امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی امامت اور جلالت شان متفق علیہ ہے۔فقہ میں ان کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول ہی کافی ہے:
الناس عيال على أبي حنيفة في الفقه ( لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں) [تاریخ بغداد:۱۵/۴۷۴]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
الإمامة في الفقه ودقائقه مسلمة إلى هذا الإمام،
ہم دوسرے ائمہ سلف کی طرح ان کا احترام سلامت منہج کی علامت سمجھتے ہیں۔اور کتاب وسنت کو انھی سلف صالحین کے فہم کے مطابق سمجھنا ضروری قرار دیتے ہیں۔لیکن کسی ایک کی تقلید کو جائز نہیں سمجھتے،
جہاں ائمہ سلف کا احترام ضروری ہے وہیں ان کی شان میں غلو کرنا اور اس غلو میں تدلیس سے کام لینا نہایت ہی مذموم عمل ہے۔در اصل انھیں اس کی ضرورت ہی نہیں کہ ہم ان کے لیے جھوٹی تعریف کے راستے ڈھونڈیں اور ان کی شان میں جھوٹے قصیدے پڑھیں۔ان کی شان اس سے کہیں اعلی وارفع ہے۔جو لوگ بعض ائمہ کی جھوٹی محبت میں یہ راستہ اپناتے ہیں در اصل ان کا حال وہی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے:
المُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ[صحیح بخاری:۵۲۱۹،
افسوس کہ بعض حضرات وقتًا فوقتًا ایسی اوچھی حرکت کرتے رہتے ہیں۔اس کی ایک مثال چند مہینے پہلے دیکھنے کو ملی جب شیخ لطیف الرحمن بہرائچی قاسمی صاحب کی کتاب ”الموسوعۃ الحدیثیہ لمرویات الامام ابی حنیفہ“منظر عام پر آئی۔اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے شیخ کے ہی ایک مرید محمد نعمان مکی نے قصیدہ خوانی شروع کر دی اور پھر سوشل میڈیا میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق مبالغہ آمیزی کا ایک دور شروع ہو گیا۔
اس مرید نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے یہ سبب تالیف ذکر کیا ہے کہ:”کچھ کم علم اور متعصب افراد نے امام صاحب پر ’قلیل الحدیث‘اور ’یتیم فی الحدیث‘ وغیرہ ہونے کا الزام لگایا ہے،
در اصل یہ موسوعہ اسی مقصد سے مرتب کیا گیا ہے کہ امام صاحب پر لگے اس الزام سے ان کو بری کیا جائے۔چنانچہ آگے اسی تعارفی تحریر میں فرماتے ہیں: ”آپ صرف محدث ہی نہیں بلکہ امام حدیث،
امام بخاری اور امام مسلم بلکہ اصحاب کتب ستہ اور دیگر اصحاب صحاح کا مقام ومرتبہ بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔خود ان کی کتابیں اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
بلکہ خود صاحب موسوعہ شیخ بہرائچی کا یہ کلام یہ بیان کرنے کے لیے کافی ہے کہ علم حدیث میں ان مصنفین کا مقام ومرتبہ امام صاحب کے مقابلے کتنا بلند ہے۔فرماتے ہیں:
بعض أصحاب الصحاح ذكروها في صحاحهم،
خود صاحب موسوعہ ان معروف کتب حدیث میں امام صاحب کی ایک دو حدیث مروی ہو جانے کو امام صاحب کے معتبر ہونے کی دلیل بنا رہے ہیں۔اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان محدثین کا علم حدیث میں کیا مقام ومرتبہ ہے۔
اس موسوعہ میں حد درجہ تدلیس کرنے (جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے) کے باوجود امام صاحب کی مرویات کی تعداد ۱۰۵۸۸ تک پہنچائی گئی ہے،
اور امام مسلم نے تین لاکھ احادیث سے منتخب کرکے اپنی صحیح کو لکھا تھا۔(صیانۃ صحیح مسلم: ص۶۷)
لہذا اگر ان کی بات مان بھی لی جائے پھر بھی امام صاحب کا امام بخاری اور امام مسلم کا کثرت روایت میں ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنا مضحکہ خیز ہے۔
اب آئیں جائزہ لیتے ہیں کہ جس مقصد سے یہ موسوعہ مرتب کیا گیا ہے اس میں صاحب کتاب کس حد تک کامیاب ہیں۔کیا حقیقت میں اس موسوعہ سے امام صاحب کے ’قلیل الحدیث‘ ہونے کی نفی ہو جاتی ہے؟
کیا یہ موسوعہ امام صاحب کو ’کثیر الحدیث‘ بلکہ امام بخاری وامام مسلم کا ہم پلہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے؟
شیخ کے خادم ومرید محمد نعمان مکی صاحب اس موسوعہ کے احادیث کی تعداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”پھر پندرہ سال کی مسلسل جدو جہد سے پورے ذخیرہ احادیث کو کھنگال کرکے ان کی ترتیب،
اسی طرح اس موسوعہ کی قصیدہ خوانی کرنے والوں میں ایک معروف نام ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی صاحب کا ہے۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:
”مولانا کا انتہائی اہم اور قابل قدر کارنامہ یہ انسائیکلوپیڈیا ہے،
لگتا ہے دونوں صاحبان نے کتاب دیکھے بغیر ہی مذکورہ عدد لکھ دیا ہے۔اگرکتاب دیکھنے کی زحمت گوارا کرتے تو قطعا یہ عدد نہ لکھتے۔خود صاحب موسوعہ شیخ لطیف الرحمن بہرائچی اس موسوعہ کے مقدمہ (۱/۹) میں احادیث کی تعداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قد بلغت بفضل الله تعالى المرويات المرفوعة والموقوفة والآثار (۱۰۵۸۸) عشرة آلاف وخمس مئة وثمانية وثمانين حديثًا بحذف المكرر
یعنی خود مصنف کے بقول تمام مرفوع،
محترم قارئین! آپ غور کریں کہ امام صاحب کی مرویات کی تعداد کے متعلق اصل اشکال کیا ہے۔کیا صحابہ وتابعین کے فتاوے نقل کرنے میں انھیں ’قلیل الحدیث‘ کہا جاتا ہے؟ یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث روایت کرنے میں؟
قطعا جنھوں نے بھی انھیں قلیل الحدیث کہا ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے متعلق کہا ہے،
پھر صحابہ وتابعین کے فتاوے کو مستقل نمبر شمار کرنا تاکہ امام صاحب کی مرویات کی تعداد زیادہ سے زیادہ دکھائی جا سکے کیا یہ تدلیس نہیں؟
اس موسوعہ میں بے شمار مرویات ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہیں ہی نہیں،
بلکہ اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس میں خود امام صاحب کے بے شمار فتاوے ہیں جنھیں تسلسل نمبر میں ایک مستقل نمبر دیا گیا ہے۔
کیا آج تک کسی نے امام صاحب کے ذاتی فتاوے کی تعداد کی وجہ سے انھیں ’قلیل الحدیث‘ کہا ہے؟
پھر ان کے ذاتی فتاوے کو شمار کرکے یہ ہمالیائی تعداد دکھا کر اسے ’الموسوعۃ الحدیثیہ لمرویات الامام ابی حنیفہ‘ نام دینے کا کیا معنی؟
اگر ان فتاوی کو نکال دیا جائے تو ان کی مرویات کی اصل تعداد کیا بچےگی صاحب موسوعہ اور ان کے مریدین ہم سے زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں۔اس کے باوجود یہ کہنا کہ ان کی احادیث کی تعداد ساڑھے دس ہزار سے زائد ہے کیا یہ سفید جھوٹ نہیں؟
کیا علمائے احناف دنیا کو اس قدر بُدّھو سمجھتے ہیں کہ ان کی آنکھوں میں اس طرح دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟
یہ تو مرویات کی اقسام کی بات ہوئی۔اب آتے ہیں اس سے بھی بڑی تدلیس کی طرف جو علمائے احناف اور ان کے مریدین نے کرنے کی کوشش کی ہے۔
کوئی بھی شخص اس تعداد کو سن کر یہی سوچےگا کہ امام صاحب کی احادیث کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے۔انھوں نے دس ہزار سے زائد احادیث روایت کی ہیں۔اور جب ان کے پاس اتنی زیادہ احادیث تھیں تو انھیں کسی صورت میں ’قلیل الحدیث‘ کہنا مناسب نہیں۔
لیکن میرے بھائیو! حقیقت کچھ اور ہی ہے۔بلکہ اس میں ایسی قبیح تدلیس سے کام لیا گیا ہے کہ شاید اسلامی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہ ملے۔
اس سے پہلے کہ اس تدلیس کا پردہ فاش کروں ایک مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔
صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے:
إنما الأعمال بالنيات
اس حدیث کو امام یحیی بن سعید الانصاری نے اپنے استاد محمد بن ابراہیم التیمی سے،
اگر آپ امام یحیی بن سعید الانصاری کی مرویات کو شمار کریں تو یہ ایک حدیث شمار کریں گے یا تین چار سو؟
شاید آپ تین چار سو کا عدد سن کر چونک گئے ہوں گے۔بات ہے ہی چانکانے والی۔لیکن چونکئے مت۔یہ یقینا امام یحیی بن سعید الانصاری کی ایک ہی حدیث ہے،
اب اگر کوئی یہ کہے کہ میں آپ کو امام یحیی بن سعید الانصاری کی تین سو چالیس حدیثیں سناتا ہوں اور بار بار ان کے ایک ایک شاگرد کے طریق سے اسی حدیث کو بیان کرے اور کہے کہ یہ ان کی تین سو چالیس حدیثیں ہو گئیں تو آپ ان کے اس فعل کو کیا نام دیں گے؟
یہی کام شیخ لطیف الرحمن بہرائچی قاسمی صاحب نے اس موسوعہ میں کیا ہے۔ایک ہی حدیث اگر امام صاحب کے دس شاگردوں نے ان سے روایت کیا ہے تو انھیں الگ الگ دس نمبر دیا ہے اور یہ باور کرایا ہے کہ یہ امام صاحب کی دس الگ الگ حدیثیں ہیں۔حالانکہ اس حدیث کو امام صاحب نے ایک ہی سند سے روایت کیا ہے۔امام صاحب کے اوپر کی سند ہر جگہ ایک ہی ہے۔امام صاحب کے شاگرد یا شاگردوں کے شاگرد بس الگ الگ ہیں۔
کوئی یہ نہ کہے کہ روایت کرنے والے الگ الگ ہوں تو محدثین اسے الگ الگ حدیث شمار کرتے ہیں،
شیخ بہرائچی کی کتاب اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔یہاں ان کی کتاب سے بس دو مثالیں پیش کرتا ہوں:
پہلی مثال:
چھٹی جلد،
يوسف،
اس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اوپر کی سند ملاحظہ فرمائیں،
اگلے اٹھارہ صفحات تک اسی سند سے یہ حدیث مروی ہے۔صرف امام صاحب کے شاگرد یا شاگردوں کے شاگرد الگ ہیں۔ان تمام احادیث میں بہرائچی صاحب نے الگ الگ نمبر بیٹھایا ہے۔اس طرح ایک ہی حدیث پر انھوں نے پچاس سے زائد نمبرات ڈالے ہیں،
اب دوسری مثال ملاحظہ فرمائیں:
اس موسوعہ کی نویں جلد،
قال: حدثني أبي،
اس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اوپر کی سند ملاحظہ فرمائیں،
اگلے دس صفحات تک اسی سند سے یہ حدیث مروی ہے۔صرف امام صاحب کے شاگرد یا شاگردوں کے شاگرد الگ ہیں۔بلکہ اکثر میں امام صاحب کے شاگرد ابو اسامہ ہیں۔ان سے نیچے کی سند میں روات الگ الگ ہیں۔ان تمام احادیث میں بہرائچی صاحب نے الگ الگ نمبر بیٹھایا ہے۔اس طرح ایک ہی حدیث پر انھوں نے تیس سے زائد نمبرات ڈال دیے ہیں۔
اس طرح مختلف طرح کی تدلیسوں کے ذریعہ انھوں نے امام صاحب کی مرویات کی یہ تعداد پہنچائی ہے۔اگرکوئی وقت نکال کر پورے موسوعہ کی ایک ایک حدیث کی جانچ پڑتال کرے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حقیقی تعداد کیا نکلےگی۔
آخری تنبیہ:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اپنی کوئی ذاتی تصنیف نہیں تھی کہ ان مرویات کی ان کی طرف نسبت صد فیصد صحیح تسلیم کر لی جائے۔بلکہ اس موسوعہ میں جن مصنفین کی مسانید سے احادیث کو جمع کیا گیا ہے ان کے اور امام صاحب کے مابین کئی ایک واسطے ہیں۔اگر یہ واسطے محدثین کے اصول کے مطابق ثابت ہوں تو امام صاحب کی طرف ان کی نسبت صحیح ہوگی ورنہ انھیں امام صاحب کی مرویات میں شمار کرنا ہی محل نظر ہوگا۔
اوپر جو پہلی مثال ذکر کی گئی،
نوح بن دراج کو امام ابن معین اور امام ابو داود نے کذاب کہا ہے۔[میزان الاعتدال:۴/۲۷۶،
اور حسن بن زیاد کو ابن معین،
کیا ان کی مرویات کے بارے یہ کہنا جائز ہوگا کہ یہ امام صاحب نے روایت کیا ہے۔جب ان سے روایت کرنے والا شخص کذاب ہے تو ان سے یہ روایتیں سرے سے ثابت ہی نہیں ہوتیں،
اس طرح تمام قسم کی تدلیسات کو نکال دیا جائے تو امام صاحب کی اصل مرویات کی صحیح تعداد کیا نکلےگی بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس موسوعہ میں مرویات کی جو تعداد (۱۰۵۸۸) بتائی گئی ہے اس میں حد درجہ تدلیس سے کام لیا گیا ہے۔اس میں صحابہ کرام اور تابعین کے فتاوے کے ساتھ ساتھ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال کو بھی تسلسل نمبر میں شمار کر لیا گیا ہے۔یہ تعداد مرفوع احادیث کی ہے ہی نہیں۔اور ان کے اوپر کلام مرفوع احادیث کی روایت کے متعلق ہے۔آثار یا ذاتی اقوال کے متعلق نہیں۔
دوسری تدلیس یہ کی گئی ہے کہ ایک ہی حدیث بسا اوقات چالیس پچاس بار شمار کی گئی ہے،
اس طرح امام صاحب کی اصل مرویات کی تعداد بہت تھوڑی نکلےگی۔اور ان میں بھی امام صاحب سے وہ ثابت ہیں یا نہیں جانچ پڑتال کرنی پڑےگی۔اس طرح یہ تعداد گھٹ کر مزید کم ہو جائےگی۔
یہ امام صاحب کی کوئی تنقیص نہیں،
اللہ تعالی ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
نوٹ: مضمون نگار شعبہ فقہ السنہ،






