امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہم سب کے امام ہیں اور ہم دوسرے تمام ائمہ سلف کے ساتھ ساتھ ان کے بھی خوشہ چیں ہیں۔فقہی میدان میں ان کی امامت مسلم ہے،
حدّث بمائة وثلاثين حديثًا مسانيد،
اسی ’قلیل الحدیث‘ کے الزام سے انھیں بری کرنے کے لیے شیخ لطیف الرحمن بہرائچی قاسمی صاحب نے ایک کتاب ترتیب دی ہے جس کا نام رکھا ہے ’الموسوعۃ الحدیثیہ لمرویات الامام ابی حنیفہ‘۔اور یہ ثابت کرنے کی پرزور کوشش کی ہے کہ ان پر یہ الزام صحیح نہیں،
شیخ لطیف الرحمن بہرائچی کی مذکورہ کتاب کا تعارف کراتے ہوئے شیخ کے ایک خادم اور مرید محمد نعمان مکی صاحب فرماتے ہیں: ”کچھ کم علم اور متعصب افراد نے امام صاحب پر’قلیل الحدیث‘اور ’یتیم فی الحدیث‘وغیرہ ہونے کا الزام لگایا ہے،
محمد نعمان مکی صاحب نے پتہ نہیں کن محدثین پر حسد اور عناد کا الزام لگایا ہے،
حد تو تب ہو گئی جب اس مرید نے انتہائی غلو اور مبالغہ سے کام لیتے ہوئے انھیں کثرت روایت میں امام بخاری وامام مسلم کا ہم پلہ تک کہہ دیا۔کہتے ہیں:’’آپ صرف محدث ہی نہیں بلکہ امام حدیث،
میں نے اپنے سابقہ مضمون میں بالاختصار اس کا جائزہ لیا تھا،
جہاں تک امام بخاری رحمہ اللہ کی بات ہے تو انھوں نے خود اپنے بارے میں کہا ہے:
أحفظ مائَة ألف حَدِيث صَحِيح وأحفظ مِائَتي ألف حَدِيث غير صَحِيح [تاریخ بغداد:۲/۳۴۶،
اور صحیح بخاری کی تصنیف کے متعلق کہا ہے:
صنفت الْجَامِع من سِتّ مئَة ألف حَدِيث فِي سِتّ عشرَة سنة[ھدی الساری مقدمہ فتح الباری: ص۴۸۹]میں نے جامع کو سولہ سال میں چھ لاکھ حدیثوں سے لکھا۔
یہاں کسی کو یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ اس سے مراد چھ لاکھ متون ہیں،
امام ابراہیم بن سعید الجوہری کہتے تھے:
كل حديث لم يكن عندي من مئة وجه فأنا فيه يتيم(ہر وہ حدیث جو میرے پاس سو طرق سے موجود نہ ہو اس میں میں یتیم ہوں)
اسی طرح کا قول امام ابن معین رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے،
لو لم نكتب الحديث من ثلاثين وجهًا ما عقلناه(اگر ہم کوئی حدیث تیس طرق سے نہ لکھیں تو نہیں سمجھ پاتے)
اور امام ابو حاتم رازی کہتے تھے:
لو لم نكتب الحديث من ستين وجهًا ما عقلناه (اگر ہم کوئی حدیث ساٹھ طرق سے نہ لکھیں تو نہیں سمجھ پاتے)
[الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث للخلیلی:۲/۵۹۵،
یہ ہے ایک ہی حدیث کو متعدد طرق سے جمع کرنے کی اہمیت اور اس کا حقیقی مقام ومرتبہ جسے فن حدیث سے دلچسپی رکھنے والے علما اور طلبہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔امام بخاری رحمہ اللہ اس باب میں دوسروں کے امام تھے۔اورچونکہ یہ قول امام بخاری کا اپنا قول ہے اس لیے اس میں شک کی کوئی گنجائش بھی نہیں۔
کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس تعداد میں احادیث مرفوعہ کے ساتھ آثار صحابہ وتابعین بھی مراد ہو سکتے ہیں،
خود ان کا یا کسی متقدم محدث کا ایسا کوئی قول نہیں ملتا کہ ان کے پاس اس طرح ایک ہی حدیث کی متعدد اسانید موجود تھیں۔بلکہ اس کے بر عکس متقدمین محدثین نے ان کے قلیل الحدیث ہونے کی صراحت کی ہے جیسا کہ شروع میں بیان کیا گیا۔
یہاں یہ ہزگز نہیں بھولنا چاہیے کہ صاحب موسوعہ شیخ لطیف الرحمن بہرائچی نے جو دس ہزار پانچ سو اٹھاسی مرویات کی تعداد ذکر کی ہے اس میں امام صاحب کے ذاتی اقوال بھی ہیں۔یقینا ہر کوئی قبول کرےگا کہ مرویات میں ان اقوال کا شمار دھوکہ بازی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔اس لیے مذکورہ تعداد میں سے ان اقوال کو نکالنا ضروری ہے۔
پھر انھوں نے امام صاحب کے شاگردوں کے حساب سے جو ایک ہی حدیث پر بسا اوقات چالیس پچاس الگ الگ نمبر ڈالا ہے وہ بھی واضح تدلیس ہے،
یہ تو اسانید کے حساب سے احادیث وآثار کی تعداد ہے۔اگر صرف ان متون کی بات کی جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں،
صرف صحیح بخاری میں مکرر احادیث کو حذف کرنے کے بعد مرفوع احادیث کی تعداد ۲۶۰۲ ہے۔’التاریخ الکبیر‘میں تقریبا ساڑھے آٹھ سو اور ’الادب المفرد‘میں تقریبا ان کی تعداد نو سو ہے۔اس طرح صرف تین کتابوں میں مرفوع احادیث کی تعداد چار ہزار تین سو پچاس کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ان کی دیگر کتابوں کو تو ابھی ہم نے شمار کیا ہی نہیں۔اس کے علاوہ بھی ان کی ایسی بے شمار مرویات ہیں جو ان سے دیگر محدثین نے اپنی کتب میں روایت کی ہیں۔
واضح رہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مرویات کا پورادار ومدار ایسی ہی کتب پر ہے۔ان کی اپنی کوئی ذاتی تصنیف ہے ہی نہیں۔شیخ بہرائچی نے دوسرے علما کی کتب سے ہی ان کی مرویات کو جمع کیا ہے۔اگر امام بخاری کی مرویات کوبھی اسی طرح جمع کیا جائے تو وہ الگ ہوں گی اور وہ بھی بے شمار ہوں گی۔
اس کے بالمقابل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مرویات میں سے خالص ان متون کو ڈھونڈا جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں تو ان کی تعداد کتنی ہوگی؟
یقینا موسوعہ سے تمام طرح کی تدلیسات کو نکال دیا جائے اور صرف ان متون کو باقی رکھا جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں تو ان کی صحیح ترین تعداد وہی ہوگی جو متقدمین ائمہ کرام ومحدثین عظام نے ذکر کیا ہے۔
اس طرح بھی دونوں ائمہ کے مابین مرفوع متون کی تعداد میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔اس لیے یہ کہنا کوئی تعصب نہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ قلیل الحدیث ہیں اور امام بخاری کے ساتھ کثرت مرویات میں ان کا دور دور تک کہیں کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔بلکہ یہی عین حقیقت ہے اور ہر ایک کو ان کے اپنے مناسب مقام پر رکھنا ہے۔
اللہ تعالی ہمیں تعصب سے اوپر اٹھ کر حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔






