استاد محترم فضیلۃ الشیخ عبد المحسن العباد-حفظہ اللہ ومتعہ بالصحہ والعافیہ-اپنے کتب حدیث کے دروس میں روات حدیث کے مختصر تعارف کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور ان کے متعلق گاہے گاہے نہایت ہی اہم ونادر فوائد سے طلبہ کو نوازتے رہتے ہیں۔شیخ کے دروس میں التزام کے ساتھ شریک ہونے والا طالب گوناگوں علمی فوائد کے علاوہ بغیر کسی اضافی محنت کے بے شمار روات حدیث کے حالات زبانی یاد کر سکتا ہے۔سند میں جب بھی کسی راوی کا نام آتا ہےشیخ یہ ضرور بتاتے ہیں کہ کتب ستہ کے مصنفین میں سے کس کس نے اس سے روایت کی ہے۔اور جب کسی ایسے راوی کا نام آتا ہے جس سے کتب ستہ کے تمام مصنفین نے براہ راست روایت کی ہے تو ان تمام روات کا نام ذکر کرتے ہیں جنھیں یہ شرف حاصل ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علم حدیث سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ان تمام روات کااختصار کے ساتھ تذکرہ کر دیا جائے۔
یہ شرف پانے والے روات کی کل تعداد نو ہے۔ذیل میں ان تمام روات کے اسمائے گرامی کے ساتھ ساتھ بطور دلیل ہر کتاب سے ایک ایک حدیث کا حوالہ دیا جا رہا ہے جہاں کتب ستہ کے مصنفین نے ان سے ڈائریکٹ روایت کی ہے۔
(۱)عبد الله بن سعيد بن حصين الكندي،
صحیح بخاری (حدیث نمبر۷۱۱۹)،
(۲)محمد بن معمر بن ربعي القيسي،
صحیح بخاری (حدیث نمبر۹۲۳)،
(۳)نصر بن علي بن نصر الأزدي الجهضمي أبو عمرو الصغير
صحیح بخاری (حدیث نمبر۴۵۵۲)،
(۴)يعقوب بن إبراهيم بن كثير مولاهم،
صحیح بخاری (حدیث نمبر۱۱۹۱)،
(۵)عمرو بن علي بن بحر بن كنيز،
صحیح بخاری (حدیث نمبر۶۸۸۶)،
(۶)محمد بن العلاء بن كريب الهمداني،
صحیح بخاری (حدیث نمبر۱۰۵۹)،
(۷)محمد بن بشار بن عثمان العبدي،
صحیح بخاری (حدیث نمبر۶۶۰)،
(۸)محمد بن المثنى بن عبيد بن قيس بن دينار العنزي،
صحیح بخاری (حدیث نمبر۱۲۹۹)،
(۹)زياد بن يحيى بن زياد بن حسان بن عبد الله،
صحیح بخاری (حدیث نمبر۲۶۵۷)،
شیخ محمد بن علی بن آدم اثیوبی رحمہ اللہ نے ”ذخيرة العقبى في شرح المجتبى“(۱/۵۸۵) میں ان جلیل القدر خوش نصیب محدثین کوچندا شعار میں اس طرح جمع کیا ہے:
اشْتَرَكَ الأئمَّةُ الهُدَاةُ .......................... ذَوُو الأصُول السِّتَّة الوُعَاةُ
في تسْعَة منَ الشُّيُوخ المَهَرَهْ ... ................ البَارعينَ النَّاقدينَ البَرَرَه
أولئكَ الأشَجُّ وابنُ مَعْمَر . ................. نَصْرٌ ويَعْقُوبُ وعَمْروٌ السَّري
وابنُ العَلاء وابنُ بَشَّار كَذَا ... ................ ابنُ المُثَنَّى وزيَادٌ يُحْتَذَى
اور بھی دوسرے علما نے ان محدثین کو اشعار میں جمع کرنے کااہتمام کیا ہے لیکن ان کے یہاں بعض ناموں میں قدرے اختلاف ہے۔چنانچہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بندارٌ ابنُ المثنى الجهضميُّ أبو ............ سعيدِ عمرٌو وقيسي وحساني
يعقوبُ والعنبري الجوهريُّ هم ........... مشايخُ الستة اعرِفهم بإحسانِ
[فتح المغیث للسخاوی:۳/۳۴۵-۳۴۶]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان محدثین میں جوہری (جن کانام ہے:إبراهيم بن سعيد الجوهرى،
لیکن صحیح یہ ہے کہ امام بخاری نےجوہری سے روایت نہیں کی ہے۔ان کی کوئی روایت صحیح بخاری میں نہیں ملتی۔حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَالْجَوْهَرِيُّ لَمْ تَقَعْ رِوَايَةُ الْبُخَارِيِّ عَنْهُ فِي صَحِيحِهِ صَرِيحًا [فتح المغيث بشرح الفيۃ الحديث:۳/۳۴۶]
(امام بخاری کی ”صحیح“ میں صراحت کے ساتھ ان کی جوہری سے روایت موجود نہیں)
اور حافظ مزی نے بھی تہذیب الکمال میں ان کے شاگردوں میں امام بخاری کا نام ذکر نہیں کیا ہے۔ان کے سوانح میں شاگردوں کا ذکر کرتے ہوئےفرماتے ہیں:
رَوَى عَنه الجماعة سوى البخاري [تہذيب الكمال فی اسماء الرجال:۲/۹۶]
(ان سے جماعت یعنی کتب ستہ کے تمام مصنفین نے روایت کیا ہے سوائے بخاری کے)
حافظ زرکشی نے بھی ”النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح“(۱/۱۶۱-۱۶۲) میں ان محدثین کا ذکر کیا ہے جن سے کتب ستہ کے تمام مصنفین نے براہ راست روایت کیا ہے لیکن انھوں نے بھی جوہری کا نام ذکرنہیں کیا ہے۔لہذا اس ضمن میں جوہری کا نام ذکر کیا جانا صحیح نہیں۔واللہ اعلم
اسی طرح عباس بن عبد العظیم العنبری کا نام بھی اس ضمن میں ذکر کرنا صحیح نہیں،
امام زرکشی رحمہ اللہ ان کا نام ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وعباس بن عبد العظيم العنبري إلا أن رواية البخاري عنه تعليق[النكت على مقدمۃ ابن الصلاح للزركشی:۱/۱۶۲]
(ان محدثین میں عباس بن عبد العظیم عنبری بھی ہیں لیکن ان سے بخاری کی روایت تعلیقًا ہے)
اس لیے جب ابن ناصر الدین دمشقی رحمہ اللہ نے ان محدثین کا نام ذکر کیا تو عباس بن عبد العظیم کا نام ذکر نہیں کیا،
روى خ م د ت ن ق عَن مَشَايِخ عشرَة ... هم الْعَنزي الْجَهْضَمِي ابْن معمر
وَبُنْدَار وَالْفَلَّاس يَعْقُوب دورق ........ اشج زِيَاد ابْن الْعَلَاء وجوهري
[توضیح المشتبہ لابن ناصر الدین الدمشقی:۱/۳۸۸]
البتہ انھوں نے بھی جوہری کو ذکر کرنے میں حافظ ذہبی کی موافقت کی ہے جو کہ صحیح نہیں،
نیز حافظ ذہبی نے ابو کُرَیب محمد بن العَلَاء بن کُرَیب کا نام چھوڑ دیا ہے،
اسی لیے بدر بن سلامہ نے ان پر استدراک کرتے ہوئے کہا ہے:
وأبو كريب رووا عنه بأجمعهم ............ والفيريابي قل شيخ لهم ثانِ
[فتح المغيث بشرح الفيۃ الحديث للسخاوی:۳/۳۴۶]
لیکن انھوں نے ابو کُرَیب کے ساتھ فریابی (محمد بن يوسف بن واقد بن عثمان الضبي مولاهم،
ان تمام محدثین سے براہ راست روایت کرنے میں کتب ستہ کے مصنفین کے ساتھ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ بھی شریک ہیں۔انھوں نے ان تمام محدثین سے اپنی ”صحیح“ میں براہ راست روایت کی ہے۔بلکہ جوہری اور عنبری جن کے متعلق ابھی گزرا کہ ان سے کتب ستہ کے تمام مصنفین نے براہ راست روایت نہیں کی ہے ان سے بھی ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے براہ راست روایت کی ہے۔اس سے ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے اسانید عالیہ کا پتہ چلتا ہے۔اور وہ اس باب میں معروف بھی ہیں۔ان کی اسانید ان کے ہم عصر دوسرے محدثین کی بہ نسبت کافی عالی ہیں۔





