گزشتہ کئی سالوں سے الحمد للہ بردرس کی نقل وحرکت قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ایک وہ دور بھی تھا جب میں خود ان کا بڑا مداح تھا اور ان کے خلاف ایک لفظ سننا گوارا نہیں کرتاتھا۔بعض ساتھیوں کے ساتھ خوب بحثیں بھی ہوتی تھیں،
میں نے بردرس کے خلاف لکھنا تب شروع کیا جب اس باب میں سلف صالحین کا منہج اور بردرس کا اس منہج سے انحراف بالکل واضح ہو گیا۔اس لیے میرے جو خیر خواہ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کی طرح بردرس کا حامی بن جاؤں وہ کتاب وسنت اور منہج سلف سے ان کی حقانیت ثابت کر دیں بہ صد شکریہ ان کی بات قبول کر لوں گا۔
گزشتہ ایام میں جب بردرس کی گمراہیوں کو میں نے بیان کرنا شروع کیا تو کئی بار بعض حضرات نے بردرس کی حمایت اور دفاع میں علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا نام بطور ڈھال استعمال کرنا چاہا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ انھوں نے بھی محض ذاتی مطالعے سے علم حاصل کیا،
اس لیے اس شبہ کا ازالہ کرنا ضروری محسوس ہوا کہ”کیا علامہ البانی رحمہ اللہ نے کسی مدرسہ یا استاد سے علم حاصل نہیں کیا تھا؟“
در حقیقت یہ شیخ رحمہ اللہ پر بہت بڑا بہتان ہے کہ انھوں نے کسی مدرسہ یا استاد سے علم حاصل نہیں کیا تھا۔شیخ رحمہ اللہ ہماری ہی طرح عجمی تھے،
خود شیخ رحمہ اللہ اپنے بارے میں فرماتے ہیں:
”وكان عمري في ذلك الوقت تسع سنوات،
سوریا آنے کے بعد ایک پرائیویٹ مدرسہ”جمعیۃ الاسعاف الخیری“میں آپ نے داخلہ لیا اور مسلسل چار سال تک وہاں تعلیم حاصل کی۔مدارس میں جو علوم آلہ پڑھائے جاتے ہیں ان تمام علوم سے اپنے آپ کو لَیس کیا۔واضح ہو کہ نہایت ذہین ہونے کی وجہ سے پہلے دو سال کا کورس آپ نے ایک سال میں ہی ختم کر دیا تھا۔اس لیےگرچہ مذکورہ مدرسے میں صرف چار سال تھے لیکن یہ کورس چار سال سے زیادہ کا تھا جو آپ نے وہاں پڑھا۔آپ عربی زبان وقواعد میں اس طرح ماہر ہو چکےتھے کہ عربی طلبہ جن مسائل کو حل نہیں کر پاتے تھے استاد آپ کی طرف متوجہ ہوتے اور کہتے:
”ما ذا تقول يا أرناؤطي عن هذه الجملة؟“(اے ارناؤطی-یعنی البانی-تم اس جملہ کے بارے کیا کہتے ہو؟)
شیخ صحیح جواب دیتے اور استاد عرب طلبہ کو عار دلاتے کہ دیکھو تم عرب ہو اور یہ عجمی ہیں لیکن صحیح جواب انھوں نے دیا ہے۔[صفحات بیضاء من حیاۃ الامام الالبانی لابی اسماء عطیۃ المصری: ص۲۰]
اس کے بعد ان کے والد نے انھیں مدرسہ سے نکال لیا اور گھر میں ان کے لیے ایک نہایت منظم کورس تیار کیا اور وہیں ان کی آگے کی تعلیم جاری رہی۔ان کے والد خود بہت بڑے حنفی عالم تھے اوراس علاقے میں انھیں مرجع کی حیثیت حاصل تھی۔شیخ نے ان کے پاس علم الصَرف اور فقہ حنفی پڑھا،
وہیں شیخ نے دمشق کی مشہور مسجد،
وہیں شیخ نے حلب (سوریا) کے مشہور محدث شیخ راغب الطباخ سے علم حدیث میں اجازہ بھی حاصل کیا۔
ساتھ ہی شیخ ملک شام کے مفتی ومحدث علامہ محمد بہجہ البیطار کے دروس میں بھی حاضر ہوتے تھےاور اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے۔
ایک مدت تک ماہر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے اور علوم آلہ سے مسلح ہونےکے بعد شیخ جب اس قابل ہو گئے کہ ذاتی مطالعہ کر سکیں تو شیخ نے مطالعہ کتب کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔[تفصیل کے لیے دیکھیں: حیاۃ الالبانی وآثارہ لمحمد ابراہیم الشیبانی: ص۴۴-۴۶،
یہ ہے شیخ رحمہ اللہ کے طلب علم کی مختصر داستان۔
اب آپ ہی انصاف کے ساتھ بتائیں کہ کیا شیخ نے کسی مدرسہ یا استاد کے بغیر ہی علم حاصل کیا تھا یا ان کا طلب علم کا طریقہ وہی تھا جو سلف صالحین کا طریقہ تھا؟
کیا اس کے باوجود بردرس کی حمایت میں شیخ کا نام لینا اور ان کے طلب علم کے طریقہ کو بردرس کے لیے حجت بنانا نا انصافی نہیں ہے؟
اگر بردرس اپنی تائید میں شیخ کا نام لیتے ہیں تو ہم ان سے صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ شیخ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ماہر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کریں،
اللہ ہمیں ہمارے علما کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاص کے ساتھ طلب علم،






