں کفائت کا اعتبار کرنے والے بطور دلیل فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی سابقہ حدیث پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
"أما معاوية فصعلوك لا مال له" [صحیح مسلم،
(جہاں تک معاویہ کی بات ہے تو وہ فقیر ہیں،
لیکن اس سے مال ودولت میں کفائت کے شرط ہونے پر استدلال صحیح نہیں۔کیونکہ معاویہ کی جگہ آپ نے اسامہ بن زید سے نکاح کا مشورہ دیا،
اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کا زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔شادی کے ابتدائی ایام میں وہ مالدار نہ تھے بلکہ فقیر تھے۔اسماء فرماتی ہیں:
"تزوجني الزبير،
(زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال،
اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا معاملہ ہے۔ان کی اہلیہ مالدار تھیں اور وہ فقیر تھے۔ایک دن وہ نبیﷺ کے پاس آئیں اور دریافت کیں: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے صدقہ کا مال اپنے شوہر کو دوں تو کیا یہ کافی ہوگا؟ آپ نے فرمایا: تمھیں صدقہ اور صلہ رحمی کا دوہرا اجر ملےگا۔[صحیح مسلم،
بلکہ خود آپﷺ محتاج تھے اور ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی معروف مالدار تاجرہ تھیں۔اس طرح کے واقعات بہت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مال ودولت کو کفائت کی شرط قرار دینا صحیح نہیں۔واللہ اعلم
3- حریت میں کفائت کا اعتبار کرنے والے بریرہ اور مغیث کے قصہ سے استدلال کرتے ہیں کہ جب بریرہ آزاد ہو گئیں تو مغیث کے ساتھ رشتہ ازدواج میں باقی رہنا گوارا نہ کیا۔مغیث روتے اور ان کے آگے پیچھے گھومتے رہتے۔جس پر آپﷺ نے بریرہ سےرجوع کی درخواست کی۔کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں بس سفارش کر رہا ہوں۔تو بولیں: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔[صحیح بخاری،
کہتے ہیں: آزاد ہونے کے بعد چونکہ دونوں کے مابین کفائت باقی نہیں رہ گئی تھی اسی لیے آپ نے بریرہ کو الگ ہونے کا اختیار دیا اور رجوع کا حکم نہیں دیا۔
لیکن یہ استدلال محل نظر ہے،
اس کی تائید ان تمام مذکورہ واقعات سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ آپ نے یا صحابہ کرام نےآزاد عورتوں کا غلام مردوں کے ساتھ نکاح کا حکم دیا یا نکاح کروایا۔
زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگر مرد آزاد ہو تو کسی لونڈی سے شادی کی ترغیب نہیں دی جاسکتی،
ومن لم يستطع منكم طولا أن ينكح المحصنات المؤمنات فمما ملكت أيمانكم من فتياتكم المؤمنات [سورۃ النساء،
(اور تم میں سے جو مالی لحاظ سے طاقت نہ رکھے کہ آزاد مومن عورتوں سے نکاح کرے تو مومن لونڈیوں سے نکاح کرلے)
لہذا اس مسئلہ میں شرعی رہنمائی یہ ہے کہ دینداری کے علاوہ کسی چیز میں کفائت کا کوئی اعتبار نہیں۔اور اسی کی آپ نے ترغیب بھی دی ہے:
"إذا أتاكم من ترضون دينه وخلقه فانكحوه إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد كبير"[سنن ترمذی،
(جب تمھارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کی دینداری اور اخلاق سے تم راضی ہوتو اس سے نکاح کردو،
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں کتاب وسنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہر طرح کی جاہلانہ عصبیت سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔





