ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح اسانید سے مروی ہے کہ انھوں نے حاملہ اور مرضعہ کو رمضان کے روزے نہ رکھ پانے کی صورت میں صرف فدیہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
بعض حضرات یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان دونوں سے قضا کا فتوی بھی ثابت ہے جیسا کہ بعض معاصر علما نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے،
اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ ان روایات کا جائزہ لیا جائے جسے ان دونوں صحابہ کرام سے ”ثابت“ کہا جاتا ہے۔
●اولا: ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت:
ان سے مروی قضا کی روایت مصنف عبد الرزاق میں یوں آئی ہے:
عَنِ الثَّوْرِيِّ،
(حاملہ اور مرضعہ رمضان میں روزہ نہیں رکھیں گی،
اس روایت میں ثوری و ابن جریج کے استاد اور ابن عباس سے روایت کرنے والے کا نام ”عطاء“ مذکور ہے۔ان کی ولدیت یا نسبت کا کوئی تذکرہ نہیں۔
جنھوں نے اس روایت کو صحیح کہا ہے انھوں نے ”عطاء“ سے مراد ”عطاء بن ابی رباح“ لیا ہے۔اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔
لیکن ان کی یہ بات تسلیم کرنا بہت مشکل ہے،
ڈاکٹر ہاشم عبد یاسین المشہدانی اپنی کتاب ”سفيان الثوري وأثره في التفسير“ میں فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری کی مطبوعہ تفسیر میں ”عطاء بن ابی رباح“ سے ان کی اسانید کی تفصیل یہ ہے کہ بیس تفسیری روایات کو سات متصل اسانید سے انھوں نے ”عطاء بن ابی رباح“ سے روایت کی ہے۔ان میں سے گیارہ میں دونوں کے مابین ابن جریج کا واسطہ ہے،
اگر ”عطاء بن ابی رباح“ سفیان ثوری کے استاد ہوتے تو وہ یہ تمام روایتیں ان سے ڈائرکٹ روایت کرتے،
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہاں ”عطاء“ کون ہیں؟
قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں ”عطاء“ ”عطاء بن ابی مسلم الخراسانی“ ہیں۔
”عطاء بن ابی مسلم الخراسانی“ کے شاگردوں میں امام مزی نے سفیان ثوری اور ابن جریج دونوں کا تذکرہ کیا ہے۔اسی طرح ان کے مشایخ کی فہرست میں ابن عباس کا بھی نام ذکر کیا ہے،
حافظ ذہبی نے بھی عطاء الخراسانی کے شاگردوں میں سفیان ثوری کا تذکرہ کیا ہے،
لہذا ظاہر یہی ہے کہ مصنف عبد الرزاق کی زیر بحث روایت میں ”عطاء“ سے مراد ”عطاء بن ابی مسلم الخراسانی“ ہیں،
بعض حضرات یہ کہہ کر عطاء الخراسانی کی تعیین کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں کہ وہ ابن عباس سے تفسیری مرویات ہی روایت کرتے ہیں اور یہاں متن احکام سے تعلق رکھنے والا فتوی ہے کوئی تفسیری روایت نہیں۔لیکن ان کا یہ کہناصحیح نہیں،
یہاں پر عطاء الخراسانی نے ابن عباس سے احکام کی حدیثیں روایت کی ہیں،
لہذا اس وجہ سے عطاء الخراسانی کی تعیین کا انکار درست نہیں۔قرائن اس بات پر واضح دلالت کرتے ہیں کہ وہ ”عطاء الخراسانی“ ہی ہیں۔
اور یہ سند انقطاع کی بنا پرضعیف ہے۔عطاء الخراسانی نے بالاتفاق ابن عباس سے کچھ نہیں سنا ہے۔اسی لیے علما نے ابن عباس سے ان کی روایت کو مرسل کہا ہے۔(دیکھیں: جامع التحصیل للعلائی،
امام بیہقی ”ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس“ کے طریق سے ایک حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "عطاء هذا هو الخراساني،
(امام ابو داود اور دوسرے ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ عطاء الخراسانی نے ابن عباس کا نہ زمانہ پایا ہے اور نہ انھیں دیکھا ہے)
اس لیے اس روایت کو ”صحیح“ کہنا صحیح نہیں۔
کوئی یہاں ”عطاء“ کی تعیین میں دوسرے احتمالات بھی ذکر کر سکتا ہے،
ایک احتمال یہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ ”عطاء“ سے مراد ”عطاء بن السائب“ ہیں،
لیکن یہ احتمال اس لیے بعید ہے کیونکہ ابن عباس ”عطاء بن السائب“ کے استاد نہیں،
نیز ائمہ کرام نے ان کے مشایخ کی فہرست میں ابن عباس کا نام بھی ذکر نہیں کیا ہے۔مجھے ان کے مشایخ میں عبد اللہ بن ابی اوفی (متوفی 87 ہجری) اور انس بن مالک (متوفی 92 یا 93 ہجری) کے علاوہ کسی صحابی کا نام نہیں ملا،
(یہ ثابت نہیں کہ انھوں نے انس بن مالک سے سنا ہے،
لہذا ابن عباس جن کی وفات 68 ہجری میں ہوئی ہے ان سے ان کا روایت کرنا تقریبا ناممکن ہے۔اگر مان بھی لیا جائے کہ یہاں ”عطاء“ سے مراد ”عطاء بن السائب“ ہی ہے پھر بھی انقطاع کی وجہ سے یہ روایت ضعیف قرار پائے گی۔
ایک اور احتمال یہ پیش کیا جا سکتا ہےکہ یہاں ”عطاء“ سے مراد ”عطاء بن قرہ السلولی“ ہیں،
لیکن یہ احتمال اس لیے بعید تر ہے کیونکہ ابن جریج ان کے شاگرد نہیں،
اسے بھی قبول کرنے کی صورت میں انقطاع کی بنا پر یہ روایت ضعیف قرار پائے گی۔
ایک اور احتمال یہ پیش کیا جا سکتا ہےکہ یہاں ”عطاء“ سے مراد ”عطاء بن ابی مروان الاسلمی المدنی“ ہیں،
لیکن یہ احتمال اس لیے قابل التفات نہیں کیونکہ ابن جریج ان کے شاگرد نہیں،
اور ان کے والد کے صحابی ہونے کے بارے میں کلام ہے،
لہذا اگر اس احتمال کو قبول بھی کرلیا جائے پھر بھی انقطاع واضح ہے،
خلاصہ کلام یہ کہ بہر صورت یہ روایت ضعیف ہے،
●ثانیا: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت:
امام ابو عبید قاسم بن سلام نے اپنی کتاب ”الناسخ والمنسوخ“ میں ان کی حدیث روایت کی ہے،
أخبرنا علي قال: حدثنا أبو عبيد قال: حدثنا ابن أبي مريم عن أنس بن عياض عن جعفر بن محمد عن ابن لبيبة أو ابن أبي لبيبة عن عبد الله بن عمرو بن عثمان أن امرأة صامت حاملًا فاستعطشت في شهر رمضان،
اس کی سند ضعیف ہے۔
اس میں محمد بن عبد الرحمن ابن لبیبہ یا ابن ابی لبیبہ پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
● امام ابن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ليس حديثه بشيء" (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:7/319)
● علامہ عینی ان کے بارے میں ابن معین کا حکم نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "ضَعَّفَه ابنُ معين"۔(مغاني الأخيار في شرح أسامي رجال معاني الآثار:3/547)
علامہ عینی کی اس تصریح سے ابن معین کے قول کا صحیح مفہوم سمجھا جا سکتا ہے۔
● یعقوب بن سفیان الفسوی نے اپنی کتاب ”المعرفہ والتاریخ“ میں ایک باب قائم کیا ہے: «باب من يُرغب عن الرواية عنهم»یعنی ”ایسے روات جن سے روایت کرنے سے اعراض کیا جائے گا“۔اور ان میں ابن ابی لبیبہ کا بھی ذکر کیا ہے۔(المعرفہ والتاریخ،
● امام دارقطنی نے انھیں اپنی کتاب «الضعفاء والمتروكون» (3/ 129, رقم الترجمة: 454) میں ذکر کیا ہے۔
● امام ابن شاہین اپنی کتاب «تاريخ أسماء الضعفاء والكذابين» (ص 169) میں ان کے متعلق فرماتے ہیں: ”لا شیء“۔
● علامہ ابن الجوزی نے انھیں اپنی کتاب «الضعفاء والمتروكون» (3/76) میں ذکر کیا ہے۔
یعنی ان کے ضعیف ہونے پر شبہ اتفاق ہے،
اس سند کے ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں ایک دوسری علت ہے،
امام ابو عبید قاسم بن سلام نے ”الناسخ والمنسوخ“ میں اس لفظ کو روایت کرنے کے فورا بعد اسی اثر کی ایک دوسری سند سے اس لفظ کا معارضہ پیش کیا ہے جس میں ”صحت وتندرستی کے بعد روزہ قضا کرنے“ کا لفظ موجود ہی نہیں ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:
أخبرنا علي قال: حدثنا أبو عبيد،
اس روایت کو بغور دیکھیں۔
پہلی روایت میں ابن ابی لبیبہ سے روایت کرنے والے جعفر بن محمد تھے جو کہ صدوق راوی ہیں۔اور اس روایت میں ابن ابی لبیبہ سے روایت کرنے والے یا تو عبید اللہ بن عمر العمری ہیں،
اس لفظ کے ذکر نہ کرنے میں ان کی متابعت محمد بن عجلان نے بھی کی ہے۔امام عبد الرزاق نے اپنے ”مصنف“ (حدیث نمبر7558) میں معمر اور ابن عیینہ کے واسطے سے ان سے یہ روایت کی ہے۔البتہ ابن عجلان نے اسے عنعنہ سے روایت کی ہے،
اگر ابن عجلان کی روایت نظر انداز بھی کر دی جائے پھر بھی جعفر بن محمد عبید اللہ بن عمر العمری یا نافع کی طرح بلند پائے کے راوی نہیں ہیں۔لہذا اصلا ابن ابی لبیبہ سے قضا کا لفظ ثابت ہی نہیں ہے۔اوپر سے وہ خود شبہ متفق علیہ ضعیف راوی ہیں۔لہذا اس روایت کو قابل قبول ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں نکلتی،
شاید اسی وجہ سے امام احمد رحمہ اللہ نے صیغہ تمریض کے ساتھ لفظ ”رُوِيَ“ سے اسے بیان کرکے اس کے ضُعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔(دیکھیں: الخلافيات بين الإمامين الشافعي وأبي حنيفة وأصحابه للبيهقي:5/56)
اسی طرح امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی لفظ ”رُوِيَ“ سے اس کے ضُعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔(السنن الصغير للبيهقي:2/103 حدیث نمبر:1356)
اس لیے ”السنن الکبری“ میں ان کی تبویب کا اس روایت کے صرف موافق ہونے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انھوں نے اس روایت پر اعتماد کیا ہے۔وہاں اس تبویب کے موافق ابن عمر کے اثر کے علاوہ امام مالک،
خلاصہ کلام یہ کہ ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ اور مرضعہ کے متعلق روزہ نہ رکھ پانے کی صورت میں صرف فدیہ کا فتوی ثابت ہے،
وصلی اللہ علی نبینا محمد





