بعض حضرات کہتے ہیں کہ علمائے متقدمین جب لفظ ”اہل الحدیث“ یا ”اصحاب الحدیث“ کا اطلاق کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد وہ جماعت ہوتی ہے جن کا مشغلہ علم حدیث پڑھنا اور پڑھانا ہے۔یعنی محدثین کی جماعت۔
ان کے مطابق آج کل جو ”منہج صحابہ وتابعین پر چلنے والوں‘‘ کے معنی میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے اور ایسے شخص کے لیے بھی اسے استعمال کرتے ہیں جن کا علم حدیث سے کوئی شغف نہیں ہوتا یہ ایک نئی اصطلاح ہے۔سلف اس معنی میں اس لفظ کا استعمال نہیں کرتے تھے۔
اسی مغالطہ کو دور کرنے کے لیے یہ چند سطور آپ کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
اگر علماء متقدمین ومتاخرین کی کتابوں میں بغور دیکھا جائے تو لفظ ”اہل حدیث“ یا ”اصحاب حدیث“ کا اطلاق ان کے نزدیک دو معنوں میں ہوتا ہے:
(۱)خاص معنی:
ہر وہ شخص جس کا تعلق علم حدیث پڑھنے پڑھانےسے ہو۔یعنی محدثین کرام۔چونکہ اس معنی کا کوئی انکار نہیں کرتا اس لیے اس کی تفصیل کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔
(۲)عام معنی:
ہر وہ شخص جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ وتابعین اور ان کی اتباع کرنے والوں کے طریقے اورمنہج پر قائم ہو،
سلف صالحین کے اقوال سے چند دلیلیں بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
پہلی دلیل:
یزید بن ہارون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حماد بن زید رحمہ اللہ سے پوچھا:
يَا أَبَا إِسْمَاعِيلَ هَلْ ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ:بَلَى،
یہاں حماد بن زیدرحمہ اللہ نے ”اصحاب حدیث“ کا لقب صرف محدثین کے لیے خاص نہیں کیا ہے،
اسی طرح کی بات عبد الرزاق الصنعانی رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے۔[دیکھیں: شرف اصحاب الحدیث للخطیب البغدادی،
دوسری دلیل:
ابو بکر احمد بن عبد الرحمن النسفی المقری فرماتے ہیں:
كَانَ مَشَايِخُنَا يُسَمُّونَ أَبَا بَكْرِ بْنَ إِسْمَاعِيلَ أَبَا ثَمُودَ،
یہاں پر سیاق بالکل واضح ہے کہ ”اصحاب حدیث“ کا اطلاق ”اہل سنت والجماعت“ کے معنی میں کیا گیا ہے۔جب تک وہ صحیح منہج پر قائم رہے انھیں وہ ”اصحاب حدیث“ میں سے شمار کرتے رہے لیکن جیسے ہی ان کا منہج بگڑا اور نصوص کو چھوڑ کر رائے،
یعنی ان مشایخ کے بقول صحیح منہج پر چلنے والے ہدایت یافتہ اور ”اصحاب حدیث“ ہیں۔اور ان کے مقابلے میں ”اہل بدعت“ہیں۔
پتہ چلا کہ سلف ”اصحاب حدیث“ کا اطلاق علم حدیث کے ماہرین پر ہی نہیں کرتے تھے بلکہ صحیح منہج کے پیروکاروں کے لیے یہ لقب ان کے یہاں بالکل عام تھا۔ورنہ یہ لازم آئےگا کہ ابو بکر بن اسماعیل پہلے علم حدیث کے ماہر تھے پھر اچانک جاہل ہو گئے جس کی وجہ سے سلف نے ان کے لیے یہ لقب استعمال کرنا بند کر دیا۔یہ معنی کوئی متعصب شخص بھی نہیں سوچ سکتا۔
تیسری دلیل:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی ہے کہ قیامت تک ایک جماعت حق پر قائم رہے گی۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی کہا ہے کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائےگی،
اس جماعت کی تشریح میں سلف صالحین کی ایک جماعت مثلا: عبد اللہ بن مبارک،
ظاہر سی بات ہے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ صرف علم حدیث پڑھنے پڑھانے والے ہی اس نجات یافتہ جماعت میں داخل ہیں اور باقی جو دوسرے علوم وفنون سے تعلق رکھتے ہیں،
ان اجلائے سلف کا مذکورہ احادیث کی شرح میں نجات یافتہ جماعت پر ”اصحاب الحدیث“ کا اطلاق کرنا واضح دلیل ہے کہ یہ لفظ ان کے نزدیک صرف علم حدیث کے ساتھ جڑے رہنے والوں کے لیے خاص نہیں تھا بلکہ ”اہل بدعت“کے مقابلے میں ہر اس شخص پر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریقے پر ہو اس کا اطلاق کرتے تھے۔اور یہ اطلاق ان کے نزدیک بہت معروف ومشہور تھا۔ورنہ یہ لازم آئےگا کہ سلف کے نزدیک نجات یافتہ جماعت صرف علم حدیث پڑھنے پڑھانے والے ہی ہیں۔جس کا بطلان ہر ایک کے لیے بالکل واضح ہے۔
چوتھی دلیل:
امام ابو عثمان اسماعیل بن عبد الرحمن الصابونی (متوفی۴۴۹ھ) نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب کا نام ہی ”عقیدۃ السلف اصحاب الحدیث“ رکھا ہے جس سے واضح ہے کہ اہل حدیث سے ان کی مراد سلف صالحین ہیں،
الف:
ويعتقد أهل الحديث ويشهدون أن الله سبحانه وتعالى فوق سبع سموات على عرشه [عقيدة السلف أصحاب الحديث:ص۶]
ب:
مذهب أهل الحديث أن الإيمان قول وعمل ومعرفة،
ج:
يشهد أصحاب الحديث ويعتقدون أن القرآن كلام الله وكتابه،
د:
ومن قال: إن القرآن بلفظي مخلوق،
ه:
يثبت أصحاب الحديث نزول الرب سبحانه وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا،
و:
يعتقد ويشهد أصحاب الحديث أن عواقب العباد مبهمة،
ان تمام نصوص کو بغور دیکھیں! مسئلہ کی حقیقت جاننے کے لیے یہ کافی وشافی ہیں۔
امام صابونی کی اس کتاب میں ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جن سے بالکل صاف ہے کہ ”اہل حدیث“ اور ”اصحاب حدیث“ کا استعمال سلف صالحین کے نزدیک علم حدیث پڑھنے پڑھانے والوں کے لیے خاص نہیں تھا بلکہ عمومی معنی میں ہر اس شخص پر اس کا استعمال ان کے نزدیک معروف ومشہور تھا جو صحابہ وتابعین کے منہج پر چلنے والے تھے۔
پانچویں دلیل:
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ صفات باری تعالی کے سلسلے میں سلف کا موقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مذهب أهل الحديث-وهم السلف من القرون الثلاثة،
یہاں شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بہت ہی صریح لفظوں میں بیان کیاہے کہ ”اہل حدیث“ کا اطلاق قرون ثلاثہ کے سلف صالحین اور بعد کے زمانے میں ان کے منہج پر چلنے والوں پر ہوتا ہے۔
خلاصۂ کلام: سلف صالحین کے نزدیک ”اہل حدیث“ اور ”اصحاب حدیث“ کا اطلاق جس طرح ’’محدثین“ پر ہوتا ہے اسی طرح عام معنی میں وہ ”صحابہ وتابعین کے منہج پر چلنے والوں“ پر بھی ہوتا ہے،
اللهم أرنا الحق حقًا،





